منگل , 11 اگست 2020

کيا بھارت کی چين سے دوری امريکا سے قربت کی ضامن ہے؟ رپورٹ

بھارت اور چين کے مابين کشيدگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ البتہ کئی ماہرين کا کہنا ہے کہ امريکا کی چين اور پاکستان کے خلاف سخت پاليسی سے بھارت خوش ہے اور چين کے ساتھ کشيدگی در اصل واشنگٹن اور نئی دہلی کے ليے موقع ہے۔

بھارتی وزير خارجہ نے کہا ہے کہ چند ماہ سے جاری شديد کشيدگی کے بعد بھارتی اور چينی افواج سرحدی پوسٹوں سے پيچھے ہٹ رہی ہيں۔ سبرامنيم جے شنکر نے يہ بيان ہفتے کو ديا۔ ايک روز قبل بھارت ميں تعينات چينی سفير نے بھی کہا تھا کہ فوجی کمانڈرز کی ملاقات ميں طے پانے والے معاہدے کی شرائط کے تحت دونوں ممالک کی فوجيں پيچھے ہٹ رہی ہيں۔ چينی سفير سن وائی ڈونگ نے جمعے کو يہ بھی کہا تھا کہ دونوں اقتصادی قوتوں کو کشيدگی بڑھانے کے بجائے اتحاديوں کی طرح کام کرتے ہوئے کشيدگی ميں کمی لانی چاہيے۔

بھارتی اہلکاروں کا دعوی ہے کہ دونوں روايتی علاقائی حريف ملکوں کے مابين تازہ کشيدگی مئی ميں اس وقت شروع ہوئی، جب چينی فوجيوں نے لداخ ميں بھارت کے زير کنٹرول تين مختلف مقامات پر دھاوا بول ديا اور ان پر قبضہ کر ليا۔ پھر وادی گلوان ميں پندرہ جون کو دونوں افواج کے مابين جھڑپ بھی ہوئی اور اس ميں بھارت کے کم از کم بيس فوجی ہلاک ہوئے۔ چين نے اپنے فوجيوں کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہيں کيں۔ شديد کشيدگی کے تناظر ميں دونوں ملکوں نے اپنے ہزارہا فوجی اور بھاری عسکری ساز و سامان سرحدی پوسٹوں پر منتقل کر ديا تھا۔

جمعے دس جولائی کو ويڈيو لنک کی مدد سے منعقدہ ايک ملاقات ميں دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے کشيدگی ميں کمی کے ليے اٹھائے گئے تازہ اقدامات کا جائزہ ليا۔ اس ملاقات کے بعد بھارتی وزير خارجہ سبرامنيم جے شنکر نے يہ بيان ديا کہ فوجيں پيچھے ہٹ رہی ہيں۔ گو کہ جے شنکر کا مزيد کہنا تھا کہ يہ ايک طويل مرحلہ ہے اور اس ميں وقت لگ سکتا ہے ہے کيونکہ دونوں اطراف کی بھاری نفری تعينات ہے۔

چين بھارت کشيدگی، امريکا اور بھارت کے ليے ايک موقع

کئی ماہرين کی نظر ميں چين اور بھارت کے مابين حاليہ کشيدگی واشنگٹن اور نئی دہلی کے ليے ايک موقع ہے۔ ‘ووڈرو ولسن انٹرنيشنل سينٹر فار اسکالرز‘ سے وابستہ مائيکل کوگلمين کے مطابق دونوں ايشيائی ممالک کے مابين کشيدگی امريکا اور بھارت کے تعلقات کے ليے اچھی خبر ہے۔ انہوں نے کہا، ”پہلے بھارت کو امريکا سے قربت دکھانے ميں اس ليے ہچکچاہٹ ہوتی تھی کيونکہ وہ چين کو نالاں نہيں کرنا چاہتا تھا تاہم اب ايسا ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔‘‘

‘ہڈسن انسٹيٹيوٹس انیشی ايٹوو آن دا فيوچر آف انڈيا اينڈ ساؤتھ ايشيا‘ سے وابستہ اپارنا پانڈے کہتی ہيں کہ ‘بھارت، چين اور روايتی حريف پاکستان کے حوالے سے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت پاليسی سے خوش ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ماضی کے مقابلے ميں کہيں زيادہ قريب ہيں ليکن ديکھنا يہ ہے کہ آيا يہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کو اگلے مرحلے تک لے جا سکيں گے۔

 

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …