ہفتہ , 15 اگست 2020

بیرونی قوتوں کی بے جا مداخلت اور لیبیا کے بحران میں شدت

تحریر: احمد کاظم زادہ

2011ء کے بعد عوامی بغاوت کا شکار ہونے والے ممالک میں سے لیبیا کا شمار ان محدود ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب بھی خانہ جنگی جاری ہے۔ اب بھی اس ملک میں جاری سیاسی اور سکیورٹی بحران کے خاتمے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال کی وجہ لیبیا کے اندرونی تنازعات اور خانہ جنگی کے علاوہ بعض بیرونی قوتوں کی مداخلت بھی ہے جن میں علاقائی اور عالمی قوتیں شامل ہیں۔ لیبیا میں جاری قومی بحران اور اندرونی تنازعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی نے اس ملک پر نصف صدی کے قریب حکومت کرنے باوجود وہاں قوم سازی کا عمل انجام نہیں دیا تھا اور لیبیائی عوام کو چھوٹے چھوٹے جزیروں اور ٹکڑوں میں تقسیم کر کے رکھا ہوا تھا۔ دوسری طرف اس ملک میں مداخلت کرنے والی بیرونی قوتیں بھی سب اپنے اپنے مخصوص اہداف کے درپے ہیں۔ ان قوتوں کے اہداف و مقاصد اور مفادات میں پائے جانے والے تضاد کے باعث لیبیا اندرونی طور پر شدید انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے۔ اس ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئے ایک دہائی ہو چکی ہے اور اس وقت بھی یہ آگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اس وقت لیبیا میں دو بڑے محاذ ایکدوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر ان دونوں دھڑوں کو آشیرباد دینے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے ایک دھڑا قومی متحدہ حکومت ہے جسے اقوام متحدہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ لیکن چونکہ اس حکومت کا جھکاو اخوان المسلمین اور ایسے گروہوں کی جانب ہے جو ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ ہیں لہذا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کے شدید مخالف ہیں۔ قطر زیادہ تر قومی متحدہ حکومت کی مالی امداد کرتا ہے جبکہ ترکی نے اس کی فوجی امداد کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ اس مقصد کیلئے ترکی نے لیبیا کے مختلف مقامات پر فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور وہاں اپنے فوجی بھی بھیج رکھے ہیں۔ ترکی لیبیا میں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے انجام پانے والے اقدامات میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ حتی نیٹو میں اپنے اتحادی ملک فرانس اور شام میں اپنے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ملک روس کے ساتھ اس کے تعلقات بھی شدید کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ترکی لیبیا میں اپنے اقدامات کی بدولت فرانس اور روس کے ساتھ جنگ کی حد تک بھی گیا ہے۔

یوں دکھائی دیتا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان گذشتہ ایک عشرے کے دوران مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں مسلسل ناکامیوں کا ازالہ لیبیا میں کرنا چاہتے ہیں۔ شام کے مسئلے میں ترک صدر کو ابوزیشن کی جانب سے بعض تحفظات اور اختلافات کا سامنا تھا لیکن لیبیا کے بارے میں انہیں ایسی مشکلات کا سامنا نہیں ہے جس کے باعث وہ لیبیا میں فوجی موجودگی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب رجب طیب اردگان نے کرونا کے بعد پہلا غیرملکی دورہ کرتے ہوئے قطر کا سفر کیا تو واضح ہو گیا تھا کہ انہوں نے لیبیا میں جدید اقدامات کیلئے قطر کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ لیبیا میں ترکی اور قطر کے باہمی اتحاد کی جانب سے کچھ حد تک کامیابیاں حاصل کرنے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ چونکہ ان کا اتحاد صرف دو ممالک پر مشتمل ہے لہذا کم وقت میں اہم فیصلے انجام دینے پر قادر ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں موجود سعودی اتحاد بہت زیادہ ممالک پر مشتمل ہے اور کثیر تعداد میں اتحادیوں کے درمیان مفادات کا ٹکراو بھی زیادہ پایا جاتا ہے جس کے باعث ان کے فیصلے بہت آہستہ اور طویل مدت میں انجام پاتے ہیں۔ یہ انتشار اتحاد میں شامل گروہوں کے اندر میں قابل مشاہدہ ہے۔

نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان بھی لیبیا کے بارے میں یکسان موقف نہیں پایا جاتا۔ مثال کے طور پر امریکہ لیبیا کے دونوں فریقین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں دائیں بازو کے شدت پسند عناصر کی موجودگی کی روشنی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ امریکی حکومت لیبیا میں امن و امان اور سیاسی استحکام نہیں چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقین سے رابطہ رکھ کر ملک میں خانہ جنگی جاری رکھنے کے درپے ہے۔ فرانس قومی متحدہ حکومت کے مقابلے میں جنرل حفتر کی حمایت میں مصروف ہے۔ اسی وجہ سے حال ہی میں ترکی اور فرانس بحیرہ قلزم میں فوجی ٹکراو کے قریب پہنچ گئے تھے۔ دوسری طرف اٹلی سراج کی سربراہی میں قومی متحدہ حکومت کا حامی ہے۔ اسی طرح جرمنی لیبیا میں اقوام متحدہ کی پالیسیوں اور موقف کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر جنرل حفتر کے شدید حامی ہیں اور متحدہ قومی حکومت کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ان کی حمایت سے جنرل حفتر تیزی سے دارالحکومت کی جانب پیشقدمی میں مصروف تھا اور اگر ترکی متحدہ قومی حکومت کی حمایت میں لیبیا میں فوجی مداخلت نہ کرتا تو اس حکومت کی سرنگونی یقینی تھی۔ مندرجہ بالا صورتحال میں لیبیا میں جاری سیاسی و سکیورٹی بحران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے اور مستقبل قریب میں اس کا ممکنہ حل بھی بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …