اتوار , 11 اپریل 2021

دانش اورحکمت

تحریر:امجد اسلام امجد

دنیا کی شائد ہی کوئی ایسی زبان ہو جس میں کسی لفظ کے معانی ایک ہوتے ہوئے بھی بالکل ایک نہ ہوں کہ ہر لفظ اپنے اندر کچھ ایسے جداگانہ شیڈ رکھتا ہے کہ جو صرف اُسی کے ہوتے ہیں اور اُس کے دیگر ہم معانی الفاظ اس خاص شیڈ سے محروم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر دانش اور حکمت کو ہی لیجیے، دونوں معانی کے اعتبار سے بہت حدتک مِلتے جُلتے ہیں مگر غور کیجیے تو دانش کی باتوں کا زیادہ تر تعلق عقل، تجربے اور تجزیئے سے ہوتا ہے جب کہ حکمت کی باتوں میں دل، جذبہ ، اخلاقیات اور تصوف کے شیڈ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں اور ان میں عمل اورفعلیت کا تناسب بھی زیادہ ہوتا ہے، اس بات کو زیادہ آسان انداز میں سمجھنے کے لیے فوک لور اور بزرگوں کی باتوں اور کہاوتوں پر ایک نظر ڈالیے، آپ محسوس کریں گے کہ ان کی کیمسٹری میں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جو کتابی علوم میں یا تو ہوتے ہی نہیں یا بہت کم پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میں نے ایک کالم میں دانش کی کچھ باتوں کا ذکر کیا تھا جسے عام طور پر بہت پسند کیا گیا اور یہیں سے دانش اور حکمت کے مابین اس انوکھے شیڈ کی بات سامنے آئی اور یوں پرانے وقتوں میں کہی ہوئی باتوں کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور روحانی فکر سے آراستہ کچھ باتوں پر غور کرنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ صرف بیسویں صدی میں ہی آپ کو آئن سٹائن ، قائداعظم محمد علی جناح ، یونگ ، ماوزے تنگ اور مولانا مودودی کی عقل و دانش سے بھرپور ارشادات کے ساتھ اقبال، اشفاق احمد، سرفراز احمد شاہ، احمد رفیق اختر اور واصف علی واصف کے ایسے اقوال بھی ملیں گے جن میں روحانی علوم اور اصلاحی فکر سے وابستہ حکمت زیادہ غالب نظر آئے گی یعنی دونوں صورتوں میں روحانی ا ور معاشرتی علوم سائنسی فکر اور عملی تجربات ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک خاص انداز میں ایک دوسرے سے الگ اور مختلف بھی نظر آئیں گے ۔

اب اگر ہم سب اس بحث میں پڑگئے کہ اس فرق کی اصل وجہ ا ور نوعیت کیا ہے تو ایک پنجابی محاورے کے مطابق ’’گُل ویران ہوجائے گی‘‘ سو ہم مشتے از خروارے کے طور پر چند ایسے فرمودات یا کوٹیشنز کاجائزہ لیتے ہیں جو حال ہی میں پڑھنے یا سننے میں آئی ہیں، ان میں زندگی کے بارے میں جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے وہ غیرسائنسی تو یقیناً نہیں مگر اس میں ’’بالائے سائنس‘‘ جو آزاد فکری اور گہرائی ہے اُس کی ’’حکمت‘‘ کی دریافت کا ایک اپنا ہی مزا ہے۔

’’ایسی غلطی جو آپ کو عاجزی سکھا دے اُس کامیابی سے بہت بہتر ہے جو آپ کو غرور میں مبتلا کردے‘‘

’’خواب تو گھر بیٹھے بٹھائے مفت ہی مل سکتے ہیں مگر اُن کی تعبیر کے لیے بہت لمبا سفر کرنا پرتا ہے‘‘

’’جب بارش برستی ہے تو بہت کم لوگ اُسے محسوس کرتے ہیں باقی صرف بھیگتے ہیں‘‘

’’جب ہم کسی صورتِ حال کو بدلنے کے قابل نہیں رہتے توپھر ہمیں اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے‘‘

’’کوئی شخص بے آواز نہیں ہوتا یا تو اُس کی آواز جان بوجھ کر دبا دی جاتی ہے یا پھر اس کو سنا ہی نہیں جاتا‘‘

’’خالی شور سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ور نہ تو مرغی بھی ایک انڈہ دے کر اتنا شور مچاتی ہے جیسے اُس نے کسی ستارے کو جنم دیا ہو‘‘

’’گزشتہ کل کی غلطیوں اور آنے والے کل کی اُمیدوں کے درمیان ’آج‘ کی شکل میں امکانات کی ایک دنیا کھلی پڑی ہے اِس سے محبت کرو اور اس میں زندہ رہو‘‘

’’لیڈر شپ کا مرتبے سے نہیں عمل سے پتہ چلتا ہے‘‘

’’مجھے کسی بھی سیاست، مذہب اور فلسفے کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ملا جس کی وجہ سے کسی دوست سے ہاتھ دھونے پڑے ہوں‘‘

’’صحیح راستے پر اکیلے چلنا کسی غلط راستے پر چلنے والے ہجوم میں شامل ہونے سے بہتر ہوتا ہے‘‘

’’روح سے نکلی ہوئی بات رُوح کی گہرائی تک ضرور جائے گی‘‘

’’ٹوٹے ہوئے خاندانوں کو جوڑنا شروع کردو سکون آنا شروع ہوجائے گا‘‘

’’لوگوں کو معاف کردینے کا راستہ، کسی کے ساتھ انصاف کا راستہ ، پرندوں کے ساتھ محبت کا راستہ ، انسانوں کے ساتھ محبت کا راستہ، محروم پسماندہ لوگوں کی مدد کرنے کا راستہ ۔یہ سب راستے اللہ کے راستے ہیں‘‘

’’اتنے خشک نہ بنو کہ توڑ دیے جاؤ اور اتنے نرم نہ بنو کہ نچوڑ دیے جاؤ‘‘

’’ایک شخص نہیں ایک شخصیت بن کر جیؤ‘‘

’’کائنات کے سب سے بڑے سخی پر یقین آپ کو سخی بنا دیتا ہے‘‘

’’ پریشانی تذکرہ کرنے سے بڑھتی ہے، خاموش رہنے سے کم ہوتی ہے، صبر کرنے سے ختم ہوجاتی ہے اور اﷲ کا شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے‘‘

کیسی گہری بات ملی ہے ہم کو اک دیوانے سے

ساری گِرہیں کُھل جاتی ہیں ایک گِرہ کُھل جانے سے

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …