منگل , 11 اگست 2020

صحابہ، امہات المومنین اور اہلبیتؑ نبوۃ کے مابین اختلافات

تحریر: محمد سلمان مہدی

یوں تو رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای صاحب نے سنی شیعہ مسلمانوں کے مابین وحدت کے لئے ایک منصنفانہ فارمولا بہت پہلے پیش کر دیا ہے، لیکن بعض پاکستانی حلقے پاکستانی سنی شیعہ مسلمانوں کے مابین وحدت و محبت یا بین المسالک ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت وحدت و ہم آہنگی نہ صرف سنی شیعہ مسلمان پاکستانیوں کے مفاد میں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ لیکن بعض حلقوں کو پاکستان اور امت اسلامی کا یہ مشترکہ مفاد بہت کھلتا ہے۔ ہماری یہ تحریر سنی شیعہ وحدت اسلامی کے مخالفین کے جھوٹے بیانیہ اور غلط نظریات کا ایک جواب ہے۔ اشرف جلالی ہو یا اورنگزیب فاروقی اینڈ کمپنی اور ان کی اس ناصبی و تکفیری فکر کے حامی، سب کو ہمارا واضح جواب یہ ہے کہ سنی شیعہ اختلافات کا تعلق کہیں اور سے ہے۔ ان اختلافات کی بنیاد یا اس کی جڑ پاکستان یا ایران میں نہیں ہے، بلکہ ان اختلافات کا تعلق مکہ و مدینہ کے اس دور سے ہے، جب اسلام کو بطور دین کامل و تمام و برائے تاقیامت قرار دیا گیا۔۔

یعنی جب خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا نوری وجود اس دنیائے مادی و فانی سے پردہ فرما چکا تو ان کے نوری وجود کے جسد خاکی کی تدفین سے پہلے اختلافات کا آغاز ہوگیا تھا اور یہ اختلافات مختلف صحابہ کے مابین بھی تھے تو بعض امہات المومنین کے مابین بھی اختلافات تھے اور اگر اختلافات نہیں تھے تو اہل بیت نبوۃ یعنی آل ؑ محمدﷺ کے مابین نہیں تھے۔ اسی طرح اہل بیت نبوۃ اور امہات المومنین اور بعض صحابہ کے خلیفہ وقت حضرت ابوبکر سے بھی اختلافات تھے اور اس کی ایک مثال خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی میراث یا ترکہ میں سے حصے کا دعویٰ تھا، جو رسول اکرم (ص) کے چچا حضرت عباس نے بھی کیا، بعض امہات المومنین نے بھی کیا اور بی بی فاطمہ زہرا ؑ بنت رسول اللہ نے بھی کیا اور اسکا تذکرہ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی تصنیف سیرت النبیﷺ کی جلد دوم میں متروکات کے عنوان کے تحت کیا ہے۔

یہ اختلافات معمولی نہیں تھے۔ اسی دور میں خلیفہ حضرت ابوبکر کو اس دور کے مسلمانوں نے زکات کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا۔ مخالفین کو مرتد تک قرار دیا گیا۔  ان اختلافات کے حوالے سے سنی تاریخی کتاب سیرت ابن ہشام پڑھ لیں۔ اس کا اردو ترجمہ بھی پاکستان میں دستیاب ہے۔ ادارہ اسلامیات لاہور نے سینٹرل کاپی رائٹ آفس حکومت پاکستان بحوالہ 4060-COPR شائع کیا۔ مترجم کا نام سید یٰسین علی حسنی نظامی دہلوی ہے۔ اس کتاب پر لکھا ہے کہ یہ رحمت دو عالم نبی کریم (ص) کی سیرت طیبہ پر معروف و مستند کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ مذکورہ سیرت النبی ﷺ ابن ہشام (کامل) اردو ترجمہ جلد دوم کا آخری باب نمبر 152 بعنوان سقیفہ بنی ساعدہ صفحہ 432 سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سنی تاریخ خود ناقابل تردید ثبوت ہے کہ صحابہ تو رسول اکرم (ص) کے نوری وجود کے جسد خاکی کی تدفین سے پہلے ہی ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا شرو ع کرچکے تھے۔ اس کتاب کے صفحہ 435 پر ذیلی عنوان  ”بیعت اور خلافت“  میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ وہاں بزرگ صحابی حضرت سعد بن عبادہ خزرجی انصاری اور ان کے حامی ایک طرف اور اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر وغیرہ اور ان کے حامی دوسری طرف یعنی ٹھیک ٹھاک اختلاف ہوا تھا۔ مذکورہ سنی کتاب نے حضرت عمر کی گفتگو نقل کی:  ”پھر ہم سعد بن عبادہ پر چڑھ گئے۔ ایک شخص نے کہا تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا۔ ہم نے کہا کہ سعد بن عبادہ کو اللہ نے قتل کیا۔”

صفحہ نمبر 436 پر ذیلی عنوان ”حضرت ابوبکر کا پہلا خطبہ“ تحریر ہے:  ”انس بن مالک کہتے ہیںو جس روز حضرت ابوبکر کی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت کی گئی، اس کے دوسرے روز ابوبکر منبر پر آکر بیٹھے اور حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے پہلے گفتگو شروع کی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد بیان کیا کہ: اے لوگو! کل میں نے تم سے ایسی بات کہی کہ جس کو میں نے نہ کتاب اللہ میں پایا نہ رسول اللہ (ص) نے اس سے متعلق مجھ سے کوئی عہد لیا تھا۔۔۔۔۔“  یہ حضرت عمر کے جملے ہیں۔۔۔ پھر حضرت ابوبکر نے گفتگو فرمائی: ”اے لوگو! میں تم پر والی بنایا گیا ہوںو حالانکہ میں تم میں بہتر نہیں ہوں۔“ یہ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ یعنی خاتم النبیین کے بزرگ انصاری صحابی سعد بن عبادہ پر چڑھ دوڑنے کے دوسرے روز یہ گفتگو ہوئی۔ اس کتاب کے اسی آخری باب کا آخری ذیلی عنوان آخری صفحہ 441 پر ”ارتداد کا فتنہ اور سدباب“  تحریر ہے، جس کے مطابق: ”ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مسلمان بہت بڑے صدمہ میں مبتلا ہوئے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ عرب کے لوگ مرتد ہونے لگے اور یہودیت و نصرانیت کا زور ہونے لگا۔“

اسی کتاب میں مغیرہ بن شعبہ کے حوالے سے صفحہ 440 پر سب سے آخری شخص کے ذیلی عنوان سے جو واقعہ تحریر ہے، اس کے مطابق وہ ایک جھوٹ بولا کرتے تھے۔ یہ محض ایک سنی کتاب سے چند واقعات نقل کئے ہیں، جس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں اور خاص طور پر بعض صحابہ کے اختلافات اور دیگر کیفیات کیا ہوا کرتیں تھیں۔ امہات المومنین کے حوالے سے بھی سنی تاریخی کتب میں واقعات تحریر ہیں۔ سب سے بڑھ کر قرآن شریف کی آیات ہیں۔ مثال کے طور پر سورہ تحریم کی پہلی آیت کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ اشرف علی تھانوی کا اردو ترجمہ "اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے، آپ (قسم کھا کر) اس کو (اپنے اوپر) کیوں حرام فرماتے ہیں (پھر وہ بھی) اپنی بیبیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔ دیوبندی شیخ الہند محمود الحسن کا ترجمہ ہے کہ۔۔۔”اے نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر تو رضامندی اپنی عورتوں کی۔” پاک کمپنی لاہور نے القرآن کریم تفسیر عثمانی کے عنوان سے یہ شائع کیا ہے اور یہاں تفسیر عثمانی سے مراد شبیر احمد عثمانی کی تفسیر ہے۔ یہ آیات بی بی عائشہ اور بی بی حفصہ سے متعلق ہیں۔

یعنی جو چیز اللہ کی طرف سے حلال تھی، ان دو بیبیوں نے اسے رسول اکرم (ص) پر حرام کرنے کے لئے ایک عمل انجام دیا۔ تفصیل عثمانی صاحب نے خود لکھی ہے اور اگر کسی بھی مسلمان میں تھوڑی سی بھی عقل ہے تو اسی سورہ تحریم پوری کی پوری سورہ اور خاص طور پر تیسری، چوتھی اور دسویں آیات۔ قرآن شریف کی یہ آیات تو اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ رسول اکرم (ص) کی دو زوجہ جن سے متعلق یہ آیات آئیں ہیں، محفوظ عن الخطا بھی نہیں تھیں۔ میں ایک عام مسلمان کیا قرآن کا انکار کر دوں؟ یا پھر مان لوں کہ ہماری یہ مائیں کسی طور دینی معاملات میں رول ماڈل نہیں بن سکتیں، کیونکہ یہ خود خطائیں فرمایا کرتیں تھیں۔ ہم ہر ام المومنین کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف ان کی مثال دی ہے، جن کے واقعات سنی مترجم و مفسرین و مورخین نے خود بیان کئے ہیں۔ اب یہاں افسوسناک بات یہ ہے کہ علامہ شبلی نعمانی صاحب نے اپنی تصنیف سیرت النبیﷺ جلد اول میں سن ۹ ھجری، واقعہ ایلاٗ و تخییر و غزوہ تبوک کے عنوان کے تحت ایسے جملے لکھے ہیں کہ جو شان رسالت پر تہمت بھی ہے تو گستاخی کے مترادف بھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ”رسول اللہﷺ زاہدانہ اور تمام زخارف دنیوی سے بیگانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے۔ مدت العمر دو وقت برابر سیر ہو کر کھانا نصیب نہیں ہوا۔“ کیا ان گستاخانہ جملوں پر کبھی کسی مولوی کی غیرت دینی جاگی!؟ اس کائنات میں اول تا آخر کوئی مخلوق، کوئی انسان حضرت محمدﷺ جیسا معصوم و نمونہ عمل نہیں ہے، جو بھی ہیں وہ انہی کی اطاعت کی وجہ سے ہیں۔ اس ہستی کو جسے اللہ نے رول ماڈل قرار دیا ہے، اس پر یہ تہمت۔ لعنت ہو اس فکر پر کہ دو بیبیوں کی غلطی چھپانے کے لئے رسول اکرمﷺ پر یہ الزام لگا دیا!؟ حیف ہے۔ میرے جیسا ایک عام گنہگار مسلمان بھی جانتا ہے کہ بیوی بچوں سمیت اپنے زیر کفالت افراد کا نان و نفقہ میری شرعی ذمے داری ہے اور جس اللہ نے جس رسول اکرم (ص) کے ذریعے یہ اسوہ حسنہ ہمیں عطا کیا، اس پر اتنا بڑا جھوٹا الزام!؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ اللہ ولی ہے، رسول ولی ہے اور حالت رکوع میں زکات دینے والے(یعنی مولا امیر المومنین علیؑ)۔ اسی طرح اللہ نے حکم دیا کہ اطیعواللہ و اطیعوالرسول و اولی الامر منکم یعنی اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔ تین ولایت اور تین اطاعت۔ اللہ، رسول اور اہل بیت نبوۃ یعنی آل محمدﷺ کہ جن پر نماز میں بھی درود و سلام ہر مسلک کا مسلمان بغیر کسی فرق کے بھیجتا ہے اور یہ پوری دنیا کے ہر مسلمان کا بلا تفریق فرقہ و مسلک متفقہ و مشترکہ عقیدہ ہے اور یہی سنی شیعہ اسلامی وحدت و اتفاق اور بین المسالک ہم آہنگی کی مشترک قدر ہے۔ اہل بیت نبوۃ آل ؑ محمدﷺ کو متنازعہ بنانے والے مولوی وہی مائنڈ سیٹ ہےو جو شبلی نعمانی نے رسول اکرم ﷺ پر تہمت لگا کر کیا ہے۔ اب ہمارا اپنے سنی بھائیوں سے ایک سوال ہے کہ کیا ایک سنی بھائی اپنی سنی بہن سے غسل کا طریقہ پوچھ سکتا ہے!؟ اور کیا وہ سنی بہن اپنے سنی بھائی کے سامنے محض ایک پردہ درمیان میں رکھ کر غسل کرکے اسے سمجھا سکتی ہے!؟  صحیح بخاری کتاب 5 باب الغسل باب 6 بالصاع و نحوہ میں یہ لکھا ہے کہ بی بی عائشہ نے اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے کہنے پر ایسا کرکے دکھایا۔ انتہائی شرمناک اور قابل افسوس روایت نقل کی ہے۔

صحاح ستہ کی کتاب جامع ترمذی مترجم مولانا فضل احمد فاضل مخزن العلوم خانپور شائع شدہ دارالاشاعت کراچی (سال 2001ء سے یہ کتاب میرے پاس ہے)۔ جلد اول باب 86ٰٖ فی المنی یصیب الثوب(اگر منی کپڑے کو لگ جائے تو اسکا حکم)۔۔ نمبر 100۔  اس میں تحریر ہے کہ ”حضرت ہمام بن حارث کہتے ہیں، حضرت عائشہ کے پاس ایک مہمان آیا۔ اسے زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ سویا اور اسے احتلام ہوگیا۔ اسے شرم محسوس ہوئی کہ چادر کو اس طرح بھیجے کہ اس میں احتلام کا اثر ہو(منی لگی ہو)۔  اس نے اسے پانی میں ڈبو دیا اور پھر بھیج دیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: ہماری چادر کیوں خراب کر دی، اس کے لئے کافی تھا کہ اپنی انگلیوں سے اسے کھرچ دیتا۔ میں اکثر رسول اللہ (ص) کے کپڑوں سے اپنی انگلیوں کے ذریعے منی کھرچ کر پاک کر دیا کرتی تھی۔“ ہمارے سنی بھائی بتائیں کیا یہ روایات بی بی کے شایان شان ہیں!؟  کیا محرم یا نا محرم مرد کو مسائل بتانے کے لئے صحابہ موجود نہیں تھے کہ بی بی سے لوگ یہ مسائل پوچھا کرتے تھے!؟ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے، کبھی آئینہ دیکھا ہے!؟ اس نوعیت کی روایات بی بی عائشہ کی توہین اور گستاخی نہیں تو اور کیا ہے اور یہ توہین، یہ گستاخی آپکے بزرگان کی کتب سے نقل کرکے بیان کی جاتیں ہیں تو جھوٹے الزمات لگاکر تفرقہ پھیلایا جاتا ہے۔

جب رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای نے واضح طور پر فتویٰ صادر کر دیا ہے کہ امہات المومنین کی اہانت حرام ہے تو اس کے بعد پاکستان میں نت نئے بہانوں سے بنو مروان کے دور کے ناصبی افکار کیوں اور کس کے کہنے پر پھیلائے جا رہے ہیں۔ آپ یہاں صوبہ پنجاب میں کہاں اپنے رضی اللہ عنہما کا دفاع کر رہے ہیں، چلیں ہمارے ساتھ جنت البقیع مدینہ قبرستان میں ان رضی اللہ عنہ و رضی اللہ عنہا کی مسمار اور زمین بوس خستہ حال قبریں دیکھیں۔ تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ پنجاب میں رضی اللہ عنہ لکھنے والو، آل سعود نے تو عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ آپ کے ان رضی اللہ عنہ کے لئے کیسے دور جاہلیت کے غیر مہذب جذبات رکھتا ہے کہ عیاشی کے اڈے کھول رہا ہے، رقص و سرود کے مجرے سجا رہا ہے، لاکھوں مسلمانوں کی قاتل امریکی حکومت کے عہدیداران کو گلے لگا رہا ہے، لیکن جنت البقیع میں مدفون ان کی حیثیت کسی طور رضی اللہ عنہ والی نہیں ہے میرے بھائی۔ چلو وہاں آل سعود کو جاکر بتاؤ کہ رضی اللہ عنہ کی قبریں اور مزارات کیسے ہوتے ہیں! وہاں تو رضی اللہ عنہ کی قبروں کی حالت سے لاکھ درجہ بہتر تو لاہور کے داتا دربار علی ہجویری کے مزار کی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کی قیادت میں معاویہ اعظم سعودی حکومت سے منوا کر دکھائیں اور ان رضی اللہ عنہما کی قبریں اور مزارات منہدم و مسمار کرکے اس کی بے حرمتی کرنے والی سعودی حکومت کی مذمت پوری انجمن سپاہ صحابہ لدھیانوی، فاروقی اور ان کے ناصبی بچے کرکے دکھائیں۔ چلیں ایک مشترکہ پاکستانی دھرنا ہو جائے اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کے باہر!؟۔۔ منظور!؟۔۔۔۔۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …