اتوار , 1 نومبر 2020

آیا صوفیہ میں نمازِجمعہ کے بعد ترکی اور یونان میں سخت جملوں کا تبادلہ ،کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد: ترکی اور یونان کے درمیان استنبول میں واقع تاریخی کیتھڈرل آیا صوفیہ کی ایک مرتبہ پھر جامع مسجد میں تبدیلی کے بعد سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔آیا صوفیہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز ہزاروں دوسرے افراد کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی تھی۔ابلاغ نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہگذشتہ روز اس سے پہلے ادھر یونان میں گرجا گھروں میں آیا صوفیہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے گھنٹیاں میں بجائی گئی تھیں لیکن ترکی نے یونان کے اس فعل کو اسلام دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامی عکسوئے نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یونان نے ایک مرتبہ پھر اسلام اور ترکی کے بارے میں اپنی مخاصمت کا اظہار کیا ہے اور آیا صوفیہ مسجد کو نمازوں کے لیے کھولنے پر قابلِ افسوس ردعمل کا اظہار کیا ہے۔‘‘

وزارت خارجہ نے یونانی حکومت اور پارلیمان کے ارکان کے ترکی مخالف مگر عوام کو اُکسانے کے لیے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔اس نے یونانی شہر تھیسالونیکی میں ترکی کا پرچم نذرآتش کرنے کی بھی مذمت کی ہے۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’آیا صوفیہ کو ترک عوام کی امنگوں کے مطابق مسجد کے طور پر نمازوں کے لیے کھولا گیا ہے اور اس کی عمارت دوسرے ثقافتی اثاثوں کی طرح ترکی ہی کی ملکیتی ہے۔‘‘یونان کی وزارت خارجہ نے ترکی کے اس بیان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ آج اکیسویں صدی میں عالمی برادری ترکی میں مذہبی اور قوم پرست جنونیت دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی ہے۔‘‘یونانی وزیراعظم کیریاکوس متسوتیکس نے جمعہ کو ایک بیان میں ترکی کو ’’ ٹربل میکر‘‘اور آیا صوفیہ کی مسجد میں تبدیلی کو اکیسویں صدی کی تہذیب کے منافی قراردیا تھا۔

ترکی اور یونان کے درمیان مختلف امور پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ان کے درمیان فضائی حدود سے بحری حدود تک ، نسلی بنیاد پر منقسم قبرص کے تنازع اور بحر متوسط کےمشرقی حصے میں تیل اور گیس نکالنے پر شدید اختلاف پائے جاتے ہیں اور ان کی قیادت ایک دوسرے کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کرتی رہتی ہے۔

واضح رہے کہ یونیسکو نے آیا صوفیہ کی عمارت کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔اس کو چھٹی صدی عیسوی میں آرتھو ڈکس عیسائیوں کے ایک گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔1453ء میں جب عثمانی سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ (اب استنبول) شہر کو فتح کیا تھا تو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔بعض روایات کے مطابق انھوں نے آرتھوڈکس چرچ سے یہ عمارت خرید کی تھی اور پھر اس کو مسجد میں تبدیل کیا تھا۔

جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1934ء میں آیا صوفیہ کو ایک عجائب گھر میں تبدیل کردیا تھا لیکن اسی ماہ ترکی کی عدالت عالیہ نے اس کی عجائب گھر کی حیثیت کالعدم قرار دے دی تھی۔اس کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھااورگذشتہ روز وہاں پچاسی سال کے بعد پہلی مرتبہ جمعہ کی نماز ادا کی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی پر روس اور چین نے اہم کردار ادا کیا: ایران

تہران: ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ …