منگل , 11 اگست 2020

امریکا سے تنگ دنیا کی روس اور چین سے توقعات

تحریر: محمد سلمان مہدی

دنیا میں مثبت تبدیلیوں کے خواہشمند اور خاص طور پر موجودہ عالمی نظام کے فریم ورک کے اندر تبدیلی کے خواہشمند افراد امریکی مغربی بلاک سے بیزار ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی قیادت میں کام کرنے والا بین الاقوامی مغربی بلاک انسانیت دشمن جنگوں اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر عمل کرتے آئے ہیں۔ اس لئے یہ طبقہ پرامید رہتا ہے کہ مغربی بلاک کے مقابلے میں روس اور چین بین الاقوامی تعلقات میں انسان دوست مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار کریں گے۔ کیونکہ چین اور روس کو بھی بہت سے ایشوز پر امریکی بلاک کی جانب سے انہی مسائل کا سامنا ہے، جو بہت سے مسلمان و عرب ممالک، لاطینی امریکی اور بعض افریقی ممالک کو ہے۔ لیکن ان دیگر ممالک اور روس و چین کے مابین ایک بہت بڑا فرق ہے۔ روس اور چین دونوں ہی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کے مستقل اراکین ہیں، یعنی حق استرداد کے حامل ویٹو پاور۔ عالمی سطح کا کوئی بھی فیصلہ روس یا چین دونوں میں سے کسی ایک کے ویٹو کر دینے سے قانونی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔

اقوام متحدہ کی تاریخ میں زیادہ تر امریکا نے حق استرداد یعنی ویٹو پاور کو استعمال کیا ہے اور امریکی ویٹو ووٹ زیادہ تر اسرائیل کے خلاف عالمی اقدامات کو روکنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس لئے ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر مسلمان و عرب ممالک اور لاطینی امریکی ممالک کی روس اور چین سے توقعات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن چین اور روس دونوں ہی ان توقعات پر پورا اترنے میں تاحال کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔ اس ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ روس اور چین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لارے لپے میں آکر فیصلہ کن مرحلے میں مایوس کن قدم اٹھا کر اپنے چاہنے والوں کو بھی مایوس کر دیتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ترکی اور شام کے مابین 2 بارڈر کراسنگ کھلی رکھنے کے فیصلے میں ایک سال کی توسیع کا معاملہ ہے۔ اس ضمن میں امریکی مغربی بلاک کی جانب سے جرمنی اور بیلجیم نے ایک قرارداد پیش کی۔ ہوا یوں کہ جب پہلی مرتبہ یہ قرارداد پیش کی گئی تو سات جولائی 2020ء کو روس اور چین نے شام کے معاملے پر شام مخالف ممالک کی غیر منصفانہ قرارداد کو اس فورم پر ویٹو یعنی مسترد کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل میں دس غیر مستقل اراکین اور بقیہ تین مستقل اراکین یعنی امریکا، برطانیہ اور جرمنی نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے تھے۔ لیکن روس اور چین نے ویٹو کر دیا۔ لیکن 4 دن بعد یعنی 11 جولائی 2020ء کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے جرمنی اور بیلجیم کی جانب سے اسی ایشو پر ترمیم شدہ قرارداد منظور کرلی۔ اس کے تحت شام کی ایک بارڈر کراسنگ کو کھلا رکھنے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد منظور کرلی۔ سبب اس کا یہ تھا کہ چین اور روس دونوں نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ سبھی کو معلوم ہونا چاہیئے کہ شام ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، اس کی سرحدی گذرگاہ پر اس کا قانونی اختیار تسلیم نہ کرنا خود اقوام متحدہ کے اپنے قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ انٹرنیشنل لاء کی رو سے شام کے کسی بھی حصے پر کوئی بھی امداد شام کی حکومت کی اجازت سے ہی پہنچائی جانی چاہیئے۔ لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شام پر مسلط پراکسی وار کی وجہ سے اقوام متحدہ اپنے ہی اصولوں کو فراموش کرتا آرہا ہے۔ شام کے بحران کے آغاز میں اس وقت امریکا کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے شام کوفی عنان کو ڈکٹیشن دیا کرتیں تھیں۔ ہیلری کوفی عنان کو بتایا کرتیں تھیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیئے۔ یہ حقیقت ہیلری نے اپنی خود نوشت ہارڈ چوائسز میں تحریر بھی کی ہے۔

روس اور چین دونوں ہی پس پردہ امریکی اتحاد کی سرگرمیوں سے آگاہ ہیں۔ اس کے باوجود روس اور چین کا ردعمل بہت ہی دھیما رہا ہے۔ امریکا نے تو اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کا بھی دفاع کیا ہے، لیکن روس اور چین شام کی قانونی حکومت کی قانونی مدد میں بھی اتنی گرمجوشی دکھانے میں ناکام رہے ہیں، جو امریکا اپنے دوست اور اتحادی کے لئے دکھاتا ہے۔ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ شام کی قانونی حکومت کو بائی پاس کرنے والے ہر غیر قانونی عمل کا راستہ روکنے کے لئے وہ اس قرارداد کو بھی ویٹو کر دیتے۔ شام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے نام پر امریکی اتحاد شامی حکومت کے مخالفین کو امداد پہنچانے کے لئے ترکی اور شام کے مابین دو بارڈر کراسنگ کھلی رکھوانا چاہتا ہے۔ روس کا کہنا تھا کہ ایک بارڈر کراسنگ کھلی رکھی جائے اور وہ بھی فقط 6 ماہ کے لئے۔ پہلے مرحلے میں روس اور چین نے ویٹو کرکے دنیا کو خوش کر دیا۔ لوگ سمجھے کہ تبدیلی آگئی ہے۔ چلو روس اور چین نے شام ایشو پر ایک اور مرتبہ ڈٹ کر امریکی مغربی بلاک کا مقابلہ کرکے اسے ناکام بنا دیا۔ لیکن چار دن بعد امریکی مغربی اتحاد کے لارے لپے جیت گئے اور شام کی آزادی و خود مختاری قربان کر دی گئی۔ بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنے کے لئے روس اور چین کو مستقل مزاج رہتے ہوئے مقاومتی سفارتکاری کرنا چاہیئے۔

روس اور چین نے 19 جون 2020ء کو ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی ایران کے خلاف قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ حالانکہ وہ قرارداد منظور ہوگئی، کیونکہ وہاں کسی کو ویٹو اختیار نہیں۔ اس اجلاس میں حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی نے ایران کے خلاف قرارداد کی مخالفت کرنے کی بجائے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ ویسے تو بھارت اور پاکستان دونوں ہی ایک دوسرے کے شدید مخالف تصور کئے جاتے ہیں۔ مگر، وہاں دونوں نے ایک جیسا عمل کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت، امریکی دباؤ اور پاکستان، سعودی و اماراتی دباؤ کے آگے ڈھیر ہوچکے ہیں۔ ایران پاکستان کا ایسا پڑوسی ملک ہے، جس نے مسئلہ کشمیر پر غیر مشروط حمایت کر رکھی ہے۔  بھارت ایسا ملک ہے، جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتا ہے اور چابہار بندرگاہ پر سہولیات حاصل کر رہا ہے۔ یہاں روس اور چین کے ووٹ سے ایران کو فائدہ تو نہیں ہوا، لیکن سفارتی لحاظ سے یہ ایران کی ایک بڑی کامیابی ضرور تھی۔ ساتھ ہی یہ پاکستان حکومت کے لئے بھی ایک پیغام تھا۔ چین کا ایران کے حق میں ووٹ ڈالنا یعنی امریکی بلاک کی مخالفت پر مبنی ایران کی حمایت میں ووٹ ڈالنا پاکستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔

اب اطلاعات یہ ہیں کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں بھی چین نے ایران کو ساتھ ملا لیا ہے۔ ساتھ ہی ایران میں سرمایہ کاری میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہہ چکے کہ چابہار میں اب بھارت کی جگہ چین کو ترجیح دی جائے گی۔ کیا پاکستان حکومت چین اور ایران کے اس اشتراک عمل سے بہرہ مند نہیں ہوگی!؟   19 جون 2020ء عالمی سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا اشارہ کرتے ہوئے گذر گیا۔ اس کے بعد 7 جولائی 2020ء بھی بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم دن کی حیثیت سے گذرا، لیکن 11 جولائی 2020ء بین الاقوامی سفارتکاری میں کمپرومائز کا دن تصور کیا گیا۔ البتہ روس اور چین ہی کی وجہ سے اردن اور عراق کی طرف سے شام میں باردڑ کراسنگ کو شام مخالف قوتوں کے لئے بند کروانا ممکن ہوسکا ہے۔ ممکن ہے کہ چین اور روس کا ایران اور شام کا ساتھ دینا وقتی تبدیلی سمجھا جائے، لیکن غالب امکان یہ ہیں کہ تبدیلی مستقل بھی ہوسکتی ہے۔ عالمی رائے عامہ کا موڈ روس اور چین کی قیادت کے سامنے ہے۔ دنیا کو روس اور چین سے بہت سی توقعات ہیں، کیونکہ تبدیلی کے خواہشمند کی نظر میں فوری مثبت تبدیلی بین الاقوامی سیاست کی ان دو بڑی طاقتوں پر منحصر ہے۔ چین نے ایران کے ساتھ تجارتی اور فوجی شراکت داری کے لئے ایک 25 سالہ منصوبہ بنا رکھا ہے۔ آجکل عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کا بہت چرچا ہے۔ چار سو بلین ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری و تجارت کا اعلان بہت پہلے کیا جاچکا تھا۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ اس میں عسکری شعبے کا اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن فریقین نے مغربی و سعودی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پھیلائی گئی خفیہ شق سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔  یعنی نہ تو کوئی خفیہ شق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جزیرہ دیا جا رہا ہے۔

چین کا پاکستان کے ساتھ سی پیک اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اسی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک حصہ ہے، جس میں ایران سمیت خطے کے بہت سے ممالک شامل ہیں۔ لہٰذا پاکستانی قوم بھی ریاستی حکام سے امید رکھتی ہے کہ ایک دوسرے سے جڑے ان منصوبوں کے پیش نظر امریکی اتحاد کی پروپیگنڈا مہم کا بھی سدباب کریں۔ چین اور ایران کے مابین چار سو بلین ڈالر مالیت کی تجارت و سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے لئے بھی بہترین موقع ہے کہ گوادر اور چابہار جڑواں بندرگاہوں کے ذریعے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دے۔ صرف پاکستان اور ایران ہی کو نہیں بلکہ وینزویلا، کیوبا، بولیویا تک، عراق و لبنان و یمن تک سبھی روس اور چین سے توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ عالمی اداروں میں کمپرومائزنگ رویہ ترک کرکے سخت موقف اپنائیں۔ یمن میں بلاجواز جنگ ختم کروانے میں بھی کردار ادا کریں۔ افغانستان میں امریکی موجودگی پر ایک اصولی موقف یہی ہے کہ اس ملک کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ اس کی آزادی و خود مختاری کا تقاضا ہے کہ امریکا افغانستان سے بھی انخلاء کرے۔ جس طرح لبنان و عراق نے امریکا کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ دیگر اقوام کا بھی موڈ یہی ہے۔ روس اور چین ان اقوام کی رائے کا احترام کریں اور دنیا میں امریکی اتحاد کی مسلط کردہ لاقانونیت کو ختم کروانے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ کم سے کم ان ممالک کا ساتھ تو دیں کہ جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امریکی اتحاد کی سامراجیت و مداخلت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …