اتوار , 9 اگست 2020

کیا پاراچنار میں داعش کے آنے کا انتظار ہو رہا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

کرم ایجنسی کافی عرصے سے خبروں میں ہے، یہاں کی باہمت اقوام طالبان دور حکومت سے افغانستان کی طرف سے آنے والے لشکروں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی، اس میں بھی یہاں کے مقامی قبائل کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ افغان طالبان، حقانی گروپ، تحریک طالبان پاکستان نے دیگر وجوہات کے علاوہ مخالف مسلک ہونے کی وجہ سے   بھی یہاں کے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھا۔ حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ  پارا چنار سے لوگ کابل جاتے تھے اور وہاں سے پشاور آتے تھے اور یہ سلسلہ چار سال تک جاری رہا۔ اس دوران طالب علموں اور مریضوں کا بے تحاشہ نقصان ہوا، کاروبار تباہ ہوگئے، وہ لوگ جو بیرون ملک ملازمت کرتے تھے، ان کے لیے بروقت ملازمتوں پر پہنچنا ممکن نہ رہا۔ انتہاء پسند گروہوں نے انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بیرون حملہ آوروں سے مزاحمت کی اس جنگ کو فرقہ واریت میں تبدیل کیا۔

فرقہ واریت میں اس لیے تبدیل کیا گیا کہ مقامی قبائل میں موجود فرقہ پرست عناصر کی حمایت حاصل کی جا سکے اور یہی ہوا، کرم پر حملہ کرنے کے لیے باقاعدہ لشکرکشی کی جاتی تھی اور بڑے فخر سے حملہ آور ہوتے تھے۔ اہل پارا چنار نے بڑی جوانمردی سے اس ناکہ بندی اور اس فرقہ واریت کا مقابلہ کیا اور بڑی قربانیوں کے بعد اس میں کامیاب ہوئے۔ پارا چنار میں امن قائم ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ اب پھر سے یہاں آگ و بارود کی تجارت کو عام کرنے کا ماحول فراہم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ موجودہ تنازعہ کیا ہے؟ کیا اس کی وجہ فرقہ وارانہ ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ کرم ایجنسی کے علاقے بالیش خیل میں شیعہ اور سنی قبائل بستے ہیں، یہاں کی زیادہ تر زمینیں شیعہ مسلک کے طوری و بنگش قبائل کی ملکیت ہیں۔ انگریز دور سے اب تک کا ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ یہ علاقہ سنی بنگش اور شیعہ قبائل کا علاقہ ہے، اس لیے ان دونوں کے درمیان یہ جھگڑا نہیں۔

اس کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اس شہر آفاق کتاب The Real Pashtun Question کی مصنفہ تاج صاحبہ کی تحقیق سے مدد لیتے ہیں، وہ لکھتی ہیں: "انتہائی آسان الفاظ میں، مسئلہ یہ ہے کہ انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں کرم میں شیعہ علاقوں میں زمین کی پیمائش کی اور محصولات کے ریکارڈ تیار کیے۔ اس ریکارڈ کے مطابق یہ زمین شیعوں کی ہے اور اس کا ایک حصہ سنی بنگش کا ہے۔ شیعہ اور سنی بنگش دونوں کا اس کے بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ یہ وسطی کرم (پاڑا چمکنی اور مسوزئی) کے سنی ہیں، جو انگریز حکومت کجانب سے کی ہوئی زمین کی پیمائش اور محصولات کے ریکارڈ کو نہیں مانتے، یہی زمین کی پیمائش اور محصولات کا ریکارڈ ریاست پاکستان کو وراثت میں ملا ہے اور ریاست پاکستان پابند ہے کہ اسی کے مطابق اس زمین کے تنازعے کو حل کرے۔”

اب یہ بات تو طے ہوگئی کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر زمین کا ہے اور پاکستان کے قوانین کے مطابق یہ زمین شیعہ قبائل کی ملکیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی طور پر  پاڑا چمکنی اور مسوزئی قبائل مقامی عدالت سے لے کر پشاور ہائیکوٹ تک کیس ہار چکے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی ریکارڈ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ افغان جنگ کے دوران حاصل ہونے والے اسلحہ، بارود اور طالبان و دیگر گروہوں کی سپورٹ سے انہوں نے ان سونا اگلتی زمینوں سے ان کے مالکوں کو بے دخل کرنا چاہا، جس کے نتیجے میں اس تنازعہ نے جنم لیا۔ یہ تنازع بنیادی طور پر بہت ہی واضح ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے، جب انگریز دور سے لے کر آج تک کے تمام کاغذات مقامی طوری قبائل کے پاس موجود ہیں تو دیگر قبائل کا معاملہ ایک قبضے کا معاملہ ہے، جسے ریاستی طاقت کے ذریعے واپس کیا جانا چاہیئے، تاکہ کسی قسم کی خونریزی نہ ہو۔

مقامی طوری قبائل جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے ہر قانونی طریقہ اختیار کیا، جس کے ذریعے انہیں تھوڑی سی بھی امید تھی کہ یہ زمینیں ہمیں واپس مل جائیں گی۔ وہ قانونی طور پر پشاور ہائیکورٹ تک گئے، وہاں سے کیس جیت کر خود قبضہ لینے کی بجائے انہوں نے مقامی انتظامیہ کو درخواستیں دیں کہ ہمیں ہماری اراضی کا قبضہ واپس دلایا جائے۔ مقامی انتظامیہ میں شنوائی نہ ہوئی تو وہ گورنر سے ملے اور ان سے درخواست کی کہ ہمارے مسئلے کو حل کریں، وہاں سے کوئی حل نہ ملا تو وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور انہیں درخواست کی کہ ان کی مدد کی جائے۔ جب ادھر سے بھی مایوسی ملی تو کور کمانڈر صاحب کے پاس پیش ہوئے اور سارا واقعہ بتا کر مدد کی اپیل کی، مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب ان کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ وہ کیا کریں؟ چند دن پہلے وہ اپنی زمینوں پر گئے تو انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور تین جوان موقع پر شہید کر دیئے گئے۔ ان کی آبادیوں پر مسلسل گولہ باری کی جارہی ہے، انتظامیہ اور ریاستی فورسز وہاں موجود ہونے کے باجود مورچہ بند لڑائی کا ہونا ایک المیہ ہے۔

پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ قبائلی علاقہ ہے، یہاں بہت مسائل ہیں، مگر اب تو یہ صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اور پاکستان کا مکمل آئین یہاں لاگو ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ان کی جائیدادیں واگزار کرا کر دی جائیں اور جن لوگوں نے ان جوانوں کو شہید کیا ہے، ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مقامی انتظامیہ اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے اس مسئلے کو جان بوجھ کر طول دے رہی۔ ڈوگر علاقے سے لشکر علاقے میں آنے کی اطلاعات ہیں، اسی طرح بعض ویڈیوز میں طالبان کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہ علاقہ بہت ہی حساس ہے، یہاں کے لوگ دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت بہت زیادہ پڑھے لکھے ہیں، وہ امن سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، انہیں ان کا حق دیا جائے، پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کو نافذ  کیا جائے۔ جس علاقے میں لڑائی جاری ہے، تورا بورا کے پہاڑ یہاں سے بالکل نزدیک ہیں، یہاں داعش قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے، ایسے میں خطہ کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی داعش کو دعوت دینے کے مترادف ہوگی، جو مقامی لوگوں کی مدد کی آڑ میں انسانیت دشمن کارروائیاں کرکے وطن عزیز کا امن تباہ کرے گی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …