اتوار , 9 اگست 2020

بجلی کا فالٹ فری نظام اور بارشیں

اداراتی نوٹ

پاکستان میں توانائی بحران کی تاریخ درد انگیزیوں کی الم ناک داستان ہے۔ اگرچہ اس کا آغاز تقسیم پاکستان سے نہیں ہوا۔ سیاسی حکومتوں کی نا اہلیوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام آبادی کے تناسب کے مطابق جاری تھا، شہری اور دیہی ترقی کے لیے بجلی کی فراہمی کے لیے ہر حکومت نے بجلی کی فراہمی کے دعوے کیے مگر کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا، آج ملک کو توانائی بحران کا پھر سے سامنا ہے، کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

لوڈشیڈنگ ان میں نمایاں ہے، لیکن توانائی بحران کی حقیقت سے قریب تر محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پاور جنریشن اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں حالیہ سب سے بڑی رکاوٹ پاور سیکٹر کی بیوروکریسی، ارباب اختیار کی ملکی ترقی میں توانائی کے کلیدی کردار کی ترجیح سے غفلت اور پاور وژن سے محرومی ایک ستم ظریفی ہی رہی، بظاہر حکومتوں نے بجلی کے منصوبے بنائے، گھر گھر بجلی پہنچانے اور دیہات کو روشن کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے رہے

سیاسی جماعتوں نے ایک منور پاکستان اور روشنیوں سے جگمگاتے شہر قائد کے خواب دکھائے، ترقی ہوئی بھی، کئی منصوبے پائیہ تکمیل کو پہنچے مگر ایک مربوط، منظم، فالٹ فری اور شفاف جنریشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم کے قیام کے میں کوئی جمہوری حکومت کامیاب نہیں ہوسکی اور غالباً یہی سوالیہ نشان پی ٹی آئی حکومت کو آج درپیش ہے جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرکی اس امید افزا اطلاع کو عوام خوش آئند قرار دیتے ہیں جو انھوں نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ سے متعلق دیا ہے۔

تاہم بجلی کی لوڈشیڈنگ اور عوام کی بیچارگی نے حکومت کو بیک فٹ پر ڈال دیا ہے اور وطن عزیز کو ابھی تک ایک مستحکم پاور سسٹم کی نوید ملنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یہ حقیقت پیچیدہ اور سوالیہ نشان اس لیے بھی بنی ہے کہ حکومت اس بات کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ عوام، بجلی ماہرین، کاروباری طبقات، صنعتکار و تاجر برادری سمیت عام آدمی کو یقین نہیں دلا سکی کہ ملک کب بجلی بحران سے مکمل طور پر نجات حاصل کرے گا۔ وہ ڈیڈ لائن کیا ہوگی کہ ملک صنعتی اور تجارتی ترقی کے حوالے سے توانائی بحران کے مسئلہ سے چھٹکارہ حاصل کرسکے گا اور صارفین کو ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ، اووربلنگ، بار بار بجلی کی معطلی اور پاور بریک ڈاؤن سے لے کر پاور جنریشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم کے قابل اعتبار ہونے کی مسلمہ ضمانت بھی میسر ہوگی۔

دنیا بھر میں پاور سسٹم کو تکنیکی مشکلات پیش آتی ہیں لیکن صارفین کو غیر علانیہ بجلی کی معطلی کا درد سر اٹھانا نہیں پڑتا اور دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ حتیٰ کہ ترقی پذیر ملکوں میں پاور سیکٹر سے شکایات اتنی نہیں ہیں جتنی ہمارے عوام کو ہیں۔بلکہ دیکھا جائے تو اکیسویں صدی میں بجلی کی دردناک صورتحال کا جو تجربہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی اور دیگر صوبوں کے عوام کر رہے ہیں اسے ملکی تاریخ کا الم ناک دورانیہ قرار دیا جاتا ہے، یہ سب کیا ہے؟ جب حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی کی وافر مقدار موجود ہے اور ملک کے ڈیمز کی تعمیر کے لیے ایک سپریم کورٹ کے فاضل جج نے فنڈز جمع کرائے، آخر وہ بھاشا ڈیم خواب سے حقیقت کب بنے گا، اسی طرح ماہرین اور تجزیہ کاروں کا استدلال یہ ہے کہ اصل مسئلہ لوڈ شیڈنگ نہیں، یہ تکنیکی معاملہ ہوسکتاہے، بجلی کم، رسد یا مقدار میں ہے اور طلب بہت زیادہ ہے تو عوام سمجھ سکتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ایک مجبوری ہے مگر اس تھیوری کو کوئی قبول نہیں کرسکتا کہ بجلی موجود ہے اور اس کی برآمد کے دعوے بھی کیے گئے۔

وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے ماضی کی حکومتوں کے مقابلہ میں شفاف ترین پاور سیکٹر کے بڑے دعوے کیے تھے، بجلی کے بلوں کا شفاف نظام، بجلی کی تقسیم،جنریشن کے لیے بہترین سسٹم متعارف کرانے کی یقین دہانی کی تھی مگر کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، آج بجلی کے شفاف نظام کی جگہ اندھیرے ملک کے شہروں اور دیہات کا مقدر بنے ہوئے ہیں، سیاسی سواد اعظم کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت توانائی بحران کے باعث دیوالیہ کی طرف بڑھ رہی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کی سمجھ میں بجلی بحران کی کیمسٹری نہیں آ رہی، وہ صرف باتیں کرتے اور عوام کو تسلیاں دیتے ہیں، جبکہ عوام کو بجلی کے نظام میں ٹھوس تبدیلی درکار ہے، ان کا کہنا ہے کہ توانائی بحران کی وجہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام میں بنیادی فنی خرابی ہے۔

ہمارے سسٹم میں مضمر ناقص جنریشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم کو کسی حکومت نے ٹھیک نہیں کیا، بجلی کی تاریں پرانی ہیں، فرسودہ پول برسوں سے کھڑے ہیں، بل درست کرانے کے لیے صارفین پریشان رہتے ہیں، کنڈا سسٹم ختم نہیں ہوا، جن صوبوں میں بجلی بل ادا نہیں کیے جاتے ان کا بوجھ بھی قانونی طور پر بجلی کا بل ادا کرنے والے صارفین کے سر ڈالا جاتا ہے۔

در اصل پاور سیکٹر کا ادارہ جاتی بحران کا سامنا ہے، آخر کیوں ایک جرمن افسر کے ای ایس سی کی سربراہی میں ناکام ہوا، وہ خود بجلی کے پول پر چڑھتا دکھائی دیا تھا، کراچی میں بجلی کے نظام پر چیف انجینئر چوہدری بشیر اور انجینئر محمد یونس چوہان بجلی کے نظام پر ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتے تھے، درد مند دل رکھنے والے ٹربل شوٹرز تھے، آج حکمراں ایسے ماہرین سے محروم کیوں ہیں، ماضی کی بات ہے، بجلی محکمہ کے سربراہ ملک شاہد حامد کے دورمیں سابق کے ای ایس سی کرپشن کی دلدل میں لتھڑی ہوئی نہیں تھی، وہ شفاف نظام لانے کے جرم میں دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔

ایک شائع شدہ معتبر رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں، آزادکشمیر کے علاوہ سرکاری اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز نے مجوزہ 27 سالہ انٹیگریٹڈ پیداواری صلاحیت کے توسیعی منصوبے (آئی جی سی ای پی 2020-2047) میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حد سے زیادہ پر عزم، مقامی توانائی کے وسائل کو کمزور اور تھرمل پلانٹس کے فوائد سے مختلف پیداواری ٹیکنالوجیز کا موازنہ کرنے میں غلط مفروضے پیش کرتا ہے۔ ایک معاصر اخبار میں دی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اعتراض کرنے والوں کی اکثریت نے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو مبینہ طور پر پیچھے دھکیلنے پر احتجاج کیا ہے ۔

ماہرین کے مطابق مزید یہ اقدام کیا گیا کہ بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے فرنس آئل کی درآمد پر پابندی ختم کی گئی، دوسری جانب حکومتی اداروں اور اس کے ترقیاتی شراکت داروں نے اوسط شرح نمو 3.8 فیصد سے زیادہ نہیں بتائی۔ چند ماہرین نے مزید جوہری بجلی گھروں کے قیام کی بھی مخالفت کی ہے کیونکہ اس کی اوسطاً لاگت 45 لاکھ ڈالر فی میگا واٹ تک ہوتی ہے جبکہ دیگر ٹیکنالوجیز میں یہ لاگت 5لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر فی میگا واٹ ہے۔ پن بجلی کے سستی، قابل تجدید ہونے خاص کر ذیلی خدمات مثلاً فریکوئنسی کنٹرول، گرڈ اسٹیبلیٹی، انتہائی طلب کے دوران پیداواری آپشن اور تقریباً صفر پیداواری لاگت ہونے کی وجہ سے ہر جگہ ترجیحی طور پر ہائیڈرو پاور کے وسائل کا استعمال کیا گیا تاہم اس پہلو کو نظرانداز کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر حکام نے نشاندہی کی کہ پن بجلی کی معاشی زندگی کو 30 سے 50سال بتایا گیا جو اصل میں 100سال ہے اور یہ 100سالہ قبل تعمیر کردہ منصوبوں سے ثابت ہوا ہے جو اب بھی زیر استعمال ہیں۔ اس کے برعکس جوہری آپشن کو 70سال کی زندگی دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے لکھا کہ اس تنازع کو درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے پن بجلی کی طویل کام کرنے والی زندگی کی اصل قدر کو نظرانداز کیا جبکہ اس عرصے کے دوران پیداواری لاگت صفر کے قریب ہے۔

آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا دونوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پن بجلی کے دیگر تمام آپشنز پر کام کیا جائے تاکہ وہ خدا کے دیے ہوئے اس قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔ انھوں نے نشاندہی کی تھرمل توانائی کی زندگی اور ایندھن کی لاگت کو نظر انداز کرکے ہائیڈرو پاور کو غلط اور صرف تعمیراتی لاگت کی بنیاد پر مہنگا منصوبہ بتانے سے کئی اہم منصوبے 20 سال پیچھے چلے گئے ہیں جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک زیرک ماہر کی رپورٹ کہی جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اورمون سون بارشوں کے پیش نظر ارباب اختیار برساتی نالوں پر نظر رکھیں،جب ضرورت ہو ایمرجنسی نافذ کریں، صرف بیانات جاری نہ کریں بلکہ عمل کریں، محکمہ موسمیات نے رواں ماہ جولائی میں سیلابوں اور ہولناک موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، مون سون الرٹ چشم کشا ہونا چاہیے، ماضی میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ پانی اور بجلی کے مسائل کو اولین ترجیح ملنی چاہیے۔بارشیں ٹیسٹ کیس ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …