منگل , 11 اگست 2020

ایران شام اسٹریٹجک فوجی معاہدہ اور ممکنہ اثرات

تحریر: حسن کاظمی قمی
(عراق میں ایران کے سابق سفیر)

گذشتہ ہفتے بدھ کے دن اسلامی جمہوریہ ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے شام کا دورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے حوالے سے ایک اہم اور بنیادی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران اور شام کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینا اور درپیش خطرات اور چیلنجز سے مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ اس معاہدے کی روشنی میں دونوں ممالک کی مسلح افواج مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں گی۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ نے خطے کے مختلف ممالک میں پراکسی وارز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ امریکہ تکفیری دہشت گرد عناصر کی مدد سے خطے میں اپنی مخالف حکومتوں کا تختہ الٹنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ یہ امریکی منصوبہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و امان کیلئے شدید خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی قومی سلامتی اور خطے میں امن و امان کے استحکام کی خاطر اس خطرناک امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کی ٹھان لی۔ لہذا اسلامی مزاحمتی بلاک کی صورت میں عراق اور شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ اس وقت شام کے اکثر علاقے تکفیری دہشت گرد عناصر کے قبضے سے آزاد ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی جاری ہے۔

شام میں فوجی اور سکیورٹی بحران کی شدت کم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی فضا کھلتی چلی جا رہی ہے دیگر شعبوں میں سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ البتہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا لہذا اس گروہ سے مقابلہ کرنے والی قوتیں اپنی پوری طاقت سے میدان میں حاضر رہنی چاہئیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کا ایک مثبت نتیجہ ایران، شام اور عراق کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں باہمی تعاون کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ سرکاری سطح پر ان تینوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کے نتیجے میں عراق اور شام میں قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے عوامی فوج معرض وجود میں آئی ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک نتیجہ ہے جو مستقبل میں خطے کی سکیورٹی اور استحکام مضبوط بنانے میں انتہائی بنیادی کردار کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کے درمیان فوجی اور دفاعی شعبوں میں طے پانے والے معاہدے نے ثابت کر دیا ہے کہ دونوں حکومتیں کسی قسم کے بیرونی دباو کے بغیر اپنے قومی مفادات کے تناظر میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح یہ معاہدہ خطے اور دنیا کیلئے بھی اس اہم پیغام کا حامل ہے کہ مغربی ایشیا میں سیاسی استحکام صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

لہذا مغربی ایشیا خطے کے باقی ممالک کو بھی یہی طریقہ کار اپنانا چاہئے اور خطے میں امن و امان اور سیاسی و سکیورٹی استحکام کیلئے بیرونی طاقتوں سے امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ خطے کے ممالک آپس میں فوجی اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے خطے کی سلامتی اور تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے کا استحکام علاقائی سطح پر استوار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں خطے کو اپنی سلامتی اور استحکام کیلئے بیرونی قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ آج خدا کا شکر ہے کہ قابض قوتیں خطے کو درپیش خطرات کا بہانہ بنا کر اپنے مفادات کیلئے فوجی موجودگی یقینی نہیں بنا سکتے۔ ایران اور شام میں طے پانے والے فوجی معاہدے کا ایک رخ تکفیری دہشت گرد عناصر اور ان کی حامی قوتوں کی واضح شکست ہے۔ شام میں عوام کی حمایت یافتہ حکومت گرانے کیلئے شروع ہونے والی سازشوں کو دس سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور آج دس سال کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام حکومت دیگر ممالک کے ساتھ سرکاری معاہدے انجام دینے پر قادر ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان دس برس کے دوران شام حکومت نے درپیش تمام سیاسی، سکیورٹی اور فوجی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

ایران اور شام اسلامی مزاحمتی بلاک کے دو اہم رکن ہیں۔ یہ دونوں ممالک اسلامی مزاحمتی بلاک کو مزید مضبوط اور طاقتور بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور شام کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں باہمی تعاون کا فروغ اسلامی مزاحمتی بلاک کو مزید مضبوط بنائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی مفید ثابت ہو گا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کی مسلح افواج ایکدوسرے کے ملک میں آمدورفت کر سکیں گی اور یوں خطے میں فتنہ انگیزی اور بدامنی پیدا کرنے کی خواہاں قوتیں مایوس ہوں گی۔ دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر فوجی تعاون کے نتیجے میں بیہودہ قسم کے دعوے بھی ختم ہو جائیں گے۔ فوجی شعبے میں باہمی تعاون ملٹری، نیوی، فضائیہ، دفاعی اقدامات اور فوجی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر مشتمل ہو گا۔ اس وقت شام کو درپیش اہم خطرہ جو بدستور برقرار ہے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے میزائل حملے ہیں۔ لہذا دفاعی اقدامات بھی دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا اہم حصہ ہیں۔ ایران فضائی دفاع کے شعبے میں بہت زیادہ صلاحیتوں کا مالک ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی یہ صلاحیتیں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے شام کو بھی فراہم کی جائیں گی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …