ہفتہ , 17 اپریل 2021

ایرانی جہاز کو حراساں کرنے کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے: اٹارنی جنرل

اسلام آباد: ایران کے اٹارنی جنرل نے ایرانی مسافر طیارے پر دو امریکی جنگی طیاروں کی کھلی جارحیت اور مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے معاملے پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔ابلاغ نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہدو امریکی جنگی طیاروں نے، جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شام کی فضائی حدود میں مسافر طیاروں کے بین الاقوامی دالان میں پرواز کرنے والی ماہان ایئر کی پرواز گیارہ سو باون کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی تھی تاہم پائلٹ نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو ایک بڑے حادثے سے بچالیا۔

پائلٹ کے فوری ردعمل کے نتیجے میں متعدد مسافر زخمی ہو گئے تھے۔ ایران کا مسافر طیارہ تہران سے شیڈول کے مطابق بیروت جا رہا تھا۔ایران کے اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری نے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کے نام ایک خط میں امریکہ کے اس اقدام کو غیر قانونی اور عالمی ضابطوں کے منافی قرار دیا اور اس معاملے کو عالمی اداروں میں اٹھائے جانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ امریکہ کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہر ممکن کارروائی کی جائے اور سیاسی اور قانونی دونوں سطح پر اس معاملے کو اٹھایا جائے۔

ایران کے اٹارنی جنرل نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایران کے محکمہ شہری ہوابازی اور ماہان ایئر لائن سمیت تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ شیکاگو کنوینشن کی ترمیمی شق نمبر تیرہ اور سترہ کے تحت شام کی حکومت اور شہری ہوابازی کی عالمی تنظیم کے ساتھ مل کر اس واقعے اور پرواز کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے والے امریکی اقدام کی رپورٹ تیار کریں اور شیکاگو کنوینشن کی بنیاد پر کیس تیار کر کے عالمی اداروں میں لے جائیں۔اس سے پہلے ایران کے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اپنے بیان میں ایرانی مسافر طیارے پر حملے کے امریکی اقدام کو ہوابازی کے عالمی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، شہری ہوا بازی کی عالمی تنظیم آئی سی اے او میں امریکہ کے خلاف باضابطہ شکایت درج اور اس معاملے کی فوری چھان بین اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …