پیر , 12 اپریل 2021

وائٹ ​​ہیلمٹ تنظیم شام میں انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشت گردوں کو مدد فراہم کر رہی ہے ؛روس

اسلام آباد: روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ نام نہاد سول ڈیفنس گروپ وائٹ ہیلمٹ کے ممبرز شام میں سرگرم غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ ملی بھگت کرتے رہتے ہیں اور وہ انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کی آڑ میں لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔مغربی سپورٹرز نے ابھی تک وائٹ ہیلمٹ اور اس سے وابستہ تنظیموں کے لئے اپنی حمایت ترک نہیں کی ہے۔ ہم نے بار بار اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ یہ تنظیم انسانی ہمدردی کا لیبل استعمال کر کے لوٹ مار ، بھتہ خوری ، ڈکیتی ، جان بوجھ کر غلط معلومات بتانا ، جھوٹے کیمیائی حملوں کے دعوے ،جھوٹے ہوائی حملوں کے دعوےاور جھوٹے راکٹ حملوں کے دعوے کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہتی ہےحالانکہ خود یہ تنظیم براہ راست دہشت گردوں سے ملی ہوئی ہے۔ سپوتنک نیوز ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان جمعرات کے روز ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔

ادھر اس سال کے شروع میں ، روسی انٹلیجنس سروس کے ڈائریکٹر ، سیرگی ناریشکن نے کہا تھا کہ مغربی انٹلیجنس وائٹ ہیلمٹ کی سرپرستی کر رہی ہے اور ان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ شامی سرکاری فوج کو کے خلاف جعلی خبروں کو پھیلا کر پروپیگنڈا کرے۔ وائٹ ہیلمٹ نے بیرون ملک انٹیلی جنس کی سرپرستی میں چلنے والی ایک تنظیم ہے اس کا مقصد شام کے عوام اور شام کی حکومت اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر کے دنیا کے سامنے شام کو بدنام کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روسی فوج نے یہ ثابت کیا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں واقع ، دسوما شہر میں مبینہ کیمیائی حملے کی ویڈیو فوٹیج اپریل 2018 میں منظرعام پر لایا گیا تھا اور ہم نے بتایا تھا کہ وائٹ ہیلمٹ خود کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہے اور اس کی ذمہ داری شامی حکومت پر ڈال رہی ہے۔وہائٹ ​​ہیلمٹ گروپ شام میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے جانا جاتا ہے تاکہ اس نے شامی فوج کے خلاف غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کیے تاکہ امریکی فوج اور اس کے زیر انتظام فوجی اتحاد کو شامی سرکاری فوج پر جارحانہ کارروائیوں کے بہانہ مل سکے اس مقصد کے لیے انہوں نے 2014میں خود ہی کیمیائی ہتھیار استعمال کر کےیہ پروپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ شامی شہریوں پر شامی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …