بدھ , 12 اگست 2020

سترھویں صدی کے نامعلوم مصنف کی زندہ تحریر!

ممتاز ادیب اور فکشن نگار قرۃ العین حیدر کا ناول “کارِ جہاں دراز ہے” شاید آپ نے بھی پڑھا ہو۔ ان کی اس سوانحی تصنیف میں ایک ایسی تحریر سے اقتباس بھی شامل ہے جس کا مصنف نامعلوم ہے۔

کہتے ہیں یہ تحریر سترھویں صدی کے کسی مفکر اور دانا کی ہے جو انگلستان کے ایک قدیم گرجا گھر سے ملی تھی۔ یہ اقتباس ہم آپ کے لیے یہاں نقل کر رہے ہیں۔

’’شور اور ہنگامے میں سے پُرسکون گزرو۔ اور یاد رکھو کہ امن خامشی میں ہے۔ خود کو جھکائے بغیر سب سے نبھائو۔ اپنی سچائی کو شانتی اور صراحت کے ساتھ بیان کرو اور دوسروں کی سنو خواہ وہ لوگ غیر دل چسپ یا کم علم ہی کیوں نہ ہوں، کیوں کہ ان کے پاس بھی ان کی کہانی موجود ہے۔

چھچھورے لوگوں سے احتراز کرو کہ وہ روح کے لیے ناگوار ہیں اور اگر تم نے اپنا موازنہ دوسروں سے کیا تمھارے اندر نخوت یا تلخی پیدا ہو جائے گی، اپنے کارناموں اور منصوبوں سے لطف اندوز ہو، اپنے کام اور فرضِ منصبی میں دل لگائو خواہ وہ کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو کیوں کہ تھارا ہنر ہی وہ شے ہے جسے گردشِ ایام کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔

اپنے معاملات میں سوجھ بوجھ سے کام لو۔ دنیا مکروفریب سے پُر ہے۔ لیکن اہلِ دنیا کے چھل کپٹ سے دل برداشتہ ہو کر اچھے انسانوں کی نیکیوں کو نظر انداز نہ کرو۔

بہت سے لوگ ہیں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ نصب العین کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اور ہر جگہ زندگی دلاوری سے معمور ہے۔ تم جو خود ہو، وہی رہو مصنوعی جذبات کا اظہار نہ کرو۔ نہ محبت کے متعلق کلبیت کا رویہ اختیار کرو کیوں کہ ساری خشک سالی اور مایوسیوں کے درمیان محبت سدا بہار گھاس کی مانند اگتی رہتی ہے۔

گزرتے برسوں کے مشوروں کو نرم مزاجی سے قبول کرو۔ اور نوعمری کے مشاغل سے وقار کے ساتھ دست بردار ہونا سیکھو۔ اپنی اندرونی قوت کو پروان چڑھائو جو کسی اچانک مصیبت کے وقت تمھارے کام آسکے۔ لیکن توہمات سے خود کو پریشان نہ کرو کہ بہت سے خوف اور خدشے درماندگی اور تنہائی کی وجہ سے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔

ایک معقول حد تک ضبط وتوازن قائم کرکے اپنی ذات سے نرمی برتو۔ اپنے اوپر بلاوجہ ظلم نہ کرو اور یاد رکھو کہ زمین کی گھاس اور آسمان کے درخشاں ستاروں کی طرح تم بھی کائنات کے بچے ہو اور چاہے تمھاری سمجھ میں یہ بات نہ آوے، مگر کائنات متواتر اور پیہم اپنے اسرار منکشف کررہی ہے چناں چہ جو بھی تمھارا تصور خدا کے متعلق ہے، راضی برضائے پرورد گار ہو جائو اور زندگی کی پرُشور الجھنوں کے درمیان اپنی روح کے ساتھ امن سے رہو کیوں کہ اپنی تمام بیہودگیوں اور کلفتوں کے باوجود دنیا بڑی خوب صورت جگہ ہے۔‘‘

یہ بھی دیکھیں

پچیس ذیقعدہ کا دن نزول رحمت اور فرش زمین بچھنے کا دن ہے

حضرت امام رضا علیہ السلام جب خراسان کے سفرکے دوران 25 ذیقعدہ کو مرو پہنچے …