ہفتہ , 15 اگست 2020

امریکی صدر سے کوئی معاہدہ نہیں ، مارک زکربرگ

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے سچ بتا دیا۔مارک زکربرگ نے بتایا کہ امریکی صدر سے ایک معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت ڈونلڈ ترمپ کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس کی اجازت دی گئی ہے یہ تمام تر بے بنیاد باتیں ہیں۔مارک زکربرگ نے کہا میں نے ایسی قیاس آرئیاں سنی ہیں مگر میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، درحقیقت اس کا خیال ہی مضحکہ خیز ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں قبل مارک زکربرگ اور امریکی صدر کے درمیان کسی قسم کی مفاہمت کا خیال گزشتہ ماہ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا۔

جس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دونلڈ ٹرمپ کو فیس بک میں ہر قسم کی پوسٹس کی آزادی ہے۔دوسری جانب یاد رہے کہ مئی میں جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد امریکا بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران امریکی صدر کی مختلف پوسٹس کو ٹوئٹر نے تشدد بھڑکانے کے حوالے سے پالیسیوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ہٹایا یا فلیگ کیا تھا، مگر مارک زکربرگ نے انہیں ہٹانے یا فلیگ کرنے سے انکار کیا تھا۔

اس ہی وجہ سے اس فیصلے پر متعدد کمپنیوں نے فیس بک کو دیئے جانے والے اشتہارات روک دیئے تھے۔مارک زکر برگ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رات کے کھانے میں شریک تھے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی قسم کا معاہدہ تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے ماضی میں ان واقعات کی بھی نشاندہی کی جس میں فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا اور ان ذرائع پر بھی روشنی ڈالی جس کے زیرتحت موجودہ انتطامیہ کی اسکروٹنی کی جاتی ہے۔واضح رہے مارک زکربرگ نے بتایا کہ وہ وقتاً فوقتاً ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے میں رہے ہیں اور مزید کہا کہ یہ سب جھوٹی باتیں ہو جو سوشل میڈیا پر پھیل ئی جا رہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دنیا کا پہلا آف لائن مترجم ایئربڈ

واشنگٹن: دنیا بھر میں اب حقیقی وقت میں ایک سے دوسری زبان میں ترجمہ کرکے …