بدھ , 5 اگست 2020

مسئلہ فلسطین کی حمایت شرعی فریضہ ہے، انصاراللہ

یمن کی اسلامی مزاحتمی تحریک کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کوکسی بھی صورت میں فراموش نہیں کریں گے۔ابلاغ نیوز نےتسنیم خبررساں ادارے کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن کی اسلامی مزاحتمی تحریک کے رہنما «علی القحوم» نے المیادین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حماس کے گرفتار شدہ اسیروں کے بدلے سعودی اہلکاروں کو رہا کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔

القحوم نے کہا کہ یمنی غیور عوام مسئلہ فلسطین کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور کسی بھی صورت میں فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔انہوں نے عرب ممالک سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تمام عرب ممالک سنچری ڈیل نامی منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے متحدہ ہوجائیں۔انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہم فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور کسی بھی قیمت پر اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔انہوں نے سعودی حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کے فیصلے امریکا میں ہوتے ہیں اور سعودی حکام کسی بھی فیصلے میں خودمختار نہیں ہیں اور وہ خطے میں امریکی مفادات کے لئے کام کررہے ہیں۔انہوں نے سعودی عرب کو ایک بار پھردھمکی دیتے ہوئے کہا اگر یمن کا محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو یمنی قوم آل سعود کو سبق سکھائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے مختلف اہم علاقوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فلسطین کی اسلامی مزاحتمی تحریک کے رہنما نے انصاراللہ کے نام خط میں فلسطین کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔یاد رہے کہ سعودی عرب نے حماس کے متعدد افراد کو گرفتار کررکھا ہے، انصاراللہ کے رہنما «عبدالملک الحوثی» نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے گرفتار شدہ اسیروں کی رہائی کے بدلے سعودی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہیں۔اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حماس کے اراکین امریکا کے کہنے پر گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان میں عام سوگ، فضا سوگوار

بیروت: تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دھماکے میں اب تک 100 افراد کے جاں بحق …