بدھ , 12 اگست 2020

ایک اور فتنہ

تحریر: سویرا بتول

گذشتہ دنوں خبر ملی کہ پاکستان میں عارضی طور پر پب جی پر پابندی عاٸد کر دی گٸی ہے۔ پب جی کے مضر اثرات اور اس کی بندش کے اسباب کو کسی اور تحریر میں بیان کریں گے۔ ابھی اس سے زیادہ سنگین مسٸلہ درپیش ہے اور وہ ہے ٹک ٹاک کا فتنہ۔ جسے عصر حاضر کا سب سے بڑا فتنہ کہا جاۓ تو مغالطہ نہ ہوگا۔ یہ آفت ستمبر 2016ء میں آٸی اور دو سال کے مختصر عرصہ میں خاص طور پر مسلم ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گذشتہ برس 2019ء میں پاکستان میں سب سے زیادہ ڈاؤنلوڈ ہونے والی ایپ کا درجہ بھی اسی کو حاصل ہے۔ اسے سب سے زیادہ استعمال کرنے والے جوانوں کی عمر 15 سے 21 سال ہے اور اب دیکھا دیکھی میں نہ صرف گھریلو خواتین بلکہ مرد بھی اسی دوڑ میں شامل ہیں۔

اس سے فحاشی، عریانیت اور بے حیاٸی میں اضافہ ہوا۔ بے ہودہ فلموں اور ڈراموں کے ڈاٸیلاگ کی نقل میں فحش ویڈیوز نہ صرف بناٸی جا رہی ہیں بلکہ چند ہی سیکنڈز میں پوری دنیا میں واٸرل بھی ہو جاتی ہیں۔ یعنی پہلے گناہ چھپا کر کیا جاتا تھا، اب اعلانیہ گناہ کو تقویت مل رہی ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں۔ جس مذہب نے عورت کی آواز کے بھی پردے کا حکم دیا ہے، اب وہ ٹک ٹاک پر ناچتی اور اپنے بے ہودہ فن کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ کوٸی امیر ماں باپ کی بگڑی ہوٸی اولادیں نہیں بلکہ معزز اور دینی گھرانوں کے بچے اور بچیاں ہیں جن کے والدین صوم و صلواة کے پابند اور دینی احکامات پر من و عن عمل کرتے ہیں۔ جھوٹی شہرت کی آرزو اور جاہ طلبی نے انسان سے صیحح اور غلط کا فرق چھین لیا ہے، غیر حقیقی دنیا اور کروڑوں کی فین فالوننگ کے چکر نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔

ٹیلنٹ کے نام پر بے راہ روی، لہو و لعب، بے پردگی، مادہ پرستی، ہوس اور جذبہ شہوت کو فروغ دیا گیا، جس نے معاشرتی رویوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ فحاشی کا ایسا بازار گرم ہے کہ حیاء کو بھی حیاء آجائے اور شیطان بھی اپنی شیطانیت پر شرما جائے۔ اپنی صلاحيتوں کو بروئے کار لانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں، جس پر روبعمل ہوا جاسکتا ہے، ضروری نہیں اس کے لیے نسلوں کا سودا کیا جائے۔ یہ سب ہماری اخلاقیات، مشرقی روایات اور اسلامی اقدار پر کاری ضرب ہے اور ہم اپنی آٸندہ نسل کو ذلت و بربادی کی جس دلدل میں دھکیل رہے ہیں، وہاں سے واپسی ناممکن ہے۔

ایک لمحے کے لیے سوچیے، ایسی ماٸیں بہنیں اگلی نسلوں کی کیا تربیت کریں گی؟ پھر ٹیپو سلطان جیسے غیرت اور دفاع اسلام پر مر مٹنے والے کہاں سے پیدا ہوں گے؟ ہم نے تو اغیار کو ستر پوشی، حیاء و عفت کا درس دینا تھا، کہیں یہ سب لفظی نام نہ رہ جاٸیں۔ حیرت ہے کہ اب تک ہم پر قہر الہیٰ نازل کیوں نہ ہوا؟ جناب لوط کی قوم فقط بدفعلی کے نتیجے میں عذاب کی مستحق ٹھہراٸی گٸی اور ہم نے تو بے راہ روی میں سابقہ اقوام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ کہنا کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے ریپ اور جنسی استحصال میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے تو یہ نہایت احمقانہ سوال ہے۔ اس سب کے بعد جنسی جرائم اور جنونیت کا نہ رکنے والا ایسا سلسلہ شروع ہوگا، جس پر آپ اور ہم فقط ماتم کرسکیں گے اور کچھ نہیں۔خدا ہم سب کو عزتوں کا محافظ بنائے۔(آمین)

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …