جمعہ , 23 اپریل 2021

پنجاب اسمبلی میں تکفیری عقائد پر مبنی بل منظوری کے بعد معطل ہو گیا

اسلام آباد: پاکستان میں موجود داعش اور طالبان کے پیروکار تکفیریوں کو ایک بار پھر شکست ہو گئی ہے۔ابلاغ نیوز نے اسلام ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ  تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ بل میں تکفیریوں کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، کو معطل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رات گئے موصولہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علماء ازسرنوء پنجاب حکومت کے اس ایکٹ بارے فیصلہ کریں گے، جہاں ضروری ہوگا، ترمیم کر دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق تمام مکاتب فکر کے نمائندگان کی میٹنگ بلائی جائے گی جس میں تمام مکاتب فکر سے اس حوالے سے رائے لی جائے گی۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں عجلت سے یہ بل منظور کیا گیا تھا جس کے مندرجات کے حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھی لاعلم رکھا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین، تحریک حسینیہ پاکستان، شیعہ علماء کونسل سمیت دیگر شیعہ جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے گورنر پنجاب کو خط بھی لکھا تھا جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی وفد نے وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ سے ملاقات کرکے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ اس ملاقات میں وزیر قانون نے وفد کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ بل کے حوالے سے ان کے تحفظات وزیراعلیٰ اور سپیکر تک پہنچائیں گے۔ جس کے بعد بل کو معطل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …