بدھ , 5 اگست 2020

گلوان وادی کا معمہ

تحریر:مرتضیٰ شبلی

مودی حکومت کی جانب سے دفعہ 370کی یکطرفہ منسوخی کےبعد بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں وکشمیر سے لداخ کو الگ کرکے وادی کشمیر پر توجہ مرکوز کردی گئی کیونکہ تاریخی طور یہی خطہ بھارتی عملداری کیخلاف جہدوجہد کا مرکز رہا ہے۔ بھارتی اقدامات کیلئے کشمیری یا ان کی جانب سے خود منتخب وکیل پاکستان بالکل تیار نہیں تھے۔ بلکہ ان اقدامات کے فوراً بعد پاکستانی ردعمل اس قدر کنفیوژن سے بھرپور تھا کہ لگتا تھا کہ شاید سب کچھ آئی ایم ایف کی خفیہ شرائط کے تحت ہورہا ہے۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی ادارے اپنی روایتی ذہانت میں اس قدر کھوئےرہے کہ آخر وقت تک بے خبر رہے۔ میری دانست میں سیاچن گلیشیر پر بھارتی فوج کے قبضے کے بعد یہ پاکستان کی دوسری بڑی انٹیلی جنس ناکامی تھی جو اگر کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہوتی تو ایک بہت بڑا طوفان کھڑا ہوگیا ہوتا مگر جہاں ریاست کی ساری صلاحیتیں ربع صدی پیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹوں کی تقسیم میں تکنیکی بے ضابطگیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اخباری مالکوں کو نشانِ عبرت بنانے پر مرکوز ہوں وہاں کشمیر یا وہاں موت کے محاصرے میں رہنے والے کشمیریوں کے بارے میں کوئی سنجیدہ لائحہ عمل ترتیب دینا کیونکر ترجیحات میں شامل ہوسکتا ہے؟ خواجہ سعد رفیق کا الله بھلا کرے جنھوں نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کشمیر کے مختصر ذکر میں اعتراف کیا کہ کشمیر کا سقوط ہوچکا ہے اور حکومتی زبانی جمع خرچ کشمیریوں کیساتھ بھونڈے مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کے ردعمل کے نہ ہونے کی ممکنہ یقین دہانی یا خاموش سرینڈر سے بھارتی وزیراعظم مودی اپنی دانست میں اس حد تک مطمئن نظر آرہے تھے کہ انھوں نے علی الاعلان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بزور طاقت اپنے ساتھ ملانے کی باتیں شروع کردیں۔ یہاں تک کہ ان کے دستِ راست اور وزیر داخلہ امیت شا نے چند ماہ قبل چین کے زیرکنٹرول لداخ کو آزاد کرانے کی بات کی جس کے جواب میں چین نے گلوان وادی میں غیر معمولی کارروائی کی جو ہنوز جاری ہے۔ پہلے پہل جب اخباری اطلاعات میں دعوی کیا گیا کہ چینی فوج بھارت کے زیر انتظام علاقے میں گھس گئی تو بھارتی فوج کی طرف سے کئی روز تک خاموشی اختیار کی گئی۔ شاید اس لئے کہ ان کی دانست میں چین کی فوج گزشتہ واقعات کی طرح چند دنوں میں واپس چلی جائے گی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں طرفین کی فوج ایک دوسرے سے لاتوں، مکوں اور گھونسوں سے لڑتے دکھائی دی۔ کئی دنوں کے انتظار کے بعد بالآخر ڈیفنس منسٹر راجناتھ سنگھ کو بادل نخواستہ اعتراف کرناپڑا کہ چینی فوج بھارتی سرحد کے کافی اندر آئی ہے۔ بعد ازاںبھارتی حکومت نے چین کو بھارتی علاقوں سے نکل جانے کا حکم جاری کردیا۔ اس دوران سفارتی اور فوجی سطح پر مذاکرات ہوتے رہے مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ چین کا مؤقف سخت ہوتا گیا۔ دوسری طرف بھارت کے سرکاری حلقوں کی جانب سے مخاصمت میں بتدریج کمی کا دعوی کیا گیا پھر اچانک خبریں آنا شروع ہوئیں کہ کئی بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے پھر حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی مگر لگ بھگ دو درجن فوجیوں کی لاشوں کو چھپانا ممکن نہ ہوسکا اور کافی ہچکچاہٹ کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں ایک غیر متوقع چینی حملے میں مارا گیا۔ چین نے جوابی دعوے میں بھارتی فوجیوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے وعدے کے برخلاف مذاکرات کی آڑ میں چینی افواج پر حملہ کرکے زمینی حقائق کو بدلنے کی کوشش کی جس کے جواب میں وہ مارے گئے۔ اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوگئے اور بھارتی فوجیوں کے پروفیشنل کردار پر اپنے ہی لوگوں نے انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔ اگر ان پر حملہ ہوا تو ان پر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہونا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ بالکل تیارنہیں تھے اور اگر انھوں نے چینی فوج پر حملہ کردیا جیسا کہ عام خیال ہے تو ان کے خلاف چینیوں کے ردعمل کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ بھارتی فوجی بغیر کسی تیاری کے حملہ آور ہوئے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینیوں نے نہ صرف یہ کہ بہت بری طرح مارا جس سے درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے بلکہ ایک درجن کے قریب گرفتار بھی ہوگئے۔

کئی دنوں کی خاموشی اور اسٹرٹیجک کنفیوژن کے بعد بالآخر وزیراعظم مودی نے اعلان کیا کہ ان کے علاقے میں نہ کوئی گھس آیا اور نہ ہی کسی نے کوئی قبضہ کیا۔ اس اعتراف کے بعد لوگ حیران و پریشان ہیں کہ گلوان وادی میں اگر کچھ نہیں ہوا تو پھر مرنے والے فوجیوں کو کس کھاتے میں ڈالا جائے۔

بشکریہ جنگ اخبار

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …