پیر , 8 مارچ 2021

نائجیریامسلمانوں کو فلسطینی کاز کی حمایت کی سزا مل رہی ہے

انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے جنرل سکریٹری نے نئی دہلی سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ نائجیریا میں گزشتہ ہفتے وہاں کے مسلح افواج کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں پر وحشیانہ حملے کی خبر سن کر ہر باضمیر مسلمان کا دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ نائجیریا کی مسلح افواج کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ہے، اس سے پہلے بھی عالمی یوم القدس کی ریلی پر مسلمانوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی زد میں متعدد مسلمان شہید ہوئے جن میں وہاں کے مذہبی رہنما الشیخ ابراہیم زکزکی کے تین جوان بیٹے بھی شامل ہیں۔ نائجیریا میں اس طرح مسلمانوں کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ وہاں کے مسلمان فلسطین اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں پر ہو رہے مظالم پر چپ نہیں بیٹھتے بلکہ متحدہو کر آواز اٹھاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اسلام دشمن طاقتور کے لئے نائجیریا کی اسلامی تحریک (Islamic Movement) ایک دردسر بن گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلام دشمن طاقتیں جن میں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور ان کے اتحادی سرفہرست ہیں قطعا بھی نہیں چاہتے کہ مسلمان متحد ہوجائے اور اس وقت مسلم اقوام خصوصا فلسطین پر جاری تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ لہذا ان کی ہر ممکن کوشش رہتی ہے کہ مسلمانوں کی آواز کو دبایا جائے اور ان میں کسی بھی طرح پھوٹ ڈالیں۔ نائجیریا میں گزشتہ دنوں جو حملہ مسلمانوں پرہوا ہے وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ تازہ ترین حملے میں نائجیریا میں اسلامی تحریک (Islamic Movement) کی ایک مذہبی تقریب کو وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا اور اسلامی تحریک کے سینکڑوں نہتے اراکین کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا ہے۔ اسلامی تحریک کے سربراہ جناب الشیخ ابراہیم زکزکی کو زخمی حالات میں گرفتار کر کے نامعلوم جگہ پر غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے سامنے ان کے بیٹے سمیت سینکڑوں افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ سال یوم قدس کی ریلی میں الشیخ ابراہیم زکزکی کے تین بیٹوں کو فلسطینوں کی حمایت کے جرم میں شہید کیا گیا تھا۔ نائجیریا کی مسلح افواج کے ہاتھوں اس بربریت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسرائیلی اشاروں پر ایسے لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنارہی ہے جو فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور قبلہ اول کی پاسداری کے لئے آواز اٹھاتے ہیں، انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور بیت المقدس کی حمایت میں آواز بلند کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے لئے نائجیریا جیسے مسلمان ملک میں بربریت اور ظلم و جبر کی ایسی تاریخ رقم کی جائے کہ آسمان بھی خون کے آنسوں روئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نائجیریا میں اسلامی تحریک کے متاثرین کے صبرو حوصلہ کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم مسلمان اس بات سے آگاہ ہیں کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے تانے بانے امریکہ اور اسرائیل میں بنتے ہیں اور دنیا بھر میں موجود ان کے نمک خوار ایجنٹ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ کے بیج بوتے ہیں۔ لہذا ان سازشوں سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کو اتحاد اور وحدت کا راستہ اپنانا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان کے سیاسی وفد کا دورہ ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کا ایک سیاسی وفد …