اتوار , 9 اگست 2020

زائرین مینجمنٹ پالیسی کا مجوزہ ڈرافٹ اور تحفظات

رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ ایران، عراق اور شام میں مقدس مقامات کی زیارت کیلئے ملکی تاریخ کی پہلی زائرین مینجمنٹ پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔ حکومتی دعویٰ کے مطابق علمائے کرام، قافلہ سالاروں اور اہم شخصیات کیساتھ مشاورت کے بعد بنائی گئی نئی پالیسی کے تحت مفت زیارت کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔ نئی پالیسی کے مطابق وزارت مذہبی امور سے سکیورٹی کلیئرنس کے بعد لائسنس حاصل کرنے والے زائرین گروپ آرگنائزر اور ٹور آپریٹر ہی زائرین کو ایران، عراق اور شام لے جاسکیں گے، زائرین انفرادی طور پر سفارتخانے سے براہ راست ویزہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح تفتان، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں سعودی عرب طرز پر پاکستان ہاؤس قائم کئے جائیں گے۔ کربلائے معلیٰ میں ڈائریکٹوریٹ جنرل، جبکہ مشہد مقدس اور کوئٹہ میں ڈائریکٹوریٹس قائم کئے جائینگے۔ سندھ کے زائرین مند ریڈنگ اور گبد کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے ایران داخل ہوسکیں گے۔

وزارت مذہبی امور زائرین محافظ فنڈ بھی قائم کرے گی۔ زیارات کے دوران وفات کی صورت میں لواحقین کو 5 لاکھ روپے، حادثے کے دوران جزوی معذوری پر ڈیڑھ لاکھ روپے، مکمل معذوری پر اڑھائی لاکھ روپے، جبکہ ایمرجنسی اور بیماری کی صورت میں 3 لاکھ روپے ادا کئے جائینگے۔ زائرین کیلئے فیری سروس اور گوادر میں امیگریشن پوائنٹس کھولے جائیں گے۔ وفاقی کابینہ پالیسی کی آئندہ اجلاس میں منظوری دے گی۔ پالیسی کے مطابق ایران، شام اور عراق جانے والے زائرین کو حج کی طرز پر پالیسی کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رولز آف بزنس 1973ء کے تحت وزارت مذہبی امور کو زیارت کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت پاکستان کیلئے زیارت کا کوٹہ ختم کر دیا جائے گا۔

فائنل پالیسی سے دوبارہ زیارت کیلئے جانے والے زائرین سے 10ہزار روپے اضافی فیس وصولی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ بلوچستان کیلئے زائرین مینجمنٹ کمیٹی میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے ارکان سینٹ، قومی اسمبلی اور اہل تشیع کے نمائندے شامل ہوں گے۔ زائرین کے ویزہ کے ضابطہ کار طے کرنے کیلئے ایران اور عراق کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے جائیں گے۔ رجسٹرڈ زائرین گروپ آرگنائزر سے 5 فیصد پرفارمنس گارنٹی وصول کی جائے گی۔ کوئٹہ تفتان کے راستے پر پدک اور نوکنڈی میں سروس ایریا قائم کرنے کیلئے این ایچ اے اور این ایل سی سے رابطہ کیا جائے گا۔ نجی خیراتی اداروں کو پاکستان ہاؤس تفتان کی صلاحیت بڑھانے کیلئے حکومت بلوچستان کی مدد کی اجازت دی جائے گی۔

عاشورہ اور اربعین کیلئے سالار رجسٹرڈ کیے جائیں گے۔ دوسرے ممالک میں زائرین کی سرگرمیوں کو حکومت پاکستان اور میزبان ملک کی پالیسی ہدایات کے مطابق کنٹرول کیا جائے گا۔ زیارات کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے زائرین کو کھانے پینے، صحت، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وفاقی حکومت کیمپ آفس اور رہائشی بلاکس کی تعمیر کیلئے بلوچستان حکومت کی مدد کریگی۔ زائرین کی سکیورٹی انتظامات کی ذمہ داری حکومت بلوچستان کی ہوگی۔ وزارت خزانہ سکیورٹی اور دوسرے انتظامات کیلئے صرف ایک بار حکومت بلوچستان کو گرانٹ دے گی۔ پالیسی کے تحت مفت زیارت نہیں ہوگی۔ زائرین کیلئے ایران اور عراق میں بینکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کی جانب سے زائرین سے کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کا شورٹی بانڈ حاصل کیا جائے گا۔

ہر زائر کو ایران، عراق اور شام کے سفر کے دوران اخراجات کیلئے کم سے کم 500 ڈالر رکھنا ضروری ہوگا۔ ہر زائرین گروپ آرگنائزر کو بینک یا کیشن گارنٹی کے ذریعے پیکج کا 5 فیصد پرفارمنس گارنٹی جمع کرانا لازمی ہوگا۔ جس کی معیاد ایک سال ہوگی۔ زائرین گروپ آرگنائزر ہر زائر کے ساتھ الگ معاہدہ کرے گا۔ زائرین اور زائرین گروپ آرگنائزر کے درمیان تنازعہ کی صورت میں وزارت مذہبی امور ثالث کا کردار ادا کرے گی۔ زائرین کے مسائل کے حل کیلئے زائرین ہیلپ لائن تشکیل دی جائے گی۔ پاک زائرین معاون کے نام سے اینڈ رائڈ ایپ اور پاک زائرین گائیڈ کے نام سے ایس ایم ایس سروس شروع کی جائے گی۔

وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے پیش کی گئی مذکورہ پالیسی کے حوالے سے اہل تشیع رہنماؤں نے مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل نے زائرین پالیسی مسترد کرتے ہوئے، اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے زائرین کے لیے بنائی گئی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کربلا، نجف اشرف اور مشہد مقدس کی زیارت کے لئے سہولیات کا مطالبہ کیا تھا، نہ کہ پابندیوں کا، اس بیہودہ پالیسی کے حوالے سے جلد لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور اگر یہ پالیسی واپس نہ لی گئی تو احتجاج بھی کریں گے، تشکیل کردہ زائرین پالیسی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا ہے کہ شیعہ علماء کونسل کا مطالبہ تھا کہ زائرین کو ایک ماہ میں صرف دو بار بارڈر کراس کرانے کے بجائے، آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ کی جائے اور سکیورٹی فراہم کی جائے۔

انکا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ پاکستان ہاوس کے نام پر تفتان بارڈر پر قائم بلڈنگ کو قید خانہ بنانے کی بجائے اسے اچھی رہائش گاہ بنایا جائے، زیارت پر ہر قسم کی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ حکومت زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی بنائے، پابندی کی پالیسی قبول نہیں ہے۔ اسی طرح مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ زیارت پالیسی کی قابل اعتراض شقوں اور زائرین کی مشکلات میں اضافے پر مبنی شرائط کے اخراج کیلئے متعلقہ حکام سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم پولیٹیکل سیل کے مطابق وزارت مذہبی امور نے زیارات پالیسی کے حوالے سے صرف ایک مجوزہ مسودہ تشکیل دیا ہے، اب تک کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، قافلہ سالاروں کی نمائندہ تنظیموں کے وفد سے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی کی ملاقات ہوئی ہے اور اس میں منتشر کی گئی پالیسی پر اعتراضات اور ان کے حل کے حوالے سے ایک دستاویز کی تیاری شروع ہوچکی ہے، جو کہ وزارت مذہبی امور کو بھیجا جائے گا۔

اسی طرح شیعہ تنظیموں اور زائرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سعودی نواز حکومت نے آل سعود کی ایماء پر زیارات کو محدود کرنے کیلیے زائرین دشمن پالیسی تیار کی ہے، کیونکہ ایران، عراق اور شام کے مقدس مقامات پر زائرین کے ہجوم اور تشیع کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان امریکہ، اسرائیل اور آل سعود نے دنیا بھر سے زائرین کو مقدس مقامات تک پہنچنے سے روکنے کیلیے نئے حربے اپنانا شروع کر دیئے ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت آل سعود کی ایماء پر عمران خان کی سعودی نواز حکومت نے زائرین کی مقدس مقامات تک آمد و رفت محدود کرنے کیلیے زائرین پالیسی کے نام پر زائرین دشمن پالیسی بنا ڈالی ہے۔ اس زائرین پالیسی میں زائرین کو مقامات مقدسہ تک پہنچنے سے روکنے اور زیارات کو محدود کرنے کیلیے انوکھے اور سخت قوانین بنانے کی تیاری جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق شیعہ تنظیموں، اداروں، علماء، ذاکرین، ماتمی انجمنوں اور کاروان سالاروں نے حکومت پاکستان کی جانب سے زائرین پالیسی کے موجودہ ڈرافٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زائرین پالیسی نہیں بلکہ زائرین دشمن پالیسی ہے۔

سرکاری طور پر پیش کی گئی پالیسی کی شقوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب عمرہ زیارت کے لئے کوئی پالیسی اور ٹیکس نہیں تو ایران، عراق اور شام کی زیارات کیلیے پالیسی اور ٹیکس کیوں؟، پوری دنیا میں پاکستانی شہری جہاں جیسے جانا چاہے جاسکتا ہے، صرف ایران، عراق اور شام کے زیارتی مقامات پر پاکستان کا اپنے شہریوں کے لئے گروپ کی صورت میں جانے کا قانون کیوں؟، پاکستانی شہری دنیا کے 149 ممالک میں جہاں جانا چاہے، اس کے لئے ائیرپورٹ پہ شو آف منی کا قانون نہیں، شو آف منی کا قانون صرف ایران، عراق اور شام کی زیارات پر جانے والے زائرین کے لئے ہی کیوں؟، پاکستانی شہری جب کسی اور ملک جاتا ہے تو اس ملک کے قانون کے حساب سے ویزا حاصل کرتا ہے، لیکن ایران، عراق اور شام کی زیارات کے لئے گورنمنٹ کی اپنے شہریوں کے لئے انفرادی ویزا کی سہولت ختم کیوں۔؟

اسی طرح ایران، عراق اور شام کی زیارات کے لیے جانے والے عاشقان اہلبیتؑ میں سے ایک بڑی تعداد غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے، جو پورا سال پیسے جمع کرکے بائے روڈ زیارت پر جاتی ہے، ایسے میں زیارت پر جانے کیلیے 500 ڈالر لازمی ساتھ رکھنے کی شرط غریب زائرین کا راستہ روکنا ہے۔ بیمار اور ذہنی مریضوں کو زیارات پر جانے کی اجازت نہ دینا ناانصافی ہے، کیونکہ اہلبیت اطہار ؑ کے روضے شفاء کے مراکز ہیں اور ان مزارات مقدسہ پر لاعلاج مریضوں کو شفا ملنے کے معجزے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ شیعہ تنظیموں اور اداروں کی جانب سے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ڈرافٹ کو معطل کرے اور زائرین پالیسی کی تشکیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، وگرنہ اس زائرین دشمن پالیسی کے خلاف ملک بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ عمران خان حکومت شاید بھول گئی ہے کہ جب بنو عباس اور صدام جیسے ظالم اور جابر ڈکٹیٹر کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باوجود زائرین نے مقدس مقامات کا رخ کرنا نہ چھوڑا تو آج یہ پالیسیاں بھی زائرین امام حسینؑ کا کسی صورت راستہ نہیں روک سکتیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …