بدھ , 5 اگست 2020

پاکستانی قومی اسمبلی میں دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام کے لیے دو اہم قانونی بلوں پر بحث

اسلام آباد: پاکستانی قومی اسمبلی میں دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام کے لیے دو اہم قانونی بلوں پر بحث کی جا رہی ہے۔ابلاغ نیوز کے مطابق اس قانون سازی کا مقصد ایف اے ٹی ایف سے اس شعبے میں ٹھوس اقدامات سے متعلق پاکستانی عزم کا اظہار ہے۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 کے نام سے تعزیراتی قانون میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ان قانونی مسودوں میں دہشت گردی کی مالی اعانت روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون کی دفعہ دو، چھ، نو اے اور گیارہ او میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ اس بل میں ‘مالی دہشت گردی‘ کی وضاحت کی گئی ہے، جس کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے غیررسمی طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ نئے قانون کے تحت بڑی رقوم کی غیر رسمی منتقلی کے مرتکب افراد سے پوچھ گچھ کے لیے سکیورٹی اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس نئے بل میں ایسے کسی ملزم کو تین ماہ کے لیے تفتیش کی غرض سے قید میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان قانونی مسودوں کی منظوری قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی پہلے ہی دے چکی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے گرے لسٹ میں شامل ہے۔ اس فہرست سے نکلنے کے لیے پاکستانی حکومت نے عالمی برادری کے تقاضوں کی تکمیل کا وعدہ کر رکھا ہے۔

گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اس سلسلے میں اقدامات کے لیے دی گئی مہلت میں اضافہ کر دیا تھا۔ اب پاکستان کے اس عالمی گرے لسٹ میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق گفتگو عالمی مالیاتی واچ ڈاگ کے اکتوبر کے مجوزہ اجلاس میں ہو گی۔ ایف اے ٹی ایف نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد حکومت سے کہا تھا کہ وہ 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرے۔یہ بات اہم ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ممالک کی فہرست میں ‘گرے لسٹ‘ میں ڈال دیا تھا۔ ستمبر 2019 میں اس سلسلے میں ایک نظرثانی میں پاکستان کو 27 نکات کی ایک فہرست دی گئی تھی اور تب سے پاکستان کو دی جانے والی مہلت مختلف وجوہات کی بنا پر آگے بڑھائی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان میں عام سوگ، فضا سوگوار

بیروت: تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دھماکے میں اب تک 100 افراد کے جاں بحق …