بدھ , 12 اگست 2020

توجہ دو اور کام کرو

تحریر:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پچھلے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں عقل و فہم و خوش اخلاقی یا انکساری پر چند واقعات بیان کئے تھے سوچا بس اتنا ہی کافی ہے۔آئیے آج ملک کے نامور کامیاب بینکر جناب سراج الدین عزیز (سراج بھائی) کی عقل و فہم سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے کئی اعلیٰ کتابیں تحریر کی ہیں جو جواہر پارے ہیں اور اگر ان کے مشوروں پر عمل کیا جائے تو اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ان کے دو مضامین پر آ پ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

(1)پہلا انہوں نے واٹس ایپ اور فیس بک پر ڈالا ہے، اس آرٹیکل کا عنوان ہے Leadership in the midst of Covid-19 یعنی کورونا وائرس کی تباہی کے دوران لیڈر شپ کا امتحان۔ سراج بھائی فرماتے ہیں کہ کسی بھی لیڈر کی صلاحیتوں کا صحیح امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ملک کو انجانے راستوں، سمتوں سے نمٹنا پڑے۔ پچھلے سال کے آخری تیسرے مہینوں میں پوری قوم 2020کی آمد کا بہت اُمیدوں کیساتھ انتظار کر رہی تھی کہ معاشی حالت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پرمضبوط کر لیا جائے گا، حکمرانوں کی پوری توجہ معیشت، عوام کی حالت میں بہتری، بیروزگاری میں کمی یا خاتمہ، مہنگائی وغیرہ پر ہوگی اور کچھ قابو پالیا جائے گا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ ایک نہایت خطرناک وائرس کورونا وائرس۔ 19کی شکل میں ہم پر نازل ہوجائے گا جو خطرناک شکل اختیار کرلے گا۔ پہلے یہ چین کے شہر ووہان (میں وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ 30سال پہلے گیا تھا۔ وہاں بہت بڑی جھیل ہے جس کو ایسٹ لیک کہتے ہیں) سے شروع ہوگا اور پھر چند ہفتوں میں یورپ اور شمالی اورجنوبی امریکہ کو بُری طرح لپیٹ میں لے لے گا اور معیشت پر تباہ کن اثرات نمودار ہوں گے۔ اس نے جو تباہی پھیلائی اس نے تمام ملکوں کی معیشت کا ستیاناس کردیا، ہزاروں لوگ ہفتوں میں مر گئے اور اسکول، یونیورسٹیاں، فیکٹریاں بند ہو گئیں۔ کروڑوں لوگ بےروزگار ہو گئے۔ یہاں عام روایت کے بموجب چین نے نہایت سخت احتیاطی تدابیر کرکے اس پر قابو پالیا۔

دیکھیے کچھ تو وزیراعظم کے مبہم بیانات نے اور کچھ اہلکاروں کی خراب کارکردگی نے عوام کی کمر توڑ دی اور حزبِ اختلاف کے ایک لیڈر نے تو وزیراعظم پر سخت تنقید کی کہ وہ فیصلہ کرنےکی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بہرحال عزیز بھائی نے بہت سی باتوں پر توجہ دلا کر کام کی بات کہی کہ ایک سوچ یا نظریہ بغیر مناسب پلان کے ایک خواب بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا مدینہ کی ریاست بنانے کے نعرےمیں جان نہیں۔ وہاں انصاف کا بول بالا تھا (یہاں انصاف عنقا ہے اور بدانتظامی اور رشوت خوری کی بھرمار ہے)۔ یہ ایک وہم اور خام خیالی ہے کہ لیڈر صرف ایمانداری کی رٹ لگاتا رہے۔ اس پر عمل کرنے کیلئے ٹھوس و سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکمراں کو چاہئے کہ وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر بحث کرے اور یہ دیکھے کہ کیا قابلِ عمل اور قابلِ قبول ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ سمجھ بوجھ کی بات ہے جبکہ کورونا وائرس کو عام فلو (نزلہ زکام) کہنا عقلمندانہ نہیں بلکہ نہایت غیرعقلمندانہ بات تھی۔دیکھیے کورونا وائرس کے خاتمہ کی فی الحال کوئی اُمید نہیں ہے اور اس سال اور اگلے سال نہایت خطرناک امراض سے نمٹنا پڑے گا۔ وزیراعظم کو نئی جارحانہ اور کامیاب پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ اس سے کام نہیں بنے گا کہ وزرا صرف تقریریں کرتے رہیں، ان کی تقاریر کا بالکل اُلٹا اثر ہورہا ہے۔

(2)دوسرا اہم مضمون مینجمنٹ پر لکھا گیا ہے۔ عزیز بھائی نے اس کا عنوان Need and control of ambition رکھا ہے اور اسکو ہمارے ہردل عزیز روزنامہ دی نیوز نے شائع کیا ہے۔ عزیز بھائی اپنے مضامین میں نفسیات کا بھی استعمال کرتے ہیں مثلاً انہوں نے آرٹیکل شروع یہ کہہ کر کیا کہ انسان کو اولوالعزم یعنی(Ambitious) ہونا چاہئے۔ انسان کو آگے بڑھنے، کچھ حاصل کرنے کیلئے اس کی سخت ضرورت ہے۔ میں نے چند سال پہلے ایک بات، قول، کہا تھا جو جو وائرل ہوگیا تھا وہ یہ تھا کہ خواب وہ نہیں جو آپ کو سوتے میں آئے، خواب وہ ہے جو آپ کو کچھ حاصل کرنے کے لئے سونے نا دے۔ دیکھئے ایک اعلیٰ کارکردگی کے لئے ایک قابل، تجربہ کار، پُرجوش، نڈر لیڈر کی ضرورت پڑتی ہے اس کو اپنےماتحت افرادسے زیادہ کام لینے کی کی مہارت ہونی چاہئے۔ اگر اس کے ساتھیوں کو یہ احساس ہوجائے کہ ہمارا لیڈر ہم سے زیادہ جانتا ہے تو وہ خودبخود اسکی عزّت کرنے لگیں گے۔ میرے اپنے کیس میں یہی پوزیشن تھی مجھے سب سے زیادہ معلومات تھیں میں کام میں ان کی رہنمائی کرتا رہتا تھا میں نے 25برسوں میں صرف ایک شخص کو کھڑے کھڑے نکال دیا تھا اور سفارشوں کے باوجود اس کو واپس نہیں لیا۔ دراصل اس نے لنچ کے وقت ڈرائیوروں کو کھانا نہیں دیا اور گالیاں دیں۔ میں جب ڈیلفٹ (ہالینڈ) میں ماسٹرز کے آخری سال میں تھا تو ہمارے ڈپارٹمنٹ میں ایک پروفیسر نے ایک لیکچر شروع کیا اس کا تعلق صنعتی مینجمنٹ اور سائیکالوجی سے تھا اسے میں نے فوراً جائن کرلیا۔ بہت نفیس پروفیسر تھا اس نے کہا کہ اگر تمہیں ذمّہ دارانہ عہدہ دیا جائے تو کبھی کسی سے سختی یا بدتمیزی سے بات نا کرنا اور دوئم اپنے اسٹاف کا خود سے زیادہ خیال رکھنا۔ میں نے دل سے اس پر عمل کیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔آخرمیں صرف اتنا عرض کرنا ہے جو میں ہی نہیں عوام بھی چاہتے ہیں کہ توجہ دو اور کام کرو۔

بشکریہ جنگ اخبار

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …