بدھ , 5 اگست 2020

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

تحریر: سویرا بتول

بزرگوں کا قول ہے کہ ایک  ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہونے پائے، ہم بھی کافی عرصے تک اسی اصول پر کاربند رہے۔ ہمارے محلے میں ایک بڑی بی رہا کرتی تھیں، وہ بغیر کسی معاوضہ کے محلے کے تمام بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں، ہم بھی بڑے شوق سے الٹا سیدھا وضو کرکے شام میں ان کے پاس پہنچ جایا کرتے تھے۔ ہم نے آج تک انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرتے نہیں دیکھا، جبکہ ان کا کوٸی ذریعہ آمدن بھی نہ تھا۔ اولاد ان کی تھی نہیں اور وہ ہم سب کو اپنی اولاد سمجھا کرتیں تھیں۔ محلے کے کچھ لوگ اپنی بساط کے مطابق ان کی مالی مدد کر دیا کرتے تھے۔ کبھی کسی نے کوٸی اچھی چیز پکانی تو ان کا حصہ سب سے پہلے الگ کر کے رکھنا۔

ہماری بڑی بی ہمیشہ کہا کرتی تھیں ”پتر کسی دا ہتھ کدی نہ جھڑکیو“ یعنی اگر کوٸی تمہارے پاس اپنی حاجت لیکر آئے تو اس کی حاجت رواٸی کرنا، نہ کہ اس کے سامنے فلسفہ جھاڑنا۔ پہلے وقتوں میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ اگر گلی کے سلیم چچا کے مالی حالات ناسازگار ہوتے تو محلے کے بوڑھے بزرگ چہرہ دیکھ کر ہی پریشانی بھانپ لیا کرتے تھے اور بغیر کسی کے علم میں لائے غیر محسوس انداز میں مالی مدد کر دیا کرتے تھے۔ یہی حال گھر کی خواتین کا بھی ہوتا تھا۔ اگر پڑوس میں کسی خالہ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی تو والدہ یا کوٸی اور خاتون نہایت رازداری سے ان کی مدد کر دیا کرتی تھیں۔ اس طرح سے کسی کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہوتی تھی اور وہ الگ سے شرمساری سے بھی بچ جاتا تھا۔

مگر یہ تو تھی پرانے وقتوں کی باتیں! کاش آج ہمارے محلے کے وہ بزرگ حیات ہوتے تو ہم ان سے دریافت کرتے کہ بھلا یہ کونسا انفاق فی سبیل اللہ تھا؟ نہ کوٸی سیلفی بناٸی اور نہ وہ انسٹاگرام کی زینت بنی۔ نہ ہی واٹس اپ کا سٹیٹس اپلوڈ کیا اور نہ ہی فیس بک پر پچاس لوگوں کو ٹیگ کرکے داد وصول کی گٸی۔ بھلا یہ کیسی مالی مدد تھی؟؟؟؟؟؟؟ خیر یہ بات ہم آپ کے سامنے کر رہے ہیں، اگر اس وقت بزرگوں کے سامنے منہ کھولتے تو والدہ کی فلاٸنگ چپل حتمی تھی۔ چھوڑیٸے بڑے بڑے شھروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہو جایا کرتی ہیں، اب تو ہم نے بھی دل پر لینا چھوڑ دیا۔ چند روز قبل ایک تصویر دیکھنے کو ملی، سات سے دس لوگ ایک غریب شخص کو پانچ سو کا نوٹ دیتے نظر آئے، ان سب کے چہروں پر فخریہ مسکان تھی، گویا کوٸی قلعہ فتح کرکے آئے ہوں، جس شخص کو رقم دی جا رہی تھی، ہم نے بغور اس کی آنکھوں میں دیکھا، کچھ تھا ان نگاہوں میں، جسے ہم آج تک فراموش نہ کر پائے۔ شاید کرب، اذیت، مفلسی، اک خاموش شکایت یا کچھ اور۔۔۔ یوں لگا جیسے وہ نگاہیں سوال کر رہی ہوں کہ آخر کب تک ہم غریب کی مفلسی کا مذاق اڑاتے آٸیں گے۔

ہم نے خود پر منافقت اور ریاکاری کے اتنے روپ دھار لیے ہیں کہ ان میں کہی مظلوموں اور مفلسوں کی آہیں سنائی نہیں دیتیں۔ جسے قرض حسنہ قرار دیا گیا تھا، وہاں بھی ہم نے منافقت سے کام لیا۔ رضائے الہیٰ کے لیے جو فعل انجام دینا تھا، وہاں بھی ہم نے اپنی ذات کو فوقیت دی۔ بعض لوگ صاحب ثروت و دولت ہونے کے باوجود بھی خلق خدا کی خدمت سے کتراتے ہیں، جبکہ کتنے ہی سفید پوش لوگ موجود ہیں، جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں۔ کہیں مظلوموں کی آہیں ہماری جھوٹی انا کے بتوں کو پاش پاش نہ کر دیں۔ اپنے اردگرد نگاہ کریں، بہت سے لوگ آپ کی امداد کے منتظر ہیں، ورنہ ایسا نہ ہو کہ غریب بھوک سے مر جائے اور ہم سجدے میں سر دیکر اپنی مغفرت کی دعائيں کرتے رہیں۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔(آمین)

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …