بدھ , 5 اگست 2020

پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم… کس کا ایجنڈا؟

محمد عمران چوہدری

یہ 2018 کے الیکشن سے قبل کا واقعہ ہے، وطن عزیز میں پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کا چرچا تھا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان نے شاہ محمود قریشی پر پارٹی انتخابات میں ہونے والی بدانتظامی کے حوالے سے تندو تیز سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔ شاہ جی نے میزبان کی بات کو تحمل سے سنا اور پھر اپنے جواب سے میزبان کو لاجواب کردیا۔شاہ صاحب کچھ یوں گویا ہوئے۔ ’’آپ بالکل درست فرما رہے ہیں، لیکن آپ جو فرما رہے ہیں یہ سب کچھ چھ حلقوں میں ہوا ہے۔ ہمارے کل 36 حلقوں میں پارٹی انتخابات ہوئے۔ چھ حلقوں میں بدانتطامی ہوئی جن پر ہم انضابطی کارروائی کررہے ہیں۔ لیکن آپ یہ بھی تو بتائیں کہ ہمارے باقی 30 حلقوں میں انتخابات صاف اور شفاف ہوئے، کسی قسم کی کوئی بدانتظامی دیکھنے میں نہیں آئی وغیرہ وغیرہ۔‘‘

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے پارٹی انتخابات کے موقع پر کچھ حلقوں میں بیلٹ باکس کے تقدس کو بری طرح پامال کیا گیا تھا، بعض جگہوں پر تو معروف امیدوار بیلٹ باکس ہی اٹھا کر لے گئے تھے۔یہ واقعہ مجھے گزشتہ کچھ عرصے سے افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے یاد آگیا۔ کچھ لوگ کبھی کرنل/ جنرل کی بیوی، افواج پاکستان کے بجٹ، کسی گمنام ڈاکٹر صاحبہ کی طرف سے خط یا پھر سیکیورٹی اداروں سے وابستہ کسی ایک فرد کی ذاتی غلط حرکت کو بنیاد بناکر پورے ادارے کے خلاف زہر اگلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پوری فوج یا دیگر ادرے ہی غلط ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ فوج ہم میں سے ہے۔

یہ واقعہ مجھے گزشتہ کچھ عرصے سے افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے یاد آگیا۔ کچھ لوگ کبھی کرنل/ جنرل کی بیوی، افواج پاکستان کے بجٹ، کسی گمنام ڈاکٹر صاحبہ کی طرف سے خط یا پھر سیکیورٹی اداروں سے وابستہ کسی ایک فرد کی ذاتی غلط حرکت کو بنیاد بناکر پورے ادارے کے خلاف زہر اگلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پوری فوج یا دیگر ادرے ہی غلط ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ فوج ہم میں سے ہے۔

افواج پاکستان ہمارے ہی والد، بھائی، بیٹوں اور بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس دھرتی کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف دن رات نبرد آزما ہیں۔ اور اس پاک دھرتی کی حفاظت کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ افواج پاکستان یا دیگر سیکیورٹی اداروں سے وابستہ کسی ایک فرد کی ذاتی غلط حرکت کو بنیاد بنا کر پوری فوج یا ادارے کے خلاف غلیظ زبان استعمال نہ کی جائے۔ اور ایسا کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی جائے بلکہ اپنی اعلیٰ تربیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھے الفاظ میں ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ انہیں یہ یاد دہانی کروائی جائے کہ یہ صرف ایک فرد کی ذاتی حرکت ہے۔ یعنی اگر فرض کریں کہ افواج پاکستان کی کل تعداد 500000 لاکھ ہے تو ایک فرد نے غلط حرکت کی ہے بقیہ چار لاکھ 99 ہزار افراد تو درست ہیں۔ راہ راست پر نہ آنے کی صورت میں خود الجھنے کے بجائے ایسے واقعات سائبر کرائم سے متعلقہ اداروں کے نوٹس میں لائے جائیں۔

اور آخر میں اداروں کے ذمے داران سے بھی گزارش ہے کہ جیسے محترم باجوہ صاحب نے ’کرنل کی بیوی‘ کے واقعے کا نوٹس لے کر بہت سی گرجتی توپیں خاموش کروادیں، ایسے ہی اداروں سے وابستہ افراد میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو یقینی بنانے اور ایسے واقعات کے خاتمے کےلیے کسی فرد کی معمولی سے غیر اخلاقی حرکت پر سخت ترین انضابطی کارروائی کی جائے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …