بدھ , 5 اگست 2020

کیا ترکی اسلام کی طرف واپس آرہا ہے؟

تحریر: ثاقب اکبر

بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اردوان کا ترکی کمال اتاترک کے ترکی سے بہت مختلف ہے۔ اس کا تازہ ترین شاہد استنبول میں تاریخی آیا صوفیہ کی میوزیم کی حیثیت ختم کرکے اسے مسجد میں تبدیل کر دیا جانا ہے۔ اس کے بارے میں گذشتہ جمعہ کو ترکی کی عدالت نے فیصلہ کیا تھا۔ یہ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کہلاتی ہے۔ اسے اعلیٰ انتظامی عدالت کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے مطابق 1934ء میں آیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت کا ختم کیا جانا اور اسے میوزیم بنایا جانا غیر قانونی تھا۔ تصفیے کی دستاویز میں اسے مسجد کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ لہٰذا قانونی طور پر اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد صدارتی حکم سے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس موقع پر صدر اردوان نے کہا کہ آیا صوفیہ کا نیا جنم مسجد اقصیٰ کی آزادی کا مژدہ دیتا ہے۔ یاد رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس مقام پر کلیسا قائم کیا گیا تھا، جسے بعدازاں عثمانی دور میں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

اردوان کا ترکی عثمانی دور کو اپنے روشن ماضی کے لیے پیش کرتا ہے۔ اس دور میں عثمانی سلطنت کو سنہرے ماضی کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے، اس حوالے سے ترکی سے آنے والے ڈرامے اور فلمیں، ترکی کی نئی قیادت کے نئے ارمانوں کا پتہ دیتی ہیں۔ 2015ء میں دینی ثقافت اور اخلاق کا موضوع ترکی کے مدارس کے نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے بعد عربی حروف تہجی کی تعلیم بھی شروع کر دی گئی۔ عثمانی دور میں ترکی زبان کا رسم الخط یہی تھا۔ یہ رسم الخط جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے تبدیل کرکے لاطینی الف با کو رائج کیا تھا۔ اردوان کا کہنا تھا کہ مخالفین پسند کریں یا نہ کریں، ترکی میں عثمانی زبان کی تدریس کی جائے گی۔ اردوان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی اسلام کے حامی اور علمبردار ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں فتح اللہ گولن کی تحریک کا پیغام اسلامک ہیومنزم (Islamic Humanism) پر مبنی ہے اور وہ سیاسی اسلام کے مخالف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن اور اردوان کے مابین معرکہ آرائی کی یہی بنیادی وجہ ہے۔ امریکہ اور یورپ اسی لیے فتح اللہ گولن کی حمایت کرتے ہیں اور امریکہ نے اب تک اسی لیے انھیں اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔

2010ء میں ترکی سے غزہ کی بندش کے زمانے میں غزہ کی طرف جانے والے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کر دیا تھا۔ اس وقت ترکی فلسطینیوں کے بڑے حامی کی حیثیت سے سامنے آیا اور یہ کہا جانے لگا کہ اسرائیل اور ترکی کے دیرینہ تعلقات اب اسی طرح ختم ہو جائیں گے جیسے امام خمینی کے برسراقتدار آنے کے بعد شاہ کے زمانے سے قائم ایران کے تعلقات اسرائیل سے ختم ہوگئے تھے۔ بظاہر اب بھی صدر اردوان فلسطینی حقوق کے علمبردار ہیں، ان کا آیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت سے بحالی کے موقع پر مذکورہ بیان اسی پس منظر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ پر، لیکن کیا تصویر کا یہی ایک رخ ہے یا دوسرے رخ پر کچھ اور بھی ہے۔ اس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ممکن ہے کہا جائے کہ ترکی آہستہ آہستہ اتاترک کے زمانے سے نکل رہا ہے، اس لیے ابھی کچھ ماضی کی باقیات موجود ہیں۔ بہرحال دوسرے رخ کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، تاکہ بات ساری کی ساری سامنے آجائے۔

ترکی 1949ء سے امریکی قیادت میں قائم سیاسی و فوجی اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن جسے عرف عام میں نیٹو کہتے ہیں، کا رکن چلا آرہا ہے۔ اس وقت اس اتحاد کے 29 ممبر ہیں۔ اسی اتحاد کے رکن کی حیثیت سے ترکی کے فوجی دستے افغانستان میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔ نیٹو کے فوجی اڈے ترکی میں موجود ہیں۔ ترکی نے امریکی افواج کو ترک سرزمین پر میزائل ڈیفنس شیلڈ قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ شام میں ترکی کی کارروائیوں کو نیٹو کی زبانی حمایت حاصل ہے۔ تاہم ترکی کا مطالبہ ہے کہ نیٹو فوجی سطح پر ترکی سے تعاون کرے، لیکن امریکہ کو شام اور عراق میں جس عوامی مزاحمت اور پے در پے ہزیمت کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر نیٹو ترکی کی عملی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ ویسے بھی نیٹو کا ماضی یہی ہے کہ اگر مسلمان آپس میں لڑ رہے ہوں تو وہ تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے۔ 2010ء میں فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے مابین تعلقات میں کسی حد تک تعطل آگیا تھا، جو تین سال بعد ایک نئی قرارداد کے نتیجے میں ختم ہوگیا۔

بہرحال اس دوران میں بھی ترکی اور اسرائیل کے مابین ثقافتی، سیاسی اور کھیل کے شعبوں میں روابط جاری رہے۔ سفارتی سطح پر تعلقات کم درجے پر آگئے تھے، جو بعد میں بحال ہوگئے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی حجم پانچ بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ کارگو سروس دونوں ملکوں کے مابین جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین دیرینہ عسکری تعلقات بھی قائم ہیں۔ دونوں ملکوں کی فوجیں آپس میں فوجی مشقیں بھی کرتی رہتی ہیں۔ ترکی کے صدر اردوان کے بیٹے کی تجارتی کمپنیوں کا لین دین اسرائیل کے ساتھ جاری ہے۔ دونوں نے نیٹو اور یو این او میں باہمی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ ترکی نے اسرائیل کو معاہدے میں یقین دہانی کروا رکھی ہے کہ وہ آئندہ غزہ سے رابطے کے لیے اسرائیل کو پیشگی اعتماد میں لے گا۔ کرونا کے دور میں ترکی نے اسرائیل کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں روز بروز پیشرفت جاری ہے۔ اسرائیل نے ترکی سے تعلقات کی بحالی کو ایران کے مقابلے کے لیے ایک کامیابی قرار دیا، جس پر الزام ہے کہ وہ حماس اور اسلامی جہاد جیسی تنظیموں سے تعاون کرتا ہے، جنھیں اسرائیل دہشتگرد قرار دیتا ہے۔

ایران کی فلسطینی مزاحمت کی عملی مدد کے مقابلے میں ترکی جیسے ایک اہم اسلامی ملک کی فلسطین کے لیے زبانی حمایت اسرائیل کے مفاد میں ہی سمجھی جاتی ہے، اس لیے عملی طور پر اسرائیل کو ترکی کے بیانات سے کوئی خوف نہیں، وہ بیان کے مقابلے میں ایک بیان دے کر بظاہر حساب برابر کر لیتا ہے اور دنیا پر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے مابین فلسطین کے مسئلے پر گرما گرمی پائی جاتی ہے۔ ترکی کے طرز عمل کو دیکھا جائے تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری مقاومت اور مزاحمت کے مقابل دکھائی دیتا ہے، اگرچہ اس مزاحمت اور ترک حکومت کے مابین بعض مشترکات بھی موجود ہیں، جن کے پیش نظر تعاون کی کچھ کھڑکیاں کھلی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ اس قصے کا الگ باب ہے، جسے یہاں کھولنے کی فی الحال گنجائش نہیں۔ ایسے میں اس سوال کا جواب ہمارے قارئین خود دے سکتے ہیں کہ کیا ترکی اسلام کی طرف واپس آرہا ہے؟ ہماری آرزو یہی ہے کہ ہم اس سوال کا جواب ہاں میں دیں، لیکن اس کے لیے ترکی کو نیٹو سے نکلنا ہوگا اور اسرائیل کے مقابلے پر اسی طرح خم ٹھونک کر کھڑا ہونا ہوگا، جس طرح امام خمینیؒ کا ایران کھڑا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …