اتوار , 9 اگست 2020

فتنوں کے دور میں امام رضا علیہ السلام کا منہج

تحریر: مختار حسین توسلی

مرکزی خیال:
ہمارا عقیدہ ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت و کردار اور طرز عمل میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ان کا مقصد زندگانی دین اسلام کے تحفظ اور اس کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے علاوہ کچھ نہیں تھا، ان کی جملہ حرکات و سکنات کا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے اسلام کا تحفظ کریں، اس کی تعلیمات کو دنیا والوں تک پہنچائیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے زمانے کے حالات کے اعتبار سے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ پس اگر ہمیں کہیں آئمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت و کردار اور طرز عمل میں اختلاف اور تفاوت نظر آتا ہے تو وہ اسی مقصد کے حصول کے دوران پیش آنے والے حالات کا نتیجہ ہے، لہذا اسے کسی بھی طور اختلاف کردار سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کی مثالیں سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی نظر آتی ہیں، چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں کبھی مشرکین اور کفار کے ساتھ مختلف محاذ پر جہاد کیا اور کبھی ان کے ساتھ صلح کا راستہ اپنایا، نیز امیرالمومنین علیہ السلام نے بھی کبھی کفار، مشرکین اور منافقین کے ساتھ جنگ کی اور کبھی خانہ نشینی اختیار کرلی۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کر لی، امام حسین علیہ السلام نے اس کے بیٹے یزید کے ساتھ جنگ کا راستہ اپنایا، امام سجاد علیہ السلام نے دعاوں کا راستہ اختیار کیا، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام نے تعلیم و تربیت کے میدان میں قدم رکھا اور امام علی رضا علیہ السلام نے ولی عہدی کے ذریعے اپنے فریضے کو انجام دیا۔ ان سب کا مقصد صرف دین کا تحفظ تھا اور یہ بات واضح ہے کہ دین کی حفاظت اور اس کی تعلیمات کی نشر و اشاعت زمانے کے حالات کے اور تقاضوں کے اعتبار سے کی جاتی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ہر معصوم امام کا زمانہ دوسرے معصومین علیہم السلام سے مختلف تھا، اس لیے دین کی حفاظت اور نشر و اشاعت کے لیے ہر معصوم نے جو موقف اختیار کیا اور جس لائحہ عمل کو اپنایا، وہ بھی دوسرے معصومین علیہم السلام سے مختلف تھا، چنانچہ امام رضا علیہ السلام نے اپنے زمانے کے حالات اور تقاضوں کے مطابق دین مبین اسلام کی حفاظت اور نشر و اشاعت کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے، ان میں سب سے نمایاں طریقہ ولی عہدی کے ذریعے اپنے فریضے کو انجام دینا ہے۔

مقدمہ:
مکتب تشیع کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ امامت و خلافت بھی نبوت و رسالت کی طرح الہیٰ منصب ہے، چنانچہ امام و خلیفہ بھی نبی و رسول کی طرح الہیٰ نمائندہ ہوتا ہے، لہذا اس کے تقرر کا اختیار خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، بندوں کے ہاتھ میں نہیں دیا، کیونکہ بندے جب کسی کو اپنا حاکم منتخب کریں گے تو اپنے جیسے کسی کو زمام حکومت تھما دیں گے۔ پس الہیٰ اصول کے مطابق اسلامی معاشرے کا حاکم بندوں کے ذریعے منتخب نہیں ہوتا بلکہ اس کا انتخاب اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول کے ذریعے عمل میں آتا ہے، اسی طرح الہیٰ اصول کے تحت منتخب شدہ امام اور خلیفہ کسی دنیوی حاکم کا ولی عہد بھی نہیں بن سکتا، مگر اُس کو کسی ظالم و جابر حکمران کی طرف سے اس منصب کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے تو یہ الگ بات ہے، اسی نکتے کی جانب امام رضا علیہ السلام نے اشارہ فرمایا تھا، جب آپ کو مامون عباسی نے خلافت قبول کرنے کی پیشکش کی تو آپ نے فرمایا تھا: "اگر یہ منصب تمہیں خدا نے عطا کیا ہے تو تم مجھے نہیں دے سکتے، لیکن اگر تمہیں بندوں سے ملا ہے تو میرے لئے سزاوار نہیں ہے کہ میں اسے قبول کروں۔”

امام عالی مقام نے اپنے اس کلام کے ذریعے مامون کو سمجانا چاہا کہ خلیفہ منتخب کرنا خدا کا کام ہے اور اس کے منتخب کردہ حاکم کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی طرف سے کسی دوسرے کو یہ منصب تفویض کر دے، اسی طرح کسی الہیٰ نمائندے کے لئے یہ سزاوار نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ظالم و جابر حکمران کا ولی عہد بن جائے، چنانچہ اس کے بعد جب تک ماموں نے آپ کو مجبور نہیں کیا اور قتل کی دھمکی نہیں دی، تب تک آپ نے ولی عہدی کو قبول نہیں کیا۔ واضح رہے کہ مامون نے آپ کو پہلے خلیفہ بننے کی پیشکش کی تھی، جسے آپ نے سختی سے رد کر دیا، اس کے بعد اس نے ولی عہدی قبول کرنے کی پیشکش کی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی بھی دی، چنانچہ آپ نے بامر مجبوری ولی عہد بننے کو قبول کیا۔ یہاں پر کوئی سوال کرسکتا ہے کہ امام عالی مقام نے مامون الرشید کی دھمکی کے بعد ولی عہدی کو کیوں قبول کر لیا، آپ نے اپنی جان کی قربانی کیوں نہیں دی۔؟

اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جان کا نذرانہ وہاں پیش کیا جاتا ہے، جہاں اس سے دین کو فائدہ پہنچے، لیکن اگر اس سے دین کو فائدہ نہ پہنچے بلکہ الٹا نقصان پہنچے اور اس کے علاوہ دین کے حقیقی پیروکاروں کی بھی عزت و آبرو اور جان و مال خطرے میں پڑ جائے تو وہاں پر مصلحت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں کچھ حد تک ظالم و جابر حکمرانوں کے ساتھ تعاون کیا جائے اور یہ کوئی عیب و نقص کی بات نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام و مرسلین علیہ السلام کے طرز عمل کے عین مطابق ہے، تاریخ انبیاء و مرسلین علیہم السلام میں اس کی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں سب سے واضح مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے، جنہوں نے توحید کی تبلیغ اور خلق خدا کی خدمت کی خاطر عزیز مصر کے مشیر خاص کے طور پر کام کرنے کو قبول کر لیا۔

علاوہ ازیں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت و کردار میں بھی اس کی واضح مثال موجود ہے کہ آپ نے پچیس سال تک خلفاء ثلاثہ کے ساتھ واجبی حد تک تعاون کیا، ان کو مشورے دیتے رہے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کیا، تاکہ داخلی انتشار سے اسلامی مملکت کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور اسلام کا وہ نوخیز پودا جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کی مدد سے تیئس سالوں کی محنت شاقہ سے سینچا تھا، توانا درخت بننے سے پہلے سوکھ نہ جائے، اسی طرح امام رضا علیہ السلام بھی بخوبی جانتے تھے کہ اس مرحلے پر جان قربان کر دینے کی بجائے ولی عہد بننے میں اسلام اور مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے، چنانچہ آپ نے اس منصب کو قبول کر لیا اور اسلام کے مصالح کو پیش نظر رکھ ماموں عباسی کو مفید مشورے دیتے رہے۔

یہاں پہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے ولیعہدی کو مِن و عَن نہیں بلکہ جزوی طور پر قبول کیا، تاکہ اُس پُرفتن دور میں آل محمد علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کی عزت و آبرو اور جان و مال کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے، نیز اسلام کی حقیقی تعلیمات کا پرچار ہوسکے، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں اپنی شرائط کے تحت اس منصب کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں، میں سیاسی اور حکومتی معاملات میں کوئی دخل نہیں دوں گا بلکہ دور بیٹھ کر تمہیں فقط مشورے دیا کروں گا، اور آپ نے یہ فیصلہ اسلام کے وسیع تر مفاد میں کیا تھا، کیونکہ اس زمانے کے حالات کے مطابق اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، چنانچہ جب امام عالی مقام کو ولی عہد نامزد کیا تو آپ نے اپنے مختصر سے خطبے میں اپنی پالیسی کھل کر بیان فرمائی، آپ نے اس خطبے میں ماموں کا نام تک نہیں لیا اور اس کا شکریہ تک ادا نہیں کیا، حالانکہ درباری رسوم کے مطابق آپ کو مامون کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا، جسے آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

المختصر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام مکمل طور پر مامون عباسی کے ولیعہد نہیں بنے تھے، اگر ایسا ہوتا تو آپ حکومتی اور سیاسی معاملات میں بھی اس کے ساتھ تعاون کرتے اور اس کی رہنمائی کرتے جبکہ آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ آپ نے فقط ان معاملات میں مامون کی رہنمائی کی، جس سے کسی نہ کسی حد تک اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ممکن تھی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے اس کے ذریعے بہت سے فوائد حاصل کیے اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کو امام صادق علیہ السلام کے بعد آپ کے زمانے میں ایک مرتبہ پھر عروج ملا، اور یہ سب کچھ آپ کی دور اندیشی، معاملہ فہمی اور حسن تدبیر کا نتیجہ تھا، ذیل میں فتنوں کے دور میں امام رضا علیہ السلام کے منہج پر اجمالی روشنی ڈالی گئی ہے۔

پرفتن دور میں امام رضا علیہ السلام کی علمی خدمات:
حضرت امام رضا علیہ السلام کو خداوند متعال نے بے پناہ فضائل و کمالات سے نوازا تھا، ان کی حیات مبارک معنویت و روحانیت سے بھرپور تھی، لوگوں کے ساتھ ان کا اخلاقی برتاو مثالی تھا، جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے أئمہ طاہرین علیھم السلام سیرت و کردار میں نمونہ عمل تھے، آپ بھی سیرت و کردار میں نمونہ عمل تھے، مامون عباسی کو علم و دانش کے حوالے سے ایک بلند مقام حامل تھا، باوجود اس کے کہ اس کا شمار امام عالی مقام کے دشمنوں میں ہوتا تھا، وہ بھی آپ کے بارے میں کہنے پر مجبور ہوا: مَا أَعْلَمُ‏ أَحَداً أَفْضَلَ‏ مِنْ‏ هَذَا الرَّجُلِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْض‏، یعنی میں روئے زمین پر اس شخص (امام رضا علیہ السلام) سے افضل کسی کو نہیں جانتا۔(1) قال الحسن بن سهل (م 215ھ): "قد جعل المامون علي ابن موسى ولي عهده من بعده وأنه نظر في بني العباس و بني علي فلم يجد أفضل ولا أروع ولا أعلم منه. یعنی حسن بن سہل کہتے ہیں کہ ماموں نے علی ابن موسیٰ الرضا کو اپنا ولی عہد بنایا، کیونکہ جب اس نے بنی عباس اور بنی علی پر نگاہ کی تو ان سے زیادہ کسی کو افضل، پرہیزگار اور عالم نہیں پایا۔”(2)

امام رضا علیہ السلام نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد علمی میدان میں اس قدر نقوش چھوڑے ہیں کہ آپ کو "عالم آل محمد” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ آپ کو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام کی طرح علوم آل محمد علیہم السلام کی نشر و اشاعت کا تھوڑا سا موقع مل گیا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع میں بنی عباس کے خلفاء کی طرف سے آپ کو کم سختی کا سامنا کرنا پڑا، ہارون رشید کی طرف سے سختی میں کمی کا اصل سبب یہ ہے کہ وه امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے قتل کے انجام سے پریشان تھا، کیونکہ اس نے اپنی جنایت کو چھپانے میں ہر طرح کے جتن کیے تھے، مگر اس کے باوجود بے نقاب ہوگیا، جو لوگوں کی نفرت اور ناراضگی کا باعث بن گیا، لہذا وہ آل محمد پر مزید سختی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، چنانچہ اس نے خود کو اس کام سے باز رکھا۔

ہارون رشید کی موت کے بعد اس کے بیٹوں کے درمیان حکومت کے حصول کے لیے اختلافات و خانہ جنگی نے جنم لیا، امین و مامون کے جھگڑے اور مامون کو ولی عهدی سے ہٹانے نیز اسے امین کے بیٹے موسیٰ کو سونپنے کیوجہ سے بنی عباس کا ایک بڑا گروپ ماموں کی سربراہی میں الگ ہوگیا، جس کی وجہ سے حکومت کو علویوں اور امام علیہ السلام کی ایذاء رسانی کا موقع نہ ملا، چنانچہ ہم ان برسوں کو یعنی سنہ 193 ھ سے سنہ 198 ھ تک کے عرصے کو دوسرے برسوں کی بہ نسبت امام عالی مقام کی آزادی اور آپ کی علمی و ثقافتی فعالیت کے سال کہہ سکتے ہیں، چنانچہ آپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علوم آل محمد علیہم السلام کا ایک بڑا حصہ لوگوں تک منتقل کیا۔

امام رضا علیہ السلام ماموں کے دور میں:
مامون عباسی کے خلیفہ بنتے ہی امام رضا علیہ السلام کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا، جس میں آپ کو بظاہر آزادی حاصل تھی، لیکن درحقیقت یہ دور آپ نے ذہنی طور پر غم و اندوہ، پریشانیوں اور بڑی مشکلات میں گزارا، غاصبین خلافت کی سب سے بڑی مشکل و پریشانی آل محمد کا وجود تھا، کیونکہ ہر دور میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد ایسی رہی ہے، جو خلافت کو آئمہ اہل بیت علیہم السلام کا مسلّم حق جانتی تھی، جس کی بنا پر یہ ہستیاں مسلسل حکمرانوں کی طرف سے اذیت و پریشانی سے دوچار رہیں، لیکن مامون ایک علم دوست حاکم تھا اور اس کی نظر میں امام رضا علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ آپ کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے ایک نئی سازش تیار کی، یہ سازش دیکھنے میں خوشنما لیکن ذہنی اذیت سے بھرپور تھی۔

مامون نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے یہ قصد کیا کہ امام رضا علیہ السلام کو خراسان یعنی اپنے دارالحکومت میں لے آئے اور ظاہراً آپ سے محبت و دوستی سے پیش آئے اور ساتھ ہی آپ کی علمی و سماجی سرگرمیوں پر بطور کامل نظر رکھے، ورنہ اگر وہ مخلص ہوتا تو آپ کو مدینے میں ہی رکھ کر خلافت سونپ سکتا تھا، بہرکیف اس نے امام عالی مقام کو خراسان بلانے کا فیصلہ کیا، مامون نے شروع میں بڑے احترام سے امام کو دعوت دی کہ آپ آل علی کے بزرگوں کے ساتھ مرکز خلافت میں تشریف لائیں، امام عالی مقام نے مامون کی دعوت کو قبول نہیں کیا، لیکن مامون کی طرف سے مسلسل اصرار اور تاکید ہوتی رہی اور مراسلات کا سلسلہ جاری رہا، متعدد خطوط لکھے اور نمائندے بھیجے گئے، جس کے نتیجہ میں امام عالی مقام آل ابو طالب کے بزرگوں کے ساتھ مرو کی طرف جانے پر مجبور ہوگئے۔

جس دن امام عالی مقام مدینہ سے کوچ کرنا چاہتے تھے، اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ میرے لئے گریہ و زاری کرو: میں اب اپنے گھر والوں میں پلٹ کر نہیں آؤں گا، اس وقت آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف گئے، بلند آواز سے گریہ و بکاء کیا، راوی کہتا ہے: میں نے اسی وقت حضرت کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: مُخَوّل مجھے اچھی طرح دیکھو، میں اپنے جدّ بزرگوار کے پاس سے دور ہو رہا ہوں اور عالم غربت میں شهید ہو جاوں گا اور ہارون کے پاس دفن کیا جاؤں گا۔(3) امام رضا علیہ السلام مامون عباسی کے مذموم مقاصد سے بخوبی آگاہ تھے، چنانچہ آپ نے اس کے مکر و فریب کو خود اس کی گردن میں ڈالنے کا فیصلہ کیا، اسی لئے آپ نے اس سفر سے بھرپور استفادہ کیا اور پورے راستے میں جہاں بھی موقع ملا، اپنے فضائل و کمالات اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کا پرچار کیا، جس کی تفصیل کتب تاریخ و سیر میں مذکور ہے، چونکہ اس مختصر سے مقالے میں زیادہ تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں، اس لیے ہم نے صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے، بہرحال امام عالی مقام نے مدینے سے خراسان تک کے اس سفر کے دوران اپنے فریضہ شرعی کو باحسن و خوبی انجام دیا۔

نیشاپور میں آئمہ اہلبیت کی ولایت کا اعلان:
امام رضا علیہ السلام کا قافلہ جب نیشاپور پہنچا تو لوگوں کا ایک جم غفیر آپ کا منتظر تھا، انہیں نے آپ کے قافلے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور تکبیر کی صدائیں بلند کرنے لگے، پھر امام عالی مقام سے عرض کیا کہ آپ اپنے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرما دیجئے، امام عالی مقام نے فرمایا: "میں نے اپنے بابا موسیٰ بن جعفر سے، انھوں نے اپنے والد بزرگوار جعفر بن محمد سے، انھوں نے اپنے والد بزرگوار محمد بن علی سے، انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن الحسین سے، انھوں نے اپنے والد بزرگوار حسین بن علی سے، انھوں نے اپنے بھائی حسن بن علی سے، انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن ابی طالب سے، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، انھوں نے جبرائیل امین سے اور انھوں نے خداوند متعال سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتا ہے:

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ حِصْنِیْ، فَمَنْ قالها دَخَلَ حِصْنِیْ، وَمَنْ دَخَلَ حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ وَلٰکِنْ بِشُرُوْطِھَا وَأَنَا مِنْ شُرُوْطِھَا.” یعنی: لا الٰہ الّا اللہ میرا قلعہ ہے، جس نے لا الٰہ اِلّا اللہ کہا، وہ میرے قلعہ میں داخل ہوگیا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا، لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں اور اُنہی شرطوں میں سے ایک شرط میں ہوں۔”(4) اس حدیث شریف کو بیس ہزار سے زائد راویوں، سیرت نگاروں اور تاریخ نویسوں نے نقل کیا، اس حدیث کو حدیث سلسلة الذهب کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں تمام راوی معصوم ہیں، اس حدیث شریف میں امام عالی مقام نے واضح لفظوں میں فرمایا کہ خداوند متعال کے قلعے میں داخل ہونے کے لیے ہماری ولایت و امامت کے دروازے سے گزرنا ضروری ہے، ورنہ اس قلعے تک رسائی نہیں ہوگی۔

امام رضا علیہ السلام کی دارالحکومت میں آمد:
امام رضا علیہ السلام کا قافلہ دس شوال المکرم 201 ہجری کو ماموں کے دارالحکومت مرو میں پہنچا، مامون، اس کے وزیر فضل بن سهل اور بنی عباس کے امراء و بزرگوں نے آپ کا استقبال کیا اور عزت و احترام کے ساتھ شهر میں لے آئے، چند روز گزرنے کے بعد امام عالی مقام اور مامون کے درمیان گفتگو کا آغاز ہوا، ابو صلت ہروی کہتے ہیں کہ ماموں رشید نے امام رضا علیہ السلام سے کہا: اے فرزندِ رسول! میں آپکے علم و فضل، زہد و تقویٰ اور آپ کی عبادت و بندگی کا معترف ہوگیا ہوں اور میری رائے میں آپ مجھ سے زیادہ اس خلافت کے حق دار ہیں، لہذا اس بار خلافت کو آپ اپنے ذمے لے لیں۔ حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "اگر یہ خلافت تمہارا حق ہے اور پھر خدا نے تمہیں دی ہے تو یہ جائز نہیں کہ جو خلعتِ خلافت خدا نے تمہیں پہنائی ہے، تم اس کو اتار کر کسی دوسرے کو پہنا دو اور اگر یہ تمہارا حق نہیں ہے تو پھر تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ جو چیز تمہاری نہیں ہے، تم وہ مجھے بخش دو۔” مامون نے کہا یا ابن رسول! آپ کو یہ خلافت کسی بھی صورت قبول کرنی ہی پڑے گی، امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "زبردستی کی اور بات ہے، ورنہ اپنی خوشی سے تو میں اسے کبھی بھی قبول نہ کرونگا۔”(5)

مامون کچھ دنوں تک اصرار کرتا رہا، آخر جب ناامید ہوا کہ امام عالی مقام خلافت کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے تو اس نے کہا کہ اگر آپ خلافت قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں تو میرے ولی عہد بن جائیں، تاکہ میرے بعد یہ خلافت آپ کو مل جائے امام عالی مقام نے فرمایا: "خدا کی قسم میرے والد گرامی نے اپنے آباء سے روایت کی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول خدا صل اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تجھ سے پہلے زہر کے ذریعے مظلومانہ طور پر قتل ہوکر اس دنیا سے کوچ کرجاؤنگا اور آسمان و زمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کرینگے اور عالم غربت میں ہارون رشید کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا۔”(6) یہ سن کر مامون رونے لگا اور کہنے لگا، فرزند رسول (ص) جب تک میں زندہ ہوں، کس کی یہ جرائت ہے کہ آپ کو قتل کر دے، امام عالی مقام نے فرمایا: "اگر میں چاہوں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ کون مجھے قتل کرے گا،” مامون نے کہا اے فرزند رسول! یہ باتین کہنے سے آپکا مقصد یہ ہے کہ آپ بارِ خلافت اٹھانا نہیں چاہتے، تاکہ لوگ یہ کہیں کہ آپ زاہد ہیں، ماموں نے اس بات کے ذریعے اپنے تیئیں امام عالی مقام کو غیرت دلا کر اپنا مذموم مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ امام اس کی تمام تر مکاریوں سے آگاہ ہیں۔

امام عالی مقام نے فرمایا: "سنو خدا کی قسم! جب میرے رب نے مجھے پیدا کیا ہے، میں نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا، مامون نے کہا اچھا تو پھر بتائیے کہ خلافت پیش کرنے کا میرا مقصد کیا ہے؟ امام نے فرمایا: "اگر میں سچ کہوں تو مجھے جان کی امان ہے۔؟” اس نے کہا، امان ہے، فرمایا: "تیرا مقصد اس سے یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ علی بن موسیٰ رضا خود زاہد نہ تھے بلکہ دنیا ان کی طرف سے بے رغبت تھی، لیکن جب ولی عہدی کے بعد خلافت ملنے کی امید پیدا ہوئی تو لالچ میں آکر اسے قبول کر لیا۔” یہ سن کر مامون کو غصہ آگیا اور کہا آپ ہمیشہ میرے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے ہیں، جو مجھے ناپسند ہوتی ہیں، یہ میری ڈھیل اور رعایت کا نتیجہ ہے، خدا کی قسم! اگر آپ نے ولی عہدی قبول نہ کی تو میں مجبور کر دوں گا کہ اسے قبول کریں اور اگر پھر بھی قبول نہ کی تو آپکی گردن اڑا دوں گا۔”(7) جب یہ صورت حال سامنے آئی تو امام عالی مقام نے بامر مجبوری اس کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: "میں اس شرط پر تمهاری ولی عهدی قبول کروں گا کہ میں حکومتی اور سرکاری امور میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کروں گا اور کوئی ذمہ داری بھی اپنے ذمہ نہیں لوں گا، جیسے حکام کو معین و معزول کرنا، قضاوت اور فتویٰ وغیره جیسے معاملات سے دور رہوں گا، دور بیٹھ کر تمہیں صرف مشورے دیا کروں گا۔”(8)

امام عالی مقام کی اس شرط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس عہدے سے قلبی طور پر ناراحت تھے اور آپ کسی بھی معاملے میں ماموں کے ساتھ تعاون کرنا نہیں چاہتے تھے۔ گویا آپ ایک طرح سے مامون کی مخالفت کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود ماموں نے آپ کی شرط کو باوجود اس کے کہ اس کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں تھی، پھر بھی مان لیا، چنانچہ اس نے کہا کہ آپ جو چاہیں کرلیں، مجھے منظور ہے لیکن آپ کو یہ عہدہ کسی بھی صورت قبول کرنا پڑے گا، چنانچہ امام عالی مقام بادل ناخواستہ ولی عہد بننے پر راضی ہوگئے۔ امام عالی مقام کا ولی عهد بننا ظاہری طور پر امام عالی مقام کے چاہنے والوں اور شیعوں کے لئے خوشی و مسرّت کا باعث تھا، لیکن خود امام عالی مقام اس چیز سے رنجیده و مغموم تھے۔ چنانچہ جب آپ نے ایک چاہنے والے کو دیکھا کہ جو بہت زیاده خوشی کا اظہار کر رہا تھا تو اسے اپنے پاس بلاکر فرمایا: "اس چیز سے اپنا دل نہ لگاؤ اور اس سے خوش نہ ہو، کیونکہ اس میں کوئی دوام نہیں ہے۔”(9)

ولی عہدی اور ماموں کے مذموم مقاصد:
امام رضا علیہ السلام کو مامون عباسی کی طرف سے پہلے خلافت قبول کرنے کی پیشکش، بعد ازاں ولی عہد بننے پر جبر و سختی سے کام لینے کا مقصد لوگوں کو فریب دینے کے سوا کچھ بھی نہ تھا، اس نے مکارانہ پالیسی کے تحت امام عالی مقام کو خلافت کی پیشکش کی اور اس کے بعد آپ کو ولی‏عہد بننے پر مجبور کیا، واضح لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ماموں نے امام عالی مقام کو ولی‏عہدی کی پیشکش نہیں کی بلکہ آپ کو ولی‏عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا، یہ ایک سیاسی چال تھی، ورنہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو شخص اقتدار کے حصول کے لئے اپنے بھائی کو قتل کر دے، وہ ایک دم اتنا انصاف پسند کیسے ہوگیا کہ آلِ محمد کو خلافت کا حقدار سمجھنے لگا، پس ماموں کی طرف سے امام رضا علیہ السلام کو ولی عہد بنانے جانے کے پس پردہ بہت سارے مذموم مقاصد تھے، جن کے تذکرے کا یہ مقالہ متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا ذیل میں موضوع سے مربوط فقط ایک مقصد کو بیان کیا جائے گا۔

مامون کا اصل ہدف امام کی ذات کو بدنام کرنا تھا اور لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ آل محمد علیہم السلام کا زہد و تقویٰ اس وجہ سے ہے کہ انہیں حکومت و اقتدار نہیں ملا، اگر انہیں حکومت و اقتدار مل جائے تو یہ بھی دوسرے حاکموں کی طرح صاحبان مال و زر بن جائیں گے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے معاذ اللہ خلافت کی طمع و لالچ میں ولی عہدی قبول کر لی ہے۔ چنانچہ امام رضا علیہ السلام نے ابتدا ہی سے ایسا رویہ اپنایا کہ مامون آپ کے ذریعے اپنے ناپاک منصوبوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ امام عالی مقام نے اپنی تدبیر سے مامون کے ناپاک عزائم کو خاک میں بھی ملا دیا اور اپنے فضائل و کمالات کے اظہار اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کی ترویج کے لیے دربار خلافت تک رسائی بھی حاصل کر لی، آپ نے اس شرط پر ولی ‏عہدی کا منصب قبول کیا کہ آپ سیاسی اور حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، امام کی یہ شرط ثابت کرتی ہے کہ آپ قلبی طور پر یہ عہدہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور اس عہدے سے خوش نہیں تھے، امام عالی مقام خود اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ "مجھے یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ میں جانتا تھا کہ یہ امر پورا نہیں ہوگا۔”(10)

ولایت عہدی، علوم آل محمد کے اظہار کا ذریعہ:
امام رضا علیہ السلام کے عہد کو ہم ایک لحاظ سے علمی معرکوں کا عہد کہہ سکتے ہیں، کیونکہ آپ کی ولی عہدی کے زمانے میں دربار خلافت میں مختلف ادیان و مذاہب کے نامور علماء کے ساتھ آپ کے علمی مناظرے منعقد ہوئے، جن میں آپ ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنی حقانیت کو ثابت کرتے، چنانچہ کہا جاتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد امام رضا کو ترویج علم و دانش کا سب سے زیادہ مواقع ملا، جس سے آپ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ واضح رہے کہ دربار خلافت میں امام رضا علیہ السلام اور مختلف ادیان و مذاہب کے علماء کے درمیان ہونے والے ان مناظروں کے پیچھے مامون کے سیاسی مقاصد بھی تھے، علمی مباحث سے طبعاً دلچسپی کے باوجود مامون یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذریعے امام کی شخصیت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائے، بلکہ وہ اس موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی وقت امام جواب دینے سے عاجز ہو جائیں اور اس کو لیکر امام عالی مقام کے فضائل و کمالات کو گھٹایا جا سکے، جو ناممکن تھا بلکہ مامون کی خواہش کے برعکس یہ مناظرے امام عالی مقام کے علمی تفوق اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت اور برتری منوانے کا ذریعہ بن گئے۔اس مختصر سے مقالے میں ان علمی مناظرون کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں اس لیے صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے المختصر ان مناظروں کے ذریعہ امام عالی مقام کو جید علما اور فقہا کی موجودگی میں اپنے علم و فضیلت کے اظہار کا موقع ملا جو آپ کی حکمت عملی سے ہی ممکن ہوا جس سے آپ نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔

امام رضا علیہ السلام اور نماز عید:
رمضان المبارک 201 ہجری میں امام عالی مقام کی ولی عہدی عمل میں آئی تھی، چنانچہ عید الفطر سے پہلے ماموں نے ایک نئی چال چلنے کی کوشش کی، امام عالی مقام نے اس کی اس سازش کو بھی خود اسی کی طرف پلٹا دیا، ماموں نے امام عالی مقام سے کہا کہ اس دفعہ عید کی نماز آپ بڑھائیں، امام نے فرمایا کہ میں نے ولایت عہدی قبول کرتے وقت سیاسی اور سرکاری امور میں مداخلت نہ کرنے کی شرط لگائی تھی اور نماز کی امامت انہی امور میں سے ہے، چنانچہ میں یہ نماز نہیں پڑھاوں گا، مامون نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ کی ولایت عہدی مستحکم ہو جائے اور لوگ آپ کے فضائل و کمالات سے آگاہ ہو جائیں، مامون نے مسلسل اصرار کیا اور امام عالی مقام نے انکار۔ آخر کار امام نے فرمایا : "اگر تمہارا اصرار ہے تو میری شرط یہ ہے کہ میں نماز کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش کے مطابق نکلوں گا۔” مامون نے شرط مان لی، واضح رہے کہ اس شرط کے ذریعے امام عالی مقام نے لوگوں پر واضح کر دیا کہ نماز عید کے حوالے سے خلفاء کی روش رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت اور امیر المومنین علیہ السلام سے کی سیرت کے خلاف ہے، لہذا میں خلفاء کی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کے مطابق عید کی نماز پڑھاوں گا۔

چنانچہ عید کے دن امام عالی مقام ننگے پاؤں گھر سے نکلے اور اونچی آواز سے تکبیریں پڑھنے لگے، لوگ برسوں سے ان اذکار کو نہیں سن سکے تھے۔ چنانچہ عباسی افسران اور عمائدین بھی امام کی معیت میں چلنے لگے، فوجیوں نے یہ حال دیکھا تو عجلت میں اپنے گھوڑوں سے اترے اور سب پا برہنہ ہوکر امام عالی مقام کے پیچھے پيچھے روانہ ہوئے، لوگ مامون تو کیا اپنے آپ کو بھی بھول گئے تھے، وہ لوگ جو چھتوں پر تماشا دیکھنے بیٹھے تھے، وہ بھی اتر آئے اور نمازیوں کے قافلے میں شامل ہوئے، یہ حالات دیکھ کر ظاہر پرست حکمران خوفزدہ ہوگئے کہ حکومت کہ پوری مشینری امام رضا کا ساتھ دے رہی ہے اور سب کے سب اپنے آپ کو عصر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پا رہے اور محسوس کر رہے ہیں کہ رسول اللہ کی امامت میں نماز ادا کرنے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھ کر مامون کے مشیر خاص فضل بن سہل نے فوراً جاکر اس سے کہا: اگر امام رضا اسی حالت میں نماز کے مقام پر پہنچ گئے تو لوگوں کو قیام کے لئے آمادہ کریں گے اور ہمیں تو بس اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے، جلدی سے کسی کو امام کی طرف روانہ کرو، تاکہ وہ واپس چلے جائیں، چنانچہ مامون نے امام عالی مقام کو کہلوا بھیجا کہ ہم نے آپ کو زحمت و مشقت میں ڈالا، ہم ہرگز نہيں چاہتے کہ آپ کو مزيد تکلیف اور زحمت پہنچے، لہذا آپ واپس چلے جائیں، جو شخص رسم کے مطابق لوگوں کی امامت کرتا ہے، وہ آکر نماز پڑھائے گا۔، چنانچہ امام عالی مقام نے اپنے جوتے منگوائے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر بیت الشرف کی طرف واپس چلے گئے، چنانچہ اس روز نماز عید میں لوگوں کی شرکت بہت کم رہی، ماموں اس کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا لیکن بری طرح ناکام ریا۔(11)

ولایت عہدی کو قبول کرنے کے ثمرات:
واضح رہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کا مقصد زندگانی اور طرز عمل قرآن مجید کی اس آیہ شریفہ کے عین مطابق ہے، جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلہ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ، یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔”(12) یہ آیہ شریفہ اگرچہ عام ہے اور تمام اہل ایمان کو شامل ہے، لیکن اس کے اتم مصداق آئمہ معصومین علیہم السلام ہیں، اس آیت کے مندرجات کے پس منظر میں جب ہم امام رضا علیہ السلام کی معنوی، علمی اور سیاسی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو امام عالی مقام ایک امتیازی حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ حضرت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ظاہری خلافت کے بعد امام رضا ہی وہ فرد ہیں، جنہوں نے اپنے دور امامت میں شدید فتنوں کے باوجود ولی عہدی کے منصب پر فائز ہوکر مندرجہ بالا آیت میں بیان کردہ شرائط کی تکمیل کی سعی کے ساتھ انتظام مملکت میں اعانت کی عملی مثال قائم کی اور بتایا کہ دین سیاست سے اور سیاست دین سے جدا نہیں، بشرطیکہ یہ عمل احکام خداوندی کے تحت بجا لایا جائے۔

امام دین کا محافظ اور امت کی جان و مال کا ذمہ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ بے مقصد کسی کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ اگر امام رضا علیہ السلام ولایت عہدی قبول نہ کرتے تو ان کی ذات کے علاوہ تمام علویوں اور دوستداران اہل بیت علیہم السلام کی جان کو خطرہ تھا، ماموں نے اس کی دھمکی بھی دی تھی اور دوسری بات یہ ہے کہ جان کی قربانی اس وقت پیش کی جاتی ہے، جب اس سے اسلام کو فائدہ پہنچے، جبکہ یہ بات واضح ہے کہ امام رضا علیہ السلام کا دور جان کی قربانی پیش کرنے کا دور نہیں تھا، لہذا ضروری تھا کہ امام ایسا طرز عمل اختیار کرتے، جس سے اسلام کو فائدہ پہنچے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امام کا وجود ہر زمانے کے لئے لازم اور ضروری ہوتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت و رہبری کریں، انہیں فکری اور ثقافتی مشکلات سے نجات دیں، کفر و الحاد کی دیواروں کو توڑ کر لوگوں کو خدا شناسی کی طرف لے جائیں اور لوگوں کو ان کی زندگی کے اصل ہدف اور مقصد سے آگاہ کریں، اس بناء پر امام نے اپنے شرعی فریضے کو انجام دیتے ہوئے اس منصب کو قبول کیا۔

اپنی شرعی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے زمانے، حالات اور تقاضوں کے مطابق کچھ امور میں حکام جور کے ساتھ تعاون کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ انبیاء علیہم السلام کی سیرت ہے، چنانچہ ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں دیکھتے ہیں کہ وہ توحید کے پرچار اور لوگوں کے مصالح کی خاطر عزیز مصر کے خزانچی بن گئے، جو ایک مشرک انسان تھا، اسی طرح امام رضا علیہ السلام مامون کے ولی عہد بن گئے، جو اگرچہ فاسق تھا لیکن مسلمان تھا۔ ولی عہدی کو قبول کرنے کے ذریعے امام عالی مقام نے عباسیوں سے جو کہ اہل بیت کے سخت دشمن تھے، قبول کروایا کہ خلافت آل محمد کا حق ہے، آپ نے ان سے اعتراف کروایا کہ خلافت آل محمد کا حق ہے، جس طرح حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ میں شرکت کرکے اس کو اپنے حق کا اہل شوریٰ سے اقرار لے لیا، نیز آپ نے اپنے طرز عمل کے ذریعے لوگوں پر واضح کر دیا کہ سیاست کے میدان میں حاضر رہ کر بھی زید و تقویٰ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

امام عالی مقام نے اپنی تدبیر سے مامون کے مکروہ چہرے سے نقاب ہٹا کر اس کی مکروہ پالیسی اور سازش کو آشکار کر دیا، تاکہ لوگ اس کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں، اگر امام رضا علیہ السلام ولی عہدی کو قبول نہ کرتے تو اس صورت میں آپ کی اپنی جان بھی جاتی، علوی اور شیعہ بھی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے، لہذا آپ نے ولی عہدی کو قبول کرکے دشمن سے اپنے خلافت کے حقدار ہونے اور مامون اور عباسیوں کے غاصب ہونے کو سب پر آشکار اور عیاں کر دیا۔ مامون کی تمام شازشوں کو سب پر بے نقاب کر دیا، نیز آپ نے مختلف ادیان اور مکاتب کے علماء مثلاً جاثلیق، راس الجالوت اور دیگر علماء کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کرکے اور انہیں شکست دے کر مکتب اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کو ثابت کر دیا۔ گویا امام عالی مقام نے اپنے آپ کو اس خلافت کا حقدار ثابت کر دیا، جبکہ مامون چاہتا تھا کہ امام عالی مقام کو ان کے مرتبہ اور مقام سے گھٹایا جائے، لیکن یہاں پر بھی امام عالی مقام نے اس کی بدنیتی کو سب پر فاش کر دیا۔

حرف آخر:
تاریخ اسلام میں "عظمت آل محمد علیہم السلام” ایک مسلمہ حقیقت ہے، ان کا بدترین دشمن بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا، کیونکہ ان کی فضیلت کا انکار قرآن مجید کی آیات، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات اور تاریخی حقائق کا انکار ہے۔ پس کوئی آل محمد کے منصب اور عہدہ کو قبول کرے یا نہ کرے، ان کی تعلیمات اور احکام کو تسلیم کرے یا نہ کرے اور ان کے فرامین اور ارشادات پر عمل کرے یا نہ کرے، لیکن وہ اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ہستیاں اپنے اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے علم و عمل میں برتر تھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام لوگوں سے اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا تھا اور انھیں غیر معمولی فضائل و کمالات سے نوازا تھا، چنانچہ ان ہستیوں کا آغاز بھی طیب و طاہر تھا اور انجام بھی پاک و پاکیزہ۔

اللہ تعالی نے ان ذوات مقدسہ کو امت مسلمہ کے لئے ہادی و رہنماء بنا کر بھیجا تھا، لیکن اُمت نے ان کی قدر نہیں جانی، یہی وجہ ہے کہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں اور بادشاہوں نے اپنے ناجائز مفادات کے حصول کے لیے ان ذوات مقدسہ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں، ان کے حقوق غصب کیے اور انہیں حکومت و اقتدار سے دور رکھا، ستم ظریفی یہ ہے کہ عالم اسلام کے ظالم و جابر حکمرانوں نے آل محمد علیہم السلام کو فقط حکومت و اقتدار سے دور رکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی گئیں اور انہیں مختلف قسم کی اذیتیں دے کر شہید بھی کر دیا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آل محمد علیہم السلام کو شہید کرنے والے بھی ان کے فضائل و کمالات کے معترف تھے، لیکن وہ دنیا کے طمع و لالچ میں سنگ دل ہوچکے تھے، مال و دولت کی ہوس میں اندھے ہوچکے تھے اور اقتدار و حکومت کے نشے میں مست ہوگئے تھے، چنانچہ وہ دنیا کی عظیم ترین ہستیوں کو ایذائیں پہنچا کر شہید کرنے پر کمر بستہ ہوگئے۔

دنیا کے ظالم و جابر حکمرانوں کے تمام تر مظالم اور سختیوں کے باوجود آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے الہیٰ فریضے کو باحسن و خوبی انجام دیا اور دین مبین اسلام کے تحفظ اور اس کی حقیقی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے لئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، امام رضا علیہ السلام کو جب مامون عباسی نے ولی عہد بننے پر مجبور کیا تو آپ نے بھی اس کو حق کے اظہار کے لئے بہترین ذریعہ بنایا، چنانچہ آپ اس کے دربار میں مختلف علمی مناظروں اور مباحثوں میں شرکت کرتے اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت کو واضح کرتے، چنانچہ اس سلسلے میں آپ نے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مامون عباسی مزاجاً علم دوست تھا، چنانچہ وہ دربار میں آنے والے مختلف مذاہب و ادیان کے علماء سے بحث و مباحثہ کرتا تھا، امام رضا علیہ السلام کے ولی عہد بننے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مامون آپ کو بحث و مباحثے کے جلسوں میں ضرور شریک کرتا اور آپ سے تقاضا کرتا کہ آپ مختلف ادیان و مذاہب کے علماء کے اشکالات اور سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں۔

چنانچہ امام عالی مقام نے یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ مختلف موضوعات پر مناظرے کیے، جن میں آپ نے اسلام کی حقیقی تعلیمات اور عقائد کا دفاع کیا، اس سلسلے میں جاثلیق اور راس الجالوت اور دیگر علماء کے ساتھ آپ کے مناظرے مشہور ہیں، جن میں آپ نے ان کو لاجواب کر دیا جبکہ یہ لوگ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے، امام عالی مقام نے لوگوں پر واضح کر دیا کہ تخت و تاج پر قبضہ کر لینا آسان ہے، لیکن علم و دانش کی بساط پر بیٹھنا مشکل ہے اور یہ فقط آل محمد علیہم السلام کا خاصہ ہے۔ حقیقت امر یہ ہے کہ اگر امام رضا علیہ السلام نے ولی عہدی کے منصب کو قبول نہ فرمایا ہوتا تو وہ فوائد حاصل نہ ہوتے، جو آپ نے اس منصب پر فائز ہو کر حاصل کیے، امام عالی مقام کے ولی عہد بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جس حکومت سے حق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا خطرہ تھا، اسی کے ذریعے اس کی نشر و اشاعت کا انتظام ہوگیا، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جو کام امام حسن مجتبی علیہ السلام نے حاکم شام امیر معاویہ کو حکومت دے کر انجام دیا، یعنی چور کو ہی محافظ بنا دیا، وہی کام امام رضا علیہ السلام نے ماموں عباسی کی ولیعہدی قبول کرکے انجام دیا، یعنی آپ نے دشمن کو ہی اپنے فضائل و کمالات کے اظہار اور اسلام کے حقیقی احکام و تعلیمات کی نشر و اشاعت کا ذریعہ بنایا۔ والسلام على من اتبع الهدى۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصادر و ماخذ:
1۔ قرآن مجید
2۔ بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، تحقیق: محمد باقر مجلسی، موسسہ الوفا بیروت لبنان، اشاعت: 1403 ھ 1983ء
3۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق علیہ الرحمہ، مکتبہ مدرسہ الفقاهة سے ماخوذ
4۔ ینابیع المودہ لذوی القربی، القندوزی، تحقیق: سید علی جمال اشرف حسینی، اشاعت اول 1416ھ
5۔ الاما الرضا عند اہل السنہ، شیخ محمد محسن طبسی، طبع ثالث 1433ھ، موسسہ طبع آستان قدس رضوی مشہد مقدس۔
6۔ نقوش عصمت، علامہ ذیشان حیدر جوادی، اشاعت دوم پاکستان 2000ء، محفوظ بک ایجنسی کراچی۔
7۔ کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ، علامہ محقق ابی الحسن علی بن عیسیٰ اربلی دارالاضواء بیروت لبنان۔
8۔ الامالی، شیخ صدوق، ناشر: قسم دراسات اسلامیہ قم مقدس، تاریخ اشاعت: 1417ھ۔
9۔ سیرت آل محمد علیہم السلام، شہید مرتضیٰ مطہری، ترجمہ عابد عسکری، ناشر: شہید مطہری فاؤنڈیشن، طبع اول 2014ء۔
10۔ الارشاد، شیخ مفید، ناشر: دار مفید بیروت لبنان، طبع ثانی 1414ھ۔
11۔ روضۃ الواعظین، محمد بن الفتال نیشاپوری، تحقیق: سید محمد مہدی، سید حسن خرسان، ناشر: منشورات رضی قم مقدس۔
12۔ تاريخ الانبياء و الائمه دروس وعبر، مؤلف الشيخ رافد التميمي، الاخراج الفني السيد محمود الهاشمي، ناشر: اكاديميه الحكمه العقليه، طبع اول 2014ء۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …