بدھ , 12 اگست 2020

لبنان امریکی نشانے پر

اداراتی نوٹ
لبنان میں حزب اللہ اور اس کی حامی قوتوں، جس میں حکومت میں شامل کئی دھڑے بھی شامل ہیں، وہ ہمیشہ حزب اللہ کی حمایت میں رہے ہیں۔ اس وقت بھی لبنان میں برسراقتدار وزیراعظم حسان وہاب اور اس کی کابینہ کو حزب اللہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ لبنان میں اقتدار میں شامل گروہوں اور حکومتی وزراء، وزیراعظم پر ہمیشہ امریکہ کا یہ دباؤ رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی حمایت ترک کر دیں، لیکن حزب اللہ کی افادیت اور حزب اللہ کی قیادت کی حکمت عملی ہمیشہ کامیاب رہی ہے اور امریکہ تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت اور حزب اللہ کو ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں لا سکا۔

آج کل امریکہ نے لبنان پر اقتصادی دباؤ بڑھا دیا ہے اور صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکہ عالمی بینک سے لبنان کو قرضہ لینے کے راستے میں بھی روڑے اٹکا رہا ہے۔ ورلڈ بینک یا کسی عالمی ادارے کی عدم امداد سے لبنان میں کرنسی کا بحران روز بروز شدت پکڑ رہا ہے۔ امریکہ نے کرنسی کے اس بحران سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ پروپیگنڈہ کیا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان میں موجود تمام ڈالرز شام منتقل کر دیئے ہیں، جس سے لبنان میں کرنسی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ امریکہ عالمی بینک یا کسی اور ادارے سے ڈالروں کو لبنان نہیں پہنچنے دے رہا۔

امریکہ اقتصادی بحران پیدا کرکے لبنان کی حکومت کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ حزب اللہ سے سیاسی اتحاد ختم کر دے۔ لبنان میں اس وقت امریکہ سے نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، یہاں تک کہ لبنان کی عدلیہ کے ایک جج نے امریکی سفارتکار پر لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے جرم میں اس پر پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ کسی میڈیا سے گفتگو یا انٹرویو نہیں کرسکتا۔ اسی طرح بیروت میں امریکی سفارت خانے کے سامنے بھی کئی بار مظاہرے ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے اقتصادی دباؤ بڑھا کر لبنانی عوام پر دباؤ بڑھایا ہے، لیکن دوسری جانب لبنانی عوام امریکہ کے اس رویئے پر سراپا احتجاج ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …