بدھ , 12 اگست 2020

طیب اردگان شام میں مداخلت سے باز نہیں آیا،مزید 268 فوجی شام بھیج دیئے

ترکی نے شام کے علاقے راس العین کے لئے اپنے مزید 268 فوجی روانہ کئے۔ابلاغ نیوز نےترکی کی ٹی آر ٹی انٹرنیٹ کی رپورٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کل ترکی کی فوج کے 268 کمانڈوز شام کے صوبے الحسکہ کے علاقے راس العین میں تعینات ہونے کے لئے کل ترکی کے شہر سیلوان سے روانہ ہوئے۔

واضح رہے کہ ترکی تین برسوں سے شامی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ملک میں موجود ہے اور دہشت گردوں سے مقابلے کے بہانے ترکی کی فوج نے شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جہاں پر یہ فوجی اب بھی موجود ہیں جس پر اسے عالمی سطح پرتنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ترکی، شام میں سرگرم کئی دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔شام کا بحران دوہزار گیارہ میں اُس وقت شروع ہوا جب ترکی، سعودی عرب، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگردوں نے خطے کے موجودہ حالات کا رخ صیہونی ٹولے کے حق میں موڑنے کے لئے شام پر چڑھائی کی۔اس وقت شام، ایران اور روس کی مدد سے مغربی اور عرب ممالک کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف بر سر پیکار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …