بدھ , 5 اگست 2020

انقلابِ اسلامی ایران کے عالمی اثرات

تحریر: حسین نواز جعفری
(موسسہ قرآن عترت ع، لاہور)

کائنات کے حقائق میں سے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عالم ہستی اپنے وجود میں تمام ان چیزوں کیساتھ جو اس پر موجود ہیں، ایک چیز کی مانند ہے، یعنی اس کی ہر چیز دوسری چیز سے وابستہ اور مربوط ہے۔ گویا ایک مشین کی مانند ہے، جس کے مختلف پارٹس ہیں اور ہر پارٹ اپنا کردار ادا کرتا ہے اور ساتھ میں اس کام کی انجام دہی میں دوسرے پارٹس کا محتاج بھی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر دنیا کے کسی کونے میں کوئی قابل ذکر تبدیلی یا انقلاب آجائے تو اس کے اثرات کا دنیا کے دوسرے خطوں تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ لیکن ایک انقلاب سے دنیا کس قدر متاثر ہوتی ہے، اس کیلئے اس انقلاب کے ان تمام پہلووں کو پرکھنا ہوگا، جو اس انقلاب کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار کے مالک ہیں۔ ان پہلووں میں سب سے زیادہ اہم اس انقلاب کے اہداف، آئیڈیالوجی و نظریہ، قیادت و رہبری اور انقلاب میں شریک عوام ہیں۔ جس قدر انقلاب کا ہدف عالی ہو، معقول اور بلند و بالا آئیڈیالوجی کے تناظر میں ہو، ساتھ میں کسی بصیر و خبیر لیڈر اور قیادت کے سائے تلے ہو اور لوگوں کی شرکت بھی اس میں چشمگیر ہو تو ان چار اہم عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس انقلاب کی اہمیت اور تاثیر بہت زیادہ ہوگی، جس قدر ان چیزوں میں کمزوری اور نقص پیدا ہوگا، انقلاب کے اثرات بھی کمزور ہونے کیساتھ ساتھ دیرپا بھی نہیں ہوسکتے۔

انہی چار چیزوں کو آخری صدیوں میں آنیوالے دنیا کے اب تک کے چار اہم اور مشہور انقلابات 1789ء میں فرانس کا انقلاب، 1917ء میں روس کا انقلاب، 1962ء میں الجزائر کا انقلاب اور 1979ء میں ایران کے اسلامی انقلاب میں مشاہدہ کرتے ہوئے انہی کو دنیا پر آنیوالے اثرات کے حدود و ثغور اور انقلاب کی اہمیت اور برتری کیلئے معیار بنا سکتے ہیں۔ انقلاب امام خمینی (رہ) کو بھی ان چار عناصر کے تناظر میں دیکھا جائے اور دنیا کے دیگر انقلابات سے اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو اس کی برتری سب پر عیاں ہوگی۔ 2500 سالہ شہنشاہیت کے جبر و استحصال میں پسی ہوئی ایرانی عوام اپنے اسلامی اقدار کو دن دیہاڑے پامال ہوتے دیکھ رہی تھی اور ہر کوئی جبر کو سہنے میں ہی نجات سمجھ رہا تھا۔

ایسے میں ایک بابصیر قیادت امام خمینی (رہ) کی شکل میں سامنے آئی، جس نے نظریہ ولایت اور نظام ولایت فقیہ کے تحت عدالت اور مساوات کے قیام کو انقلاب کے اہداف میں سے قرار دیتے ہوئے تحریک کا آغاز کیا تو ایرانی باشعور عوام نے امام خمینی (رہ) کی ندا پر صدا لبیک کہتے ہوئے قیمتی جان تک کی قربانیاں پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا اور یوں کئی سالوں کی مسلسل جدوجہد سے یہ اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ جیسے ہی ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو مختلف ممالک میں بھی اس کو آئیڈیل بناتے ہوئے چھوٹی بڑی تحریکیں شروع ہوگئیں اور ہر شخص امام خمینی (رہ) کو آئیڈیل بنا کر انقلاب کا خواہاں نظر آیا۔ غرض ہر انقلاب کے اثرات ہوا کرتے ہیں اور اسی حوالے سے مقالہ حاضر میں امام خمینی (رہ) کے انقلاب کے عالمی اثرات میں سے بعض اثرات کو مختصر طور پر بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

1۔ دینی تشخص کا احیاء
عالم اسلام کے حالات اس قدر بگڑ گئے تھے کہ معاشرے سے دینی اقدار محو ہوتے نظر آرہے تھے، مذہب کو افیون سمجھا جاتا تھا، دینی اقدار کی پاسداری کو دقیانوسیت سمجھتے ہوئے دین اور مذہب کے اقدار و احکام کی پاسداری کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور دیندار لوگ بھی خود کو متدین کہلانے سے کتراتے تھے۔ ایسے میں امام خمینی نے دنیا میں ایسا انقلاب برپا کر دیا، جس کی وجہ سے بے دینی، ماہیت اسلامی اور دینی ماہیت میں بدل گئی۔ اسے دیکھ کر دیگر ممالک کے مسلمان بھی یہی سمجھنے لگے ہیں کہ اسلامی ممالک کی مشکلات کا راہ حل قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہے۔ جہاد اسلامی فلسطین کے معنوی رہبر جناب شیخ عبدالعزیز عودہ کا کہنا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے اثرات میں سب سے اہم اثر دینا کے مختلف ممالک کے مسلمانوں میں بیداری آنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس انقلاب نے جوانوں کے دلوں میں ایمان راسخ کر دیا اور اسلامی تعلیمات سے ان کو آشنا کر دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں اس امید کو زندہ کر دیا کہ مسلمان دوبارہ سے کامیاب ہوکر اپنی پرانی عظمت اور جلال کو حاصل کرتے ہوئے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔

جیسا کہ خود امام خمینی (رہ) نے مولانا ابوالاعلی مودودی سے ملاقات کے دوران فرمایا ”دشمن کی کوشش تھی کہ اسلام کے چہرے کو مخدوش کرتے ہوئے اسے خلع سلاح کرے اور لوگوں کو یہ باور کرائے کہ اسلام سرمایہ داروں کا دین ہے۔ ان کے اس فریب میں بعض مسلمان غافل جوان بھی آگئے۔ پھر اسلامی رہبروں کو جوانوں کی نظر میں بدظن کر دیا، مسلمانوں کے درمیان علاقائی، نسلی اور ملی اختلافات ڈالا اور اس اختلاف سے دشمن نے اسلامی ممالک کے سرمایوں سے خود فائدہ اٹھایا، ایسے میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھائیں اور اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے تو سب اس کے خریدار ہونگے۔“

2۔ اسلامی حکومت کا نظریہ
اکثر مغربی مفکر بلکہ اسلامی مفکروں میں سے بھی بعض کا یہ نظریہ تھا کہ اسلام کے پاس حکومت تشکیل دینے کیلئے کوئی نظریہ نہیں اور یہ اسلام کے بس میں نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حکومت قائم کرسکے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ایک حکومت کیلئے مستقل آئیڈیالوجی کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور موجودہ عصر کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے پاس ایسی آئیڈیالوجی نہیں، جس کی وجہ سے اسلامی حکومت کا قیام ناممکن ہے۔ لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان نظریات اور قیاس آرائیوں پر پانی پھر گیا، نہ فقط اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آیا بلکہ دیگر ممالک کیلئے بھی نظریہ پیش کیا۔ امام خمینی (رہ) کے اس انقلاب نے ثابت کر دیا کہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق مستقل حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے، جو ہر شعبے میں اپنا لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی تناظر میں ظلم و استبداد کے مقابلے میں بہت ساری اسلامی تحریکیں بین الاقوامی سطح پر اُبھر گئیں۔ لندن کے مسلم نیوز میگزین کے چیف ایڈیٹر احمد ورسی کا کہنا ہے کہ بغیر کسی خون خرابہ کے اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلمانوں کے افکار کو بدل دیا اور یہ باور کرایا کہ عالَم اسلام میں ایسا انقلاب ممکن ہے۔ ایک عالم کو مسجد میں بیٹھ کر صرف روحانی باتیں کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے، اب اسلامی رہبر دنیا اور آخرت دونوں کا سوچتا ہے۔ ایک اور جگہ امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں، دشمن نے اسلام کو مساجد اور مدارس کی حد تک محدود کر دیا اور وہ مدارس بھی صدیوں پہلے لکھی جانیوالی اسلامی کتابوں میں محصور ہیں۔ یوں انقلاب اسلامی ایران نے دنیا کو باور کرایا کہ اسلام کے پاس اس کا اپنا مستقل نظام ہے اور اس نظام کے تحت دنیا میں عدل اور مساوات پر مشتمل حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔

3۔ ظلم اور استکبار ستیزی
انقلاب اسلامی ایران کے ثمرات میں سے ایک ظلم اور استکبار کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے۔ 2500 سالہ شہنشاہیت کے مقابلے میں بغیر کسی اسلحہ کے قیام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، لیکن امام خمینی (رہ) نے اس خطرے کو مول لیا اور نتیجہ بھی پا لیا۔ اسی کے پیش نظر فلسطینیوں کا غاصب اسرائیل کے مقابلے میں قیام، اسرائیل کے مقابلے میں 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی کامیابی، عرب ممالک میں بیداری اسلامی کی وسیع تر لہر، یہ سب اسی انقلاب کی استکبار ستیزی کے اثرات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق اور شام میں استکبار جہانی کا حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ (داعش) جب ظلم و ستم کا بازار سجا چکا تھا اور اس کے اثرات ترکی، افغانستان اور پاکستان میں بھی نظر آنے لگے تھے، ایسے میں ایک بار پھر اسی انقلاب اسلامی کے مرہون منت اسلامی ممالک کو اس درندے سے نجات ملی۔

4۔ اسلامی اتحاد کا احیاء
دشمن کی کوشش تھی کہ اسلامی اتحاد پارہ پارہ ہو جائے اور کسی طرح سے بھی مسلمان مل بیٹھ کر عالم اسلام کی مشکلات کا راہ حل تلاش نہ کرسکیں۔ انقلاب اسلامی نے دشمن کی ان سازشوں کے مقابلے میں ہر سال عالم اسلام کے دانشوروں اور مفکروں کو وحدت اسلامی کانفرنس میں دعوت دے کر باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا، جب مسلم دانشور ایک دوسرے سے ملنے لگے اور ایک دوسرے کے نظریات سے آشنا ہوئے تو خود بخود دوریاں کم ہوئیں اور محبتیں بڑھنے لگیں۔ لیکن قسم خوردہ دشمن اب اس محبت کو ہضم نہیں کر پا رہا اور نت نئے پرپیگنڈے کے ذریعے اسلامی بھائی چارے کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہے اور اس سلسلے میں روز بروز مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھتی جا رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیں اور اسلام کی ترویج اور تبلیغ میں شب و روز کوشاں رہیں۔

اس مختصر تحریر میں اتنے ہی اثرات بیان کرنے کی گنجائش تھی، لیکن امام خمینی (رہ) کے اس عظیم انقلاب کے عالمی اثرات بہت زیادہ ہیں اور ہر شعبے کے اپنے الگ اثرات ہیں، جن کی تفصیل جانے کیلئے امام خمینی (رہ) اور انقلاب اسلامی کے بارے میں لکھی گئی مستند اور مفصل کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں۔ آج بھی امام خمینی (رہ) کے حقیقی جانشین حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای(دام ظلہ العالی) اسلامی انقلاب کے اہداف کو داخلی اور عالمی سطح پر پوری آب و تاب کیساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ عالم اسلام کی رہنمائی کیساتھ ساتھ دشمنان اسلام و انسانیت کی سازشوں کا مقابلہ بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ قرآنی نظامِ زندگی و دینِ اسلام کو فتح و نصرت عطا فرمائے، مسلمانوں کو اتحاد و وحدت کی توفیق نصیب فرمائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …