جمعہ , 23 اپریل 2021

رہبر انقلاب اسلامی کا عراقی وزیر اعظم سے اسٹریٹجک مسئلے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: رہبر انقلاب اسلامی کا عراقی وزیر اعظم سے اسٹریٹجک مسئلے پر تبادلہ خیال۔ابلاغ نیوز نے العالم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سیاسی ماہرین نے رہبر انقلاب اسلامی کے عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے ساتھ اسٹریٹجک تبادلہ خیال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں امریکی موجودگی عراق کی آزادی اور اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہے اور ملک کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات سے عراق کی آئندہ کی حکمت عملی کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی کا عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر زور اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ عراق پر امریکی قبضہ بدعنوانی کا باعث ہے اور عراقی عوام خصوصاً سیاسی سطح پر بڑے مسائل کا شکار ہو رہے ہیںماہرین کا کہنا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کا شہید سلیمانی کے قتل کا سخت بدلہ لینا کا عزم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ عراق ایک ایسی پوزیشن اختیار کرے جو عراق کے وقار کو برقرار رکھے۔دریں اثنا ، عراقی النصر اتحاد کے متعدد عہدیداروں نے بتایا کہ سردار سلیمانی کی شہادت کے بعد ایک اعلی عراقی عہدیدار کا ایران کا یہ پہلا دورہ تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ عراق اپنی سرزمین کے ذریعے ایران جیسے دیگر ممالک پر کسی بھی طرح کے حملے کو روکنے کے لئے آئینی طور پر پرعزم ہے ، خاص طور پر چونکہ ایران وہابی دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کرنے والا پہلا ملک تھا۔
سابق ایرانی سفارت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراق میں امریکہ کی موجودگی ایران اور عراق کے لئے واضح خطرہ ہے ، اور عراق میں ٹرمپ کے ذریعہ ابو مہدی المہندس اور سردار سلیمانی کی شہادت اس دعوے کا بہترین ثبوت ہے۔ان کا خیال ہے کہ عراقی عوام امریکہ کو اپنے ملک سے نکال کرکے واشنگٹن کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکنا چاہتے ہیں اور یہ کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے آس پاس اینٹی میزائل میزائل کی تعیناتی اس طرح کی مداخلت کی علامت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …