اتوار , 9 اگست 2020

سعودی میڈیا کی ہرزہ سرائی

اداراتی نوٹ
سعودی اخبار الشرق الاوسط نے جمعہ کی اشاعت میں مرجع عالی قدر آیت اللہ سید علی سیستانی کا توہین آمیز کارٹون شائع کرکے عراق کے بارے میں اپنے مذموم اہداف و مقاصد کا اعلان کیا ہے۔ ایک عالم دین، وہ بھی مرجع تشیع کے خلاف اس طرح کی ناپاک حرکت کس قدر مذموم ہے، اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ آیت اللہ سیستانی سے سعودی حکام کی نفرت قابل فہم ہے، کیونکہ آپ کے ایک فتوٰی سے آلِ سعود، اس کے حواریوں اور امریکہ کے کئی منصوبے ناکام ہوگئے۔ داعش کو عراق و شام میں لانچ کرنے کا ہدف پورے مشرق وسطیٰ کو امریکی منشاء کے مطابق کئی نئی ریاستوں میں تبدیل کرنا تھا، تاکہ عراق کم سے کم تین حصوں میں تقسیم ہو۔

اسی طرح شام میں شیعہ، سنی، علوی تقسیم کو ممکن بنایا جائے، لبنان میں مقاومت کے مرکز کو کمزور کرنے کے لیے فرقہ واریت کو ہوا دی جائے، ایران کا محاصرہ کرکے اسلامی مزاحمت و استقامت کے بلاک کو کمزور کرکے اسرائیل کے مکمل تحفظ کو ممکن بنانا تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ان تمام سازشوں کو آیت اللہ سیستانی کے ایک فتویٰ نے ملیا میٹ کر دیا، لہٰذا وہ اس شخصیت کی گھٹیا توہین پر اتر آئے ہیں۔ حشد الشعبی کی تشکیل اور عراق میں سلامتی کی واپسی اس فتوٰی کا ایک نتیجہ ہے۔ آل سعود اور اس کے علاقائی اتحادی آیت اللہ سید علی سیستانی کو متنازعہ بنا کر اپنا انتقام لینا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی آل سعود عراق کے اندر پوری عراقی قوم کو دو دھڑوں میں تقسیم کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ اپنے اقدامات اور بالخصوص حالیہ کارٹون سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آیت اللہ سیستانی اور حکومت عراق ایک صفحے پر نہیں ہیں اور وہ نئی تشکیل پانے والی حکومت کے مخالف ہیں۔ عالم تشیع و تسنن کے ساتھ ساتھ عراق میں مختلف سیاسی دھڑوں اور شخصیات نے آیت اللہ سیستانی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور آلِ سعود کی اس مذموم حرکت سے اظہار بیزاری کرکے یہ اعلان کر دیا ہے کہ آیت اللہ سید علی سیستانی عراقی قوم و ملت کے لیے ایک پناہ اور مرکز وحدت ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …