پیر , 12 اپریل 2021

بھارت میں مقیم سنی افغانی مسلمانوں نے عیسائیت اختیار کرنا شروع کردی

بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متنازعہ شہریت قانون نافذ ہونے کے بعد بھارت میں مقیم افغان مسلمانوں نے عیسائیت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ابلاغ نیوز نے ڈیلی پاکستان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متنازعہ شہریت قانون نافذ ہونے کے بعد بھارت میں مقیم افغان مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں نے عیسائیت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

اطلاعات کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان اور روہنگیا پناہ گزینوں نے متنازعہ شہریت قانون پاس ہونے کے بعد سے انڈین شہریت حاصل کرنے کیلئے عیسائی مذہب اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔مرکزی ایجنسیوں نے حکومت کو اس حوالے سے بریفنگ بھی دی ہے اور بتایا ہے کہ اب تک افغان شہریوں کے عیسائی مذہب اختیار کرنے کے 25 کیسز سامنے آچکے ہیں۔  جنوبی دہلی میں واقع افغان چرچ کے سربراہ ادیب احمد میکسول نے ایک انگریزی روزنامہ کو بتایا کہ سی اے اے کے بعد سے افغان مسلمانوں میں عیسائیت قبول کرنے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ 34 سالہ میکسول 21 سال کی عمر میں ہندوستان آیا تھا۔ اِس کے والدین سنی مسلمان ہیں اور افغانستان میں کابل کے قریب مقیم ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …