منگل , 13 اپریل 2021

ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں جاری رہےگا

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں جاری رہےگا۔ابلاغ نیوز نے مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے پولینڈ کے پولٹیکا پولسکا نشریہ میں اپنی یادداشت میں کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں جاری رہےگا۔

سید عباس عراقچي نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی پانچویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنی ایک یادداشت میں ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے جاری رہنے کے بارے میں  لکھا ہے کہ  حالیہ برسوں ميں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مختلف سطحوں پر یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ  ایران کے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کے اہداف کیا ہیں؟ ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام گذشتہ 60 برسوں سے ایران کے جوہری ادارے کے زیر نظر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جاری ہے ۔

  انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے قبل یا بعد ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام  کا مقصد ملک کی اندرونی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔  انھوں نے کہا کہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ایران کا حق ہے اور ایران نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قراردینے کے نعرے کے سائے میں اپنا پروگرام جاری رکھا ہے ایران کا ہدف ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ہے جو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق ایران کا حق ہے اور ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی روشنی میں جاری رہےگا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …