اتوار , 9 اگست 2020

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد

پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا یا اسے برقرار رکھنا ہماری سیاسی جماعتوں کی سیاست کا اہم جز ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی نظر آتی ہے۔ اس وقت بظاہر حکومت کو کوئی بڑا خطرہ نہیں مگر اسلام آباد کا سیاسی ماحول اور میڈیا کے محاذ پر موجود سیاسی پنڈتوں کے بقول سیاست میں سب اچھا نہیں اور ان کے بقول اسلام آباد کا سیاسی ماحول ایک بڑی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔بڑی تبدیلی سے مراد حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی ہے ۔ ہر کوئی اس کھیل میں اپنا اپنا رنگ بھرنے کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے ۔

اس وقت سیاسی ماحول میں حزب اختلاف کی سیاست چار بنیادی نکات کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اول حکومت مکمل طو رپر ناکام ہوچکی ہے اور اس کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ دوئم ملک کے بحران کا واحد حل نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہیں ۔ سوئم جمہوری عمل چلنا چاہیے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر مستعفی ہوں او راپنی جگہ نئے قائد ایوان کا انتخاب کریں تاکہ ملک جمہوریت کی سیاسی پٹری سے نہ اترسکے ۔چہارم جو لوگ سلیکٹیڈ وزیر اعظم او رحکومت کو لانے کے ذمے دار ہیں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اوراس حکومت کی حمایت سے دست برادر ہوکر نئی حکومت کے لیے سیاسی راستہ ہموار کریں ۔

اگرچہ حزب اختلاف کی اپنی جماعتوں میں کسی ایک نکتہ پر اتفاق رائے کا فقدان نظر آتا ہے لیکن اس وقت ایک بڑا سیاسی نکتہ ’’ مائنس ون ‘‘ کے فارمولے کے گرد گھوم رہا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وزیر اعظم اپنی جگہ کسی او رکو وزیر اعظم نامزد کردیں تو سیاسی بحران ٹالا جاسکتا ہے ۔
جو لوگ مائنس ون فارمولے کی بات کررہے ہیں ان کا بڑا منطق اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات میں خرابی کی بنیاد پر دیکھا جارہا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں کچھ دنوں سے حزب اختلاف کی سیاست اور تقریروں میں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شدت سے دیکھنے کو مل رہا ہے اور ان کے بقول عمران خان کی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔ماضی میں بھی ہم نے جنرل ضیا الحق او رجنرل مشرف کے دور میں مائنس ون کے فارمولے دیکھ چکے ہیں ۔

جنرل ضیا الحق نے پوری کوشش کی کہ پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر مائنس کردیا جائے مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ جنرل مشرف نے اپنے دور میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مقابلے میں مخدو م امین فہیم او رشہباز شریف کو سامنے لانے کی کوشش کی مگر وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔ تحریک انصاف کی اصل شناخت عمرا ن خان ہیں او ر عمران خان کے بعد کوئی ایسا فرد نہیں جسے عمران خان کے حامیوں کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے ۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو نکال کر کسی اور کو وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے وہ حقیقت پر مبنی تجزیہ نہیں۔

حزب اختلاف اگر سمجھتی ہے کہ عمران خان کی تبدیلی ناگزیر ہے او رملکی مفاد میں ہے تو یہ ان کا سیاسی حق ہے ۔ عمران خان کی تبدیلی کے چار راستے ہیں۔ اول حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مل کر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے ان کو گھر بھیج سکتی ہے ۔ دوئم عمران خان خود قبل ازوقت اسمبلیوں کو توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔سوئم حزب اختلاف ایک بڑی عوامی سیاسی تحریک کی مدد سے حکومت یا وزیر اعظم کو مجبور کرسکتی ہے کہ وہ گھر جائیں او رملک میں نئے انتخابات کا راستہ ہموار کریں۔

چہارم حزب اختلاف اگر اجتماعی طورپر قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائے تو اتنی بڑی تعداد میں ضمنی انتخاب ممکن نہیں ہوگا اور نئے انتخابات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ چاروں راستے حزب اختلاف کے لیے بہت مشکل ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت ابھی تک حزب اختلاف کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔

مائنس ون کے فارمولے وہاں چلتے ہیں جہاں سیاسی قیادت کے مقابلے میں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں افراد کے ہاتھوں یرغمال ہیں،ایسے میں پارلیمنٹ سے مائنس ون کی باتیں فضول ہیں ۔جو لوگ یہ تانے بانے بنانے کی باتیں کررہے ہیں کہ مائنس ون کے فارمولے کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل ہے تو فوری طو رپر اس کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …