اتوار , 9 اگست 2020

من کے خلاف جاری سعودی جارحیت میں برطانیہ کا کردار

تحریر: علی احمدی

لبنان کے اخبار "الاخبار” نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یمن کے خلاف سعودی عرب کی فوجی جارحیت میں برطانیہ کے اہم اور بنیادی کردار سے متعلق بعض حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پر انجام پانے والے ہوائی حملے مکمل طور پر برطانیہ کی حمایت اور مدد سے انجام پا رہے ہیں۔ برطانوی ذرائع ابلاغ ایک طرف کرونا وائرس کے باعث کووڈ 19 وبا کے پھیلاو میں برطانیہ کی حسن کارکردگی کا پرچار کرنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف یمن میں عام شہریوں کے قتل عام میں برطانیہ کے مجرمانہ کردار کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یمن میں عام شہریوں کا قتل عام برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کو فراہم کئے گئے ہتھیاروں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت میں برطانیہ نے اپنے کردار میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے 450 فوجی یمن کے جنوبی شہر عدن بھیجے ہیں جو برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ فوجی کاروائی کا ہراول دستہ تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری اسٹریٹجک اہمیت کے حامل یمنی صوبے پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے۔

یمن کی سرحد کے قریب سعودی عرب کے فوجی اڈوں میں بڑی تعداد میں برطانوی فوجی موجود ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 6300 کے قریب ہے۔ یہ برطانوی فوجی بی اے ای سسٹمز (BAE systems) نامی کمپنی کیلئے کام کرتے ہیں جس نے سعودی فوج کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے انجام دے رکھے ہیں۔ انہی برطانوی فوجیوں میں سے ایک ریٹائرڈ فوجی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا: "اگر ہم یہاں موجود نہ ہوتے تو سعودی جنگی طیارے ایک ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کے اندر اندر یمن کی ہوائی حدود میں داخل ہونے کی جرات بھی نہ کرتے۔” موصولہ رپورٹس کے مطابق یمن کی سرحد کے قریب سعودی فوجی اڈوں میں موجود یہ برطانوی فوجی سعودی پائلٹس کی تربیت، یمن میں ہوائی حملے انجام دینے کیلئے سعودی جنگی طیاروں کی پرواز کی مدیریت کرنے، سعودی جنگی طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کرنے، سعودی جنگی طیاروں کو مسلح کرنے اور تکنیکی امداد فراہم کرنے، بموں کا ذخیرہ کنٹرول کرنے اور دیگر مشابہہ ذمہ داریاں انجام دینے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ بی اے ای کمپنی نے اعلانیہ طور پر یمن میں جاری ہوائی حملوں میں برطانوی پائلٹس کی شرکت کا اعتراف نہیں کیا لیکن اس کے ریٹائر ہونے والے افراد کی اکثریت برطانوی ایئرفورس کے سابق ملازمین پر مشتمل ہے۔

مزید برآں، برطانوی ایئرفورس کے اہلکار یمن کی سرحد پر واقع ان سعودی فوجی اڈوں سے ڈرون طیاروں کے ذریعے اس ملک کی جاسوسی میں بھی مصروف ہیں۔ برطانوی اہلکار ڈرون طیاروں کے ذریعے ہوائی حملوں کے اہداف مشخص کرتے ہیں اور ان ہوائی حملوں کی مکمل منصوبہ بندی انہی افراد کے ہاتھ میں ہے۔ کس قسم کے بم استعمال ہونے چاہئیں، ان بموں کی تیاری اور انہیں سعودی جنگی طیاروں پر نصب کرنا، جنگی طیاروں کی پرواز کا وقت اور روٹ معین کرنا، مختصر یہ کہ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر فضائی بمباری مکمل طور پر برطانوی ائیرفورس کے اہلکاروں کی زیر نگرانی اور ان کے ہاتھوں انجام پا رہی ہے۔ دوسری طرف برطانوی ذرائع ابلاغ نے ان حقائق پر عامدانہ اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نہ صرف یمن میں عام شہریوں کے قتل عام میں برطانیہ کے اس کردار کی پردہ پوشی کر رہے ہیں بلکہ برعکس یمنی عوام کیلئے برطانیہ کو ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ برطانوی ذرائع ابلاغ پر مسلسل اس بات کی تشہیر کی جا رہی ہے کہ برطانوی حکومت نے یمنی شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے 37 ملین پاونڈ کی خطیر رقم مختص کر رکھی ہے۔

برطانیہ 1920ء سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ اگرچہ 1950ء سے امریکہ نے سعودی عرب کی سرپرستی اپنے ہاتھ میں لے لی لیکن امریکی حکمرانوں نے برطانیہ کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ بدستور سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرتا رہے۔ برطانیہ نے 1960ء کے عشرے سے سعودی عرب کی فضائیہ کی تمام ضروریات پوری کرنے کا کام بھی اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس دوران برطانیہ سعودی عرب کو ٹارنیڈو اور ٹائی فون جنگی طیارے فروخت کر چکا ہے۔ یہی جنگی طیارے ہر روز یمن کے عام بیگناہ شہریوں پر بم برسانے میں مصروف ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ اس وقت یمن کی جنگ میں براہ راست ملوث ہو چکا ہے کیونکہ گذشتہ برس مارچ کے مہینے میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے اسپشل فورسز جنوبی یمن کے صوبے عدن بھیجے جانے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔ یہ اس فورس کا ہراول دستہ تصور کیا جاتا ہے جس کی تعداد 3 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے۔ اس فورس کی بنیادی ذمہ داری صوبہ عدن جیسے اسٹریٹجک علاقے میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنا ہے۔ یمن کا صوبہ عدن آبنائے باب المندب اور بحر العرب جیسے اہم علاقوں کے ساتھ واقع ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …