ہفتہ , 8 اگست 2020

امریکا پرصدیوں پرانا قرض

تحریر: زاہدہ حنا

امریکاکے صدارتی انتخابات زیادہ دورنہیں ہیں، انتخابات کے نتائج یہ فیصلہ کردیں گے کہ امریکا کو نسل پرستی کی گرفت سے آزاد ہونا ہے یا اس کو ابھی اس راہ میں کئی اور مشکل مراحل سے گزرنا ہے۔ آنے والے انتخابات میں سیاہ اور سفید فام عورتوں کا اتحاد اس ضمن میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ امریکا میں سیاہ فام غلاموں بالخصوص عورتوں کے ساتھ جو ظلم روا رکھا گیا، اس کا حساب بے باق اب کرنا امریکاکے لیے ناگزیر ہوگیا ہے۔ اس تناظر میں جدید گائناکولوجی کے بانی ڈاکٹر جیمزماریون کا نام بار بار ذہن میں آتا ہے۔

جیمز امریکا کی جنوبی ریاست ساؤتھ کیرولینا میں پیدا ہوا تھا اوراپنے وقت کے مشہور جیفرسن میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ ریاست امریکا کے جنوب میں واقع ہے، یہ وہ علاقہ تھا جہاں غلامی اپنی بدترین شکل میں موجود تھی۔ برطانوی آبادکار اپنی نوآبادی میں غلاموںسے مفت کاشت کرایا کرتے تھے۔ جیمز نے امریکا کے اس جنوبی علاقے کے مال دار زمین مالکان کے غلاموں کے علاج معالجے کا کام شروع کیا، یہ وہ لوگ تھے جو اپنے غلاموں کو زندہ اور صحت مند رکھنا چاہتے تھے تاکہ ان سے کھیتوں میں مشقت لے سکیں۔ اس دوران جیمز نے گائناکولوجی کے شعبے میں سرجری کے تجربات کا سلسلہ شروع کیا۔

یہ 19 ویں صدی کا امریکا تھا جہاں لوگ اور ڈاکٹر دونوں عورتوں کے علاج میں دل چسپی نہیں رکھتے تھے لہٰذا جیمز نے اپنے آلات جراحی کو آزمانے اورآپریشن کے تجربات کے لیے سیاہ فام غلام عورتوں کا انتخاب کیا۔ جیمز نے بغیربے ہوش کیے غلام عورتوں کے اذیت ناک آپریشن کیے۔ انھیں درد اور تکلیف سے بچانے کے لیے کوئی دوا نہیں دی جاتی تھی۔
اس کے بے رحمانہ تجربوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک 17سالہ سیاہ فام غلام لڑکی انارکا کے 30 آپریشن کیے۔ یہ نسل پرست ڈاکٹر اتنا سفاک تھا کہ اس نے نہ صرف سیاہ فام عورتوں بلکہ ان کے ننھے بچوں پر سرجری کے ایسے تکلیف دہ عمل کیے جنھیں بیان کرناممکن نہیں ہے۔ جب وہ سیاہ فام غلام عورتوں کے آپریشن کرکے اپنے کام میں ماہر ہوگیا تو اس نے سفید فام عورتوں کے آپریشن شروع کیے لیکن انھیں تکلیف و اذیت سے بچانے کے لیے انتھیسیا دی جاتی۔

آج بھی اس ڈاکٹرکے کئی حامی موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ اس نے غلام عورتوں کی رضامندی حاصل کی تھی، انھیں شاید یہ معلوم نہیں کہ غلام صرف ہاں کہہ سکتا ہے، ’’نہیں‘‘ کہنے کی اس میں ہمت نہیں ہوتی۔ ان نسل پرست لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت کے قانون کے تحت جیمز یہ تجربات کرسکتا تھا۔ تاہم، مریض کو بے ہوش کیے بغیرجراحت کے آلات کا تجربہ کرنے کا، اگراس وقت کے امریکا میں کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود تھا تو یقیناً یہ وہ امریکا تھا جس پر آج کے امریکیوں کو فخرکرنے کی بجائے شرمندہ ہونا چاہیے۔

اس سے بڑا المیہ اورکیا ہوگا کہ جیمزکا مجسمہ نیویارک سٹی کے مشہور سینٹرل پارک میں لگایا گیا تھا جہاںہر سال لاکھوں سیاح آتے تھے اور اسے ایک رحم دل اور انسان دوست ڈاکٹر سمجھ کر خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے۔ تاہم، شدید عوامی دباؤکے باعث یہ مجسمہ اب ہٹا دیا گیا ہے اور وہاں ایک تختی آویزاں کردی گئی ہے، جس پر ان تین سیاہ فام غلام عورتوں کے نام درج ہیں جن پر اس نسل پرست گائنا کولوجسٹ نے سرجری کے اذیت ناک تجربات کیے تھے۔

امریکا میں 400 سال قبل افریقا کے لوگوں کو پکڑ کر لانے اور انھیں غلام بنا کر کھیتوں میں مشقت لینے کا آغاز ہوا تھا۔اس دوران لاکھوں صحت مند اور توانا افریقی لوگوں کو جانوروں کی طرح پکڑا گیا اور انھیں بحری جہازوں میںبھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس کر امریکا لایا گیا۔ ان بدنصیب لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اس وقت کا افریقا اپنے صحت مند لوگوں سے تقریباً خالی ہوگیا تھا۔

امریکا میں لائے گئے سیاہ فام غلاموں کی کم و بیش نصف تعداد عورتوں پر مشتمل تھی۔ ان عورتوں کے ساتھ جو بہیمانہ رویہ اختیارکیا جاتا تھا۔ اس کی ایک معمولی مثال اوپر بیان کی گئی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ افریقی عورتوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جاتا رہا ہوگا۔ سیاہ فام غلام عورتوں کو سیاہ فام غلام مردوں کی طرح کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ سیاہ فام مردوں کے مقابلے میں ان کا کہیں زیادہ استحصال کیا جاتا تھا۔ ان سے جسمانی مشقت تو لی ہی جاتی تھی لیکن اس کے ساتھ انھیں جنسی ہوس، درندگی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا۔

سفید فام مرد ، ان سے جبراً جنسی عمل کرنے میں بالکل آزاد تھے۔ سیاہ فام عورت چونکہ غلام اور اپنے مالک کی ملکیت ہوا کرتی تھی لہٰذا اس کی اپنی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی اور اسے صرف ایک ’’شے‘‘ تصورکیا جاتا تھا۔ ان عورتوںکو باقاعدہ شادی کرکے سماجی زندگی گزارنے کا بھی حق نہیں تھا کیونکہ مضبوط خاندانی نظام سیاہ فام غلاموں کی آزادانہ خریدو فروخت میں رکاوٹ ثابت ہوسکتا تھا۔ انھیںایک ساتھ رہنے اور بچے پیدا کرنے کی اجازت تھی جس کا مقصد غلاموں کی تعداد میں اضافہ تھا جو غلام مالکان کے لیے منفعت بخش کام تھا۔ لیکن یہ سہولت دیتے وقت یہ خیال رکھا جاتاتھا کہ اتنے زیادہ بچے پیدا نہ ہوں جن سے سیاہ فاموں کی آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے۔

نسل پرستی ایک مخصوص ذہنی رویے اور رجحان کا نام ہے جسے ختم کرنے کی بھرپورکوشش کی جائے تب بھی اس کے اثرات ختم ہونے میں وقت گزرجاتا ہے۔ امریکا کی جنوبی ریاستوں میں غلامی قانونی تھی لہٰذا وہاں کے لوگوں میں نسل پرستی کا گہرا اثر آج بھی نظر آتا ہے۔ سفید فام مردوں کی طرح سفید فام عورتیں بھی نسل پرستی میں پوری طرح مبتلا تھیں۔ مشہور امریکی صدر جاج واشنگٹن کے پاس 18 جب کہ اس کی بیوی کے پاس اپنے شوہر سے کہیں زیادہ یعنی84 سیاہ فام غلام تھے۔

اس دورکے امریکا میں کل غلام مالکان میں 40 فیصد سفید فام عورتیں تھیں جو غلاموں کی خریدو فروخت سمیت ہر متعلقہ سرگرمی میں پوری طرح شامل تھیں۔ انھیں بچپن سے ہی یہ تربیت ملتی تھی، والدین بچوں سے خوش ہوکر انھیں تحفے میں غلام دیا کرتے تھے۔ سفید فام عورتوں کو شادیوں میں غلام مرد یا سیاہ فام لڑکیاں جہیزکے طور پر دی جاتی تھیں۔ ان غلاموں کی تعداد سے خاندان کی امارت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔

اپنے آقا کی حکم عدولی پر سیاہ فام غلام عورتوں کو اکثر برہنہ کرکے ان کے بچوں اور برادری کے لوگوں کے سامنے کوڑے مارے جاتے تھے تاکہ ان کی زیادہ سے زیادہ تذلیل کی جاسکے۔ غلامی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے لازمی تھا کہ غلاموں کو دہشت زدہ کیا جاتا رہے، انھیں کڑی سے کڑی سزائیں دی جاتی رہیں تاکہ ان کے ذہنوں میں اپنے آقاؤں کا مستقل خوف بیٹھ جائے۔

یہی وجہ تھی کہ سفید فام عورتیں بھی اپنے غلاموں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی تھیں۔گھر میں کام کرنے والی غلام لڑکیوں کوکبھی پیٹ بھرکرکھانا نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک مالکن ہر روز اپنے بستر پر تھوڑی سے مٹھائی رکھ دیا کرتی تھی ۔کچھ دنوں بعد اس نے دیکھا کہ بستر پر رکھی مٹھائی کا ٹکڑا غائب تھا۔ اس عورت نے غلام لڑکی کو بلایا اور اسے جھولنے والی کرسی پر رسیوں سے باندھ دیا اور اپنی بیٹی کو غلام لڑکی کے جسم پر کوڑے برسانے کی ہدایت کی۔ لڑکی کا سر دیوار سے ٹکراتا رہا اور وہ اذیت سے روتی اور چیختی رہی۔
جب سزا ختم ہوئی تو اس کا جبڑا ٹوٹ گیا تھا اور اس کا چہرہ بگڑچکا تھا۔ یہ بچی جب جوان ہوئی تو وہ دانتوںسے محروم تھی۔ ایک دن مالکن نے وہ غلام لڑکی اپنے رشتہ دارکے حوالے کردی کیونکہ وہ اب اس کا بدنما چہرہ دیکھنے کے لیے مزید تیار نہیں تھی۔ سفید فام خواتین جن غلاموں کو اپنی ملکیت میں رکھتیں ان کی غالب تعداد شادی شدہ ہوا کرتی تھی کیونکہ غیر شادی شدہ سفید فام عورت کے غلام، شادی کے بعد ان کے شوہروں کی ملکیت میں آجایا کرتے تھے۔ خاندان میں جو عورت غلاموں کی مالک ہوتی صرف وہی ان پر حکم چلاسکتی تھی، خاندان کے دوسرے افراد اس ’حق‘ سے محروم تھے۔

افریقا سے جو غلام پکڑ کر جنوبی اور شمالی براعظم امریکا کے مختلف علاقوں اور ریاستوں میں لائے جاتے تھے، ان کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہوا کرتی تھیں۔ ان لوگوں کو ماں باپ، بھائی بہنوں اور گھر والوں سے جبراًجدا کرکے بحری جہازوں میں بھر کر لایا جاتا تھا۔ یہ غلام زنجیروں میں جکڑے ہوتے تھے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ انھیں کہاں لے جایا جارہا ہے۔

بحری جہازوں میں بھرے غلام اپنے گھروالوں کو یاد کرکے بلند آواز میں آہ وبکا کرتے تھے۔ غلام عورتوں پر ہسٹریا کے دورے پڑے تھے، انھیں خاموش کرنے کے لیے ان پر کوڑے برسائے جاتے تھے۔ ان بد نصیب غلام مردوں اور عورتوں کو معلوم تھاکہ اب وہ اپنے پیاروں سے کبھی نہیں  مل سکیں گے۔ غلام عورتوں کو بحری جہازوں کے ملاح جنسی درندگی کا نشانہ بناتے تھے۔ جو لوگ انھیں لاکر غلام منڈیوں میںفروخت کیا کرتے تھے وہ بھی ان پر جنسی تشدد کرتے تھے، غلام عورتوں کو خریدنے والے تو انھیں جنسی طورپر استعمال کرنے کا قانونی حق رکھتے تھے حتیٰ کہ غلام مالکان کے بیٹے اور دوست احباب بھی ان مجبور  اور بے کس عورتوں کی جبراً آبرو ریزی کرتے تھے۔

عورتوں کی عصمت دری کرنے کا مقصد اپنی طاقت کا اظہار کرنا تھا۔ غلام عورت پر جنسی تشدد کرکے ان کے والدین، بھائی، بہنوں اور دوسروں کو یہ پیغام دیناہوتا تھا کہ وہ کس قدر بے بس اور کمزور ہیں اور اپنی عورتوں کو بچانے کی  بھی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ عصمت دری کوآج بھی خوف میں مبتلا اور دہشت زدہ کرنے اور اپنی طاقت اور اختیار کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

غلاموں کے مالک اور دیگر سفید فام افراد نے 15 سے 30 سال تک کی عمر کی 58 فیصدغلام عورتوں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے اور اتنے طویل عرصے تک لاکھوں عورتوں کی باقاعدہ آبروریزی کا کوئی اور واقعہ شاید تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ سیاہ فام عورتیں اپنی پسند کی شادیاں نہیں کرسکتی تھیں، جوعورتیں سفید فاموںکے بنائے گئے اصولوں سے انحراف کیا کرتی تھیں انھیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور ان کے ختنے کرنے کے بعد انھیں مار مار کر ہلاک کردیا جاتا تھا۔ ضرورت سے زیادہ بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے کئی طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔

ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان عورتوں کو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم کردیا جاتا تھا، یہ کام اتنے خفیہ انداز میں کیا جاتا تھا کہ متعلقہ عورتوں کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی تھی کہ اب وہ اپنی زندگی میں کبھی ماں نہیں بن سکیں گی۔ 1932 میں آتشک کے مرض کی تحقیق کے لیے سرکاری طور پر غریب اور نادار سیاہ فام امریکیوں کو بھرتی کیا گیا تاکہ ان پر تجربہ کرکے دیکھا جائے کہ اس مرض کا علاج نہ کیا جائے تو اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ یہ تجربے لوگوں کو بتائے بغیر کیے گئے جس کے باعث مرض سیاہ فام عورتوں اور بچوں کو منتقل ہوجاتا تھا۔

سیاہ فام غلام عورتوںنے اس صورتحال کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ انھوں نے جنسی تشدد کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے کیا۔ وہ مظالم سے بچنے کے لیے فرار ہوکر ان علاقوں میں چلی جایا کرتی تھیں جو نسبتاً کم خطرناک ہوتے تھے۔ بہت سی عورتوں نے زمین کے اندر 7 فٹ گہرے غاروں میں پناہ لی، وہیں بچے پیدا کیے اور کئی برسوں تک وہیں چھپی بیٹھی رہیں۔جب بھی سیاہ فاموں کی طرف سے مزاحمت اور شورش کی جاتی تھی تو سیاہ فام عورتیں ان کا بھرپور ساتھ دیا کرتی تھیں۔ وہ باغیوں کو پناہ دیتی تھیں، انھیں کھانا کھلاتیں،ان کے لیے جاسوسی کرتی تھیں اور بعض اوقات سپاہیوں کو ترغیب دے کر ان سے اسلحہ اور گولیاں بھی حاصل کرلیا کرتی تھیں۔

یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن سیاہ فام عورتوں کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بچوں اور آیندہ نسلوں کے اندر امید، زندگی، طاقت اور مزاحمت کے جذبے کو مرنے نہیں دیا۔ ان عورتوںنے اپنا ثقافتی ورثہ بھی انھیں منتقل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر جبر اور ستم کے باوجود سیاہ فام امریکی آج بھی اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہیں، وہ نسل پرست نہیں ہیں بلکہ نسل پرستی کے خلاف مزاحمت میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر ان سیاہ فام غلام عورتوں کا تذکرہ کیا جانا چاہیے، جنھوں نے جرات اور بہادری کی تاریخ رقم کی۔ ان میں ایک نمایاں نام ہیریٹ جیکبس کا ہے۔ انھوں نے غلامی سے نجات کے لیے طویل عرصے تک زبردست مزاحمت کی۔ ان کا مالک انھیں بار بار جنسی زیادتی کانشانہ بناتاتھا، وہ اپنے آقا کے گھر سے فرار ہوکر اپنی نانی کے گھر کی ایک دو چھتی میں رہنے لگی۔ یہ جگہ نوفٹ لمبی اور سات فٹ چوڑی تھی اور یہاں چوہوں  نے اپنا گھر بنایا ہوا تھا۔ ہیریٹ لکھتی ہے کہ یہاں ہوا اور روشنی کا گزر بھی نہیں تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے سوراخ سے اپنے بچوں کو دیکھا کرتی تھی۔ وہ اس دوچھتی میں سات سال تک چھپی رہی جہاں سیدھا کھڑے ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔ وہ نارتھ کیرولینا سے فرار ہوکر نیویارک آگئی جہاں غلامی کے خلاف جاری تحریک کے بہت  سے ہم درد اور کارکن موجود تھے۔

ہیریٹ کا مالک اس کا پیچھا کرتے ہوئے نیویارک تک آپہنچا کیونکہ اس وقت کے قانون کے مطابق فرار ہونے والا غلام خواہ امریکا میں کہیں بھی چلا جائے اس کا مالک اسے قانونی طور پر بازیاب کرنے کا حق رکھتا تھا۔ ہیریٹ جیکبس کی داستان بہت طویل ہے۔ سفید فام دوستوں کی مدد سے اس نے غلامی سے آزادی حاصل کی اور ایک شاندار کتاب لکھی جو امریکی ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہے ۔اس کتاب کا عنوان ’’ایک غلام لڑکی کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات‘‘ ہے۔ اس ادبی شاہ کار کے مطالعے سے وہ تمام تجربات سامنے آجاتے ہیں جن کا سیاہ فام غلام عورتوں نے صدیوں تک امریکا میں سامنا کیا تھا اور ایک نئے انداز میں آج بھی کررہی ہیں۔

ہیریٹ جیکبس کی طرح ولیم اور ایلن کے فرار کی داستانیں بھی حیرت زدہ کردینے والی ہیں۔ ان دونوں نے 1848 میں جارجیا میں شادی کی تھی۔ انھیں ڈرتھا کہ ان کے مالک کہیں انھیں الگ الگ فروخت نہ کر دیں۔ انھوں نے فلاڈلفیا فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اور اپنا بھیس تبدیل کرلیا۔ ایلن کا رنگ کھلتا ہواتھا اس نے اپنے بال کٹوائے اور مردوں کا لباس پہن لیا اور سرپر پٹیاںباندھ لیں تاکہ وہ ایک سفید فام زخمی مرد نظر آئے۔ ولیم کا رنگ گہرا سیاہ تھا، اس نے خود کو زخمی سفید فام مالک کا غلام ظاہر کیا۔ دونوں ٹرین کے ذریعے شمال کے طویل سفرپر روانہ ہوگئے۔ اسی بہروپ میں انھوں نے کئی دنوں تک ٹرین اور اسٹیمر کا سفر کیا، ہوٹلوں میں راتیں گزاریں، کئی بار پکڑے جانے سے بال بال بچے اور بالآخر فلاڈلفیا پہنچ گئے۔ وہ وہاںسے بوسٹن گئے اور مفرور غلاموں کو ڈھونڈنے والوں سے بچ بچاکر برطانیہ جا پہنچے جہاں انھوں نے اپنے سفر کی روداد لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔

امریکیوں کی خاصی تعداد نسل پرستی کے سحر میں آج بھی گرفتار ہے۔ ان میں ادیب اور دانشور بھی شامل ہیں۔ مارگریٹ مچل نے اپنا شہرہ آفاق ناول Gone With The Wind ، غلامی کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے 35 سال بعد لکھا تھا۔ جس کے مطالعے سے غلامی کے دور سے مصنفہ کے ذہنی اور جذباتی لگائو کا  واضح تاثر ملتا ہے۔ جہاں ایک طرف مارگریٹ مچل تھیں تو وہیں دوسری طرف ایک اور سفید فام خاتون الزبتھ بیچر اسٹیو تھیں جنھوںنے’’ انکل ٹامز کیبن ‘‘ جیسا ناول لکھا۔ انیسویں صدی میںچند مہینوں کے اندر یہ ناول تین لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں شایع ہوا، اور پھر اس کی تعدادِ اشاعت اور مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور آج بھی غلامی کے خلاف لکھے جانے والے شاہ کار ناول میں اس کا شمارہوتا ہے۔۔

امریکا کا آنے والا صدارتی انتخاب سفید فام امریکی مردوں اور عورتوں کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ انھوں نے سیاہ فام غلاموں بالخصوص عورتوں پر جو مظالم ڈھائے تھے اس کا مداوا کریں۔ یہ کام صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ امریکا میں موجود نسل پرستانہ رویوں اور رجحانات کو ختم کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امریکی یہ سنہری موقع ضایع نہیں کریں گے اور صدیوں  پرانا حساب بے باق کریں گے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …