منگل , 13 اپریل 2021

بھارت کیساتھ مذاکرات ناکام ہونیکا خدشہ، چین نے لداخ میں مزید 40 ہزار فوجی پہنچا دیئے

نئی دہلی: لداخ میں چین کے ہاتھوں کرنل سمیت بیس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، چین نے بھارت کی سرحد کیساتھ 40 ہزار فوجی لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر پہنچا دیئے۔ابلاغ نیوز نےبھارتی خبر رساں ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دونوں ممالک ایل اے سی سے فوج ہٹانے پر گفت و شنید کر رہے ہیں، اسی دوران خبریں مل رہی ہے کہ مشرقی لداخ میں چین نے چالیس ہزار سے زائد فوجی ایل اے سی پر پہنچا دیئے ہیں، چین نے سرحد پر دفاعی سسٹم، آرٹلری سمیت دیگر اہم ہتھیار بھی سرحد پر پہنچا دیئے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت متعدد بار چینی فوج کے پیچھے ہٹنے کا دعویٰ کر چکی ہے تاہم چین ایل اے سی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا، چینی فوج پیچھے ہٹنے کے بجائے فوج کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے، مشرقی لداخ میں 5 اہم مقامات اب بھی چینی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے نے ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے باوجود کشیدگی کو کمی پر تاحال کوئی اتفاق نہیں کیا فنگر 5 سے چینی فوج اپنے اہلکار ہٹانے کا ارادہ نہیں رکھتی اور اس علاقے میں نگرانی والی پوسٹ تعمیر کرنے کے لیے کوشاں ہے جبکہ ہاٹ سپرنگس اور گوگرا کے علاقوں کے قریب موجود ہیں اور بھارتی فوجیوں کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد پیپلز لبریشن آرمی بلندی والی پہاڑیوں پر قبضہ کر لے گی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان آخری بار مذاکرات 14 اور 15 جولائی کو ہوئے تھے اس ملاقات میں ایل اے سی پر فوجیوں کو ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق چند روز قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے اہم ایشو کو اٹھایا تھا تاہم لگتا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوتے نہیں دکھا رہے ہیں اور چین اپنی فتح برقرار رکھے گا۔دوسری طرف خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کے ہاتھوں مرنے والے کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمارا اہم پارٹنر ہے، لداخ پر پیپلز لبریشن آرمی کے لڑائی والے اقدام ناقابل قبول ہیں۔اس سے قبل بھارت میں لداخ تنازع کے بعد چین کیساتھ طویل مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے کو شکست سے تعبیر کیا جانے لگا تھا۔

دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ فوجی انخلا کے معاہدے کا نتیجہ بھارتی علاقہ گنوانے کی صورت میں برآمد ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ چینی فوجی پہلے سے دو کلو میٹر کے علاقے میں بیٹھے ہیں جس کا بھارت روایتی طور پر دعوے دار، قابض اور وہاں گشت بھی کرتا رہا ہے ، اب یہ طے پایا ہے کہ دونوں طرف کے فوجی دو ، دو کلومیٹر تک پیچھے ہٹیں گے اور چار کلومیٹر کا بفر زون قائم ہو جائیگا جوکہ مکمل طور پر بھارتی علاقے میں ہے۔سینئر بھارتی فوجی افسروں نے نشاندہی کی کہ بھارتی فوجی تاریخی طور پر پٹرولنگ پوائنٹ 14، 15، 17 اور 17 اے میں پٹرولنگ کرتے رہے ہیں۔ بفر زون کے معاہدے کا مطلب ہے کہ اب یہ علاقے بھارت کی رسائی سے باہر ہوں گے۔

ادھر حکومتی ذرائع نے بتایا کہ چین پانگونگ تسو جھیل کے علاقے سے انخلا پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں، جہاں اس نے فنگر 4 اور فنگر 8 کے درمیان کے آٹھ کلو میٹر بھارتی علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔حاضر سروس سینئر جنرل کا کہنا ہے کہ بھارت کو دوہری مشکل کا سامنا ہے، ایک طرف چین پانگونگ تسو میں فوجی موجودگی پر بضد ہے۔دوسری جانب بھارتی علاقوں میں بفر زون قائم کیا جا رہا ہے ، خبر رساں ادارے دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیں اپنے ہی علاقے سے ڈیڑھ کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق حکام پریشان ہیں کہ اگر کو ئی مستقل حل نہ ڈھونڈا گیا تو یہی حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) قرار پائے گی۔ پوائنٹ 14پر بھارت نے سڑک بھی تعمیر کی تھی، اب فوج پیچھے اس مقام تک چلی گئی ہے جہاں سے وہ گشت شروع کیا کرتی تھی یوں وہ اپنی سڑک بھی استعمال نہیں کرسکے گی۔

یہ بھی دیکھیں

میزائل تجربے پر تنقید : شمالی کوریا نے اقوام متحدہ پر چڑھائی کردی

شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کے بعد پابندیوں کی تجویز پر اقوام متحدہ پر چڑھائی …