پیر , 10 اگست 2020

لیبیا، نئے معرکہ کا منتظر

اداراتی نوٹ
قذافی کے بعد لیبیا میں ایک ایسی سیاسی و فوجی افراتفری کا ماحول ہے کہ کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا کہ آج لیبیا میں کئی حریف ممالک حلیف اور کئی حلیف، حریف میں بدل چکے ہیں۔ لیبیا میں اس وقت دو گروہ سرگرم عمل ہیں، جن کے پیچھے علاقائی اور عالمی طاقتیں سرگرم عمل ہیں۔ ایک گروپ جنرل حفتر کا ہے، جس کو روس، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر اور فرانس کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسرا گروپ قومی وفاق پارٹی کے نام سے ہے، جسکی قیادت فائز السراج کر رہا ہے۔ فائز السراج کو قطر، الجزائر، اٹلی، ترکی اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔ قذافی کے بعد ترکی اور روس کو لیبیا میں بنیادی کھلاڑی تصور نہیں کیا جاتا تھا، لیکن موجودہ صورت حال میں ترکی اور روس لیبیا کے بحران میں موثر ملک بن کر ابھرے ہیں۔

سعودی عرب اور اسکے حامی لیبیا میں اخوان المسلمین کے مخالفین ہیں اور انہیں اقتدار میں آنے سے روکنے کیلئے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ الائنس جنرل حفتر کی حمایت کر رہا ہے تاکہ لیبیا میں بھی انہیں السیسی جیسا فوجی افسر مل جائے جو اخوان المسلمین کو اقتدار سے دور کر دے۔ اردوغان کا ترکی ہمیشہ سے اخوان المسلمین کا حامی رہا ہے۔ اب اس نے روس کیساتھ تعلقات میں قربت لا کر لیبیا میں اپنا رول مضبوط کر لیا ہے۔ روس اور ترکی کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد انقرہ اور ماسکو کے حکام پر ممشتمل ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے، جو لیبیا کے بحران کے حل کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔

لیبیا اس وقت ہتھیاروں کے گھنے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے اور مسلح گروہ مختلف قبائیل اور دیگر ناموں سے سرگرم عمل ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ بھی اپنے مفادات کے لیے کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔ دوسری طرف روس اور ترکی کا الحاق اسرائیل اور امریکہ کے اھداف میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ، ترکی اور روس کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اگر انہیں کامیابی مل گئی تو لیبیا کا بحران مزید پیچیدہ ہوجائیگا۔ دوسری طرف اگر ترکی اور روس کسی متفقہ موقف پر آ جاتے ہیں تو تباہ و برباد ملک لیبیا کے مستقبل کے بارے میں کچھ امیدیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …