جمعرات , 15 اپریل 2021

مائنس ون اور پنجاب بچاؤ تحریک

تحریر: منصور آفاق

آج کل اپوزیشن اور میڈیا عمران خان پر موسلادھار بارش کی طرح برس رہے ہیں حتیٰ کہ مائنس ون کی ژالہ باری تک پہنچ چکے ہیں مگر دوسری طرف سے چھتریاں بہت کم ہیں۔اسد عمر ہے شہباز گل ہے، قاسم خان سوری ہے ،شبلی فراز حکومتی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہیں مگر باقی پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا شامیانہ کہیں نظر نہیں آتا۔سب اپنی اپنی وزارتوں کےسائبان تلے چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف بھی ،جب سے وہ آئے ہیں ایک شور بپا ہے جو پنجاب بچائو تحریک تک جا پہنچا ہے۔اس وقت عمران خان چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں مگر اُن کا میڈیا ونگ کمزور ہے، ٹیم بہتر نہیں، خود ان کے پاس تو اپنے کارکنوں کے لئے وقت نہیں۔

یہ بات کارکن سمجھتے ہیں۔ اس وقت کارکنوں کو اگر کسی سے امید ہے تو وہ اسد عمر ہیں۔ کارکن توقع رکھتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو اپنے اردگرد جمع کریں اور ان کی رہنمائی کریں گے اسمبلی میں موجود نوجوان ایم این ایز بھی انہی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔عمران خان بھی اسد عمرپر سب سےزیادہ اعتماد کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کےوہ کارکن جنہوں نے دھرنے میں آسمان تلے راتیں گزاریں جو عمران خان کے ساتھ وزیرستان گئے۔ ہر جلسے میں شریک ہوئے۔ ہر جلوس میں موجود رہے۔

جو عمران خان کےنعرے لگاتے ہوئے جوان ہوئے اور اب بڑے ہو چکے ہیں وہ تما م منتظر ہیں نئے پاکستان کے، وہ اس نئے پاکستان میں اپنا کردار ادا کر نا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے سونامی کی ان لہروں کو کون ترتیب دے گا۔وقت کے سمندر میں ڈوب کیسے موتی تلاش کرنے ہیں۔ میرے خیال میں اسد عمر سے بہتر اور کوئی شخص نہیں جو اس وقت یہ کام کر سکتا ہے۔ میڈیا کے معاملات میں انہیں دخل دیناچاہئے۔

دوسری طرف پنجاب میں نون لیگ نے پنجاب بچاؤ تحریک کا اعلان کیا ہے، پی ٹی آئی کے اندر جو عثمان بزدار کے مخالفین ہیں وہ ذرا غور کریں کہ نون لیگ اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہے اس سے بڑ ھ کر عثمان بزدار کی کامیابی اور کیا ہو گی۔ وزیراعلیٰ کی کارکردگی جانچنے والے اب بتائیں کہ نون لیگ کیوں عثمان بزدار سے پریشان ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کاشہباز شریف سے موازنہ کرنے والے اب حیران کیوں ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کچھ کام ایسے کئے ہیں جن سے ان کی لگن، محنت، نیت، قابلیت اور دور اندیشی صاف نظر آتی ہے۔ اب تو یہ ثابت ہو گیا ہے ملک کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں بہترین چوائس ہیں۔

پنجاب میں تو خیر بے تحاشا کام ہو رہے ہیں مگرعثمان بزدار وہ پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں جن کی جانب سے بین الصوبائی ہم آہنگی کیلئے بلوچستان میں 100بستروں کا ہسپتال اور زائرین کیلئے تافتان میں کمیونٹی سینٹر کے قیام کےلئے فنڈ دیےگئے۔ جنوبی پنجاب میں بڑے کام کئےڈی جی خان میں ایسی لوکیشن پر دل کا اسپتال بنایا تاکہ پنجاب کے ساتھ بلوچستان کے عوام بھی اُس سے مستفید ہو سکیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نون والے پنجاب بچائو تحریک سےکسے بچانا چاہتے ہیں۔ لاہورمیں پچھلےدس سالوں میں جب بھی بارش ہوئی۔ پچھلےوزیراعلیٰ شہباز شریف نےلانگ بوٹ پہن لئے اور گھر سے باہر آگئے۔ لاہور کی سڑکوں پر بنے تالابوں میں اترے، تصویریں بنوائی اور واپس جاتی امرا تشریف لے گئے۔ لوگ اس بات کو پسند کرتے تھےکہ ہمارا وزیراعلیٰ ہمارے ساتھ پانی میں کھڑا ہے مگر عثمان بزدارنے ہمیشہ کےلئےلانگ بوٹ کا رواج ہی ختم کردیا۔ لاہور کے نشیبی علاقوں کیلئے پاکستان کا پہلا انڈر گرائونڈ واٹر اسٹوریج ٹینک بنوایا۔

اب لاہور کی کسی سڑک پر پانی کھڑا نہیں ہوتا اور پانی کی ری سائکلنگ بھی ممکن ہوگئی۔ ٹینک میں جمع ہونے والا پانی صاف ہو کر اب شہر کے باغات کی آبیاری کرنے لگا ہے۔ عثمان بزدار نے گیارہ ہزار اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرا دیا۔ 8نئی یونیورسٹیوں پر کام جاری ہے، عثمان بزدار ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی کے خواب دیکھ رہا ہے۔

43نئے کالج بن رہے ہیں۔ ڈی جی خان کی پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی فعال کی ہو چکی ہے۔ لاہور سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک نیا شہر آباد کیا جارہا ہے۔ جو ہر حوالے سے بین الاقوامی معیار کا شہر ہوگا۔

عثمان بزدار کو بھی چاہئے کہ وہ بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کےلئے ایک ٹائم مخصوص کریں۔ ہفتے میں ایک گھنٹہ ہی سہی جس میں پارٹی کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ مائنس ون کے خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں پتھرا جائیں گی مگر ایک سیاسی پارٹی کی حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو طاقتور بنائے کیونکہ عوام کی اپروج ان تک ہے۔ پارٹی ضلعی صدر اور سیکرٹری کی اہمیت ہونی چاہئے۔صاحبانِ اقتدار کے ساتھ ان کا مسلسل رابطہ ہونا چاہئے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا گڈ گورنس کے بہتر ین نتائج سامنےنہیں آئیں گے۔

بشکریہ جیو نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …