بدھ , 14 اپریل 2021

چین کے خلاف امریکہ کا کمزور اتحاد

تحریر: سید نعمت اللہ

گذشتہ ہفتے جمعرات 23 جولائی کے دن امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے ریاست کیلی فورنیا کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد لنڈا شہر میں رچرڈ نکسن لائبریری میں ایک اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔ ان کی اس تقریر سے دو دن پہلے یعنی 21 جولائی کو امریکی حکومت نے ہاوسٹن شہر میں واقع چین کے قونصلیٹ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کا یہ اقدام چین کے ساتھ اس کی سفارتی جنگ کا آغاز ثابت ہوا اور جوابی کاروائی کے طور پر چین نے بھی صوبہ سی چوان کے شہر چینگدو میں واقع امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ لہذا نکسن لائبریری میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی تقریر نہ صرف علامتی طور پر ایک پیغام کی حامل تھی بلکہ گذشتہ دنوں میں انجام پانے والے اقدامات سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ تھی۔

بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ ہم آہنگی محض اتفاق نہیں تھا بلکہ پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔ لہذا مائیک پمپئو کی اس تقریر کو امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات اور چین سے متعلق امریکی پالیسیوں میں نئے باب کا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین سے مقابلہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیحات میں شامل ہے اور جب سے انہوں نے وائٹ ہاوس میں قدم رکھا ہے یہ مسئلہ ان کی پہلی ترجیح رہا ہے۔ اس پالیسی کے معمار اسٹیو بینن تھے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہی سینیئر اسٹریٹجسٹ اور صدر کے مشیر کے طور پر وائٹ ہاوس میں قدم رکھا تاہم انہیں صرف ایک سال بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جرڈ کشنر سے اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

اسٹیو بینن کی وائٹ ہاوس سے رخصتی کے باوجود چین مخالف پالیسیاں ان کے ورثے کے طور پر وائٹ ہاوس میں ہی رہ گئیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس وقت امریکی حکمران چین مخالف پالیسیوں پر زیادہ سنجیدگی سے عمل پیرا ہو چکے ہیں۔ مائیک پمپئو بھی اسی ورثے کے پیش نظر رچرڈ نکسن لائبریری گئے اور ان کا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ رچرڈ نکسن کی جانب سے تناو کم کرنے پر مبنی ڈاکٹرائن نصف صدی کے بعد ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے چین میں حکمفرما جماعت کمیونسٹ پارٹی پر دنیا بھر میں اپنی ڈکٹیٹرشپ قائم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے چین کے خلاف زیادہ موثر اور فیصلہ کن اقدامات انجام دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہو گا۔

یقیناً امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی یہ تقریر ایک طرح سے اپنے اتحادی ممالک کو چین کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی دعوت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکہ ایسا چین مخالف اتحاد تشکیل پانے میں کامیاب ہو جائے گا؟ اگرچہ دنیا کے بعض ممالک آنکھیں بند کر کے امریکہ کے پیچھے چلنے کو تیار نظر آتے ہیں جیسا کہ آسٹریلیا نے فوراً ہی چین کے خلاف تشکیل پانے والے ممکنہ امریکی اتحاد میں شمولیت کا اعلان بھی کر دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محدود تعداد میں چند ممالک کی شمولیت سے تشکیل پانے والے اتحاد کو بین الاقوامی اتحاد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک پمپئو نے بدترین حالات میں یہ چین مخالف اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث پھیلی کووڈ 19 وبا نے دنیا کے تمام ممالک کی توانائیاں محدود کر رکھی ہیں۔

دوسری طرف کووڈ 19 وبا کے پھیلاو سے دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت اور اقتصاد کو بھی شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے ممالک حتی کرونا وائرس کے پھیلاو کا مقابلہ کرنے سے بھی قاصر نظر آ رہے ہیں۔ مزید برآں، کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد اقتصادی بحران اور مسائل کی نئی لہر معرض وجود میں آنی ہے جن کے بارے میں حکومتیں ابھی سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں دنیا کا کوئی ملک بین الاقوامی سطح پر کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کا حصہ بننے کی جرات نہیں کر سکتا۔ امریکہ کو اپنے مقاصد کے حصول میں درپیش ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ یورپی ممالک سمیت دنیا کے اہم ممالک چین کو اپنے لئے خطرہ تصور نہیں کرتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انہی یکہ تازیوں اور یکطرفہ اقدامات کے باعث امریکہ دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے اپنے مغربی اتحادیوں سے ان کے تعلقات گذشتہ 70 برس میں نچلی ترین سطح تک جا پہنچے ہیں۔ امریکہ کے روایتی اتحادی بھی اب ماضی کی طرح اس ملک کا ساتھ دینے پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو 2019ء میں بھی ہالینڈ میں ایران کے خلاف ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی مہم کا آغاز کر چکے ہیں جس میں انہیں شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور چند عرب ممالک کے علاوہ کسی نے انہیں گھاس نہیں ڈالی تھی۔ لہذا اب وہ کس منہ سے چین کے خلاف اس سے بھی زیادہ وسیع بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی باتیں کرتے ہیں؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت چار مہینے کی مہمان ہے لہذا بہت مشکل نظر آتا ہے کہ وہ یا مائیک پمپئو یہ چین مخالف اتحاد بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …