جمعرات , 15 اپریل 2021

جرمن ریاست باڈن وورٹمبرگ کے اسکولوں میں برقعے پر پابندی

اسلام آباد: جرمنی کی ریاست باڈن وورٹمبرگ میں حکام نے اب اسکول کی طالبات کے چہروں کے ڈھکنے پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ استانیوں کے نقاب یا برقع پہننے پر پہلے سے ہی یہ پابندی عائد ہے۔ابلاغ نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہمغربی جرمنی کی ریاست باڈن وورٹمبرگ کی حکومت نے اسکولوں میں چہرے کو مکمل طور ڈھکنے والے برقعے یا نقاب کے پہننے پر پابندی عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ نقاب سے متعلق اس نئے اصول کو ایک ایسے وقت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب جرمنی میں مسلمانوں کے نقاب پہننے یا پردے کے لیے پوری طرح سے چہرے کو ڈھکنے سے متعلق جہاں گرما گرم بحث جاری رہی ہے وہیں ہیمبرگ کی ایک عدالت نے شہر میں عائد اس طرح کی پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔

باڈن وورٹمبرگ کی شہری کاؤنسل نے اسکول میں اساتذہ پر ایسے لباس پہننے پر پہلے ہی سے پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے چہرہ مکمل طور ڈھک جاتا ہو اور اسی طرز پر اب اسکول کی طالبات کو بھی نقاب یا برقع پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریاستی وزیر اعلی اور گرین پارٹی کے سرکردہ رہنما ونفریڈ کریٹشمن کا کہنا ہے کہ چہرے کا مکمل طور پر پردہ آزاد معاشرے کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ انہوں نے یہ بات بھی تسلیم کی اسکولوں میں مکمل طور پر چہرہ ڈھکنا شاذ و نادر بات ہے تاہم ان اکا دوکا واقعات کے لیے بھی فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی سطح پر، جہاں طلبہ بالغ ہوتے ہیں، وہاں اس طرح کی پابندی سے متعلق سوال قدرے پیچیدہ ہے۔ فی الوقت یہ اصول ریاست کے پرائمری اور سیکندڑی اسکولوں کے لیے ہی ہے۔

نقاب پر بحث اور گرین پارٹی میں اختلافات

جرمنی میں جو افراد نقاب پہننے یا پردے کے لیے چہرے کو مکمل طور پر ڈھکنے کی مخالفت کرتے ہیں ان کا موقف ہے کہ اس طرح کی پابندی لڑکیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کیونکہ ان پر اس کے لیے زور زبردستی کرنے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت میں شامل جولیا کلوکنیر سمیت قدامت پسند جماعتوں کے سرکردہ رہنما ملک گیر سطح پر برقعے یا نقاب پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔گرین پارٹی میں اس امر پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں تاہم اسکولوں میں اس پابندی کے وہ حامی ہیں اسی لیے انہوں نے اس کی حمایت کی۔ باڈن وورٹمبرگ میں گرین پارٹی کی رہنما سانڈرا ڈیٹر اور اولویئر ہلڈین برانڈ برقع اور نقاب کو ماضی میں ”جبر و ظلم کی علامت بتا چکے ہیں۔”

لیکن اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اصول و ضوابط اور سختیوں سے جرمنی میں مسلم معاشرے کے حاشیے پر آنے کا خدشہ ہے۔ ہیمبرگ میں حال ہی میں ایک مسلم طالبہ نے اس کے خلاف کیس دائر کیا تھا اور قانونی لڑائی کے بعد عدالت نے اسے ایسے لباس کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ حالانکہ عدالت نے اپنے تبصرے میں یہ بھی کہا کہ اگر سرکاری اسکولوں کے موجودہ قوانین میں تبدیلی کیجائے تو اس صورت میں ایسی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ اور اب مقامی سیاست داں اس طرح کے قوانین میں تبدیلی کے لیے سرگرم ہیں۔لیکن گرین پارٹی میں مہاجرین کے امور سے متعلق ترجمان فلز پولاٹ کا کہنا ہے کہ مذہبی طرز کے علاماتی لباس کا استعمال جمہوری سماج کا ایک اہم فیچر ہے۔ حالیہ برسوں میں نیدر لینڈ، فرانس، ڈنمارک اور آسٹریا جیسے یورپی ممالک میں مکمل طور پر چہرے کے ڈھکنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ گزشتہ برس اس حوالے سے جرمنی میں ایک سروے ہوا تھا اور اس میں بھی تقریباً54 فیصد جرمن شہریوں نے برقعے پر پابندی کی حمایت کی تھی۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …