منگل , 11 اگست 2020

”تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ“ مذہب کے استحصال کی بھرپور کوشش

تحریر: ڈاکٹر مشتاق احمد

آخر مذہبی طبقہ کب تک اسلام کے نام پر بیوروکریسی کےاقتدار کےلیے راہ ہموار کرتا رہے گا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد جو کہ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اپنے ایک حالیہ مضمون میں پنجاب اسمبلی کے ”تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ“ پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس ایکٹ کے مندرجات ایک خاص مذھبی طبقے کو خوش رکھنے کیلئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مذہبی گروہ اسے اسلام کی فتح اور دوسرا اسے اپنے عقائد پر حملہ قرار دے رہا ہے، اصل واردات جو ہوئی ہے، اس پر کوئی بات ہی نہیں کررہا۔ اس ایکٹ کے متعلق ہمارے دینی طبقے کو تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نامِ نامی سے قبل خاتم النبیین اور بعد میں ﷺ لکھا جائے اور صحابۂ کرام، امہات المؤمنین و اہل بیت کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ /عنہا/عنہم لکھا جائے گا؛ لیکن اصل میں اس قانون کی وسعت کیا ہے اور اس کے ذریعے بیوروکریسی کو کس طرح کے اختیارات دیے جارہے ہیں، اس کے متعلق ہمارا دینی طبقہ نہیں جانتا اور اس وجہ سے دینی طبقے میں ایک گروہ نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح توہین اور گستاخی کا راستہ بند ہوجائے گا، تو دوسرے گروہ نے اسے اپنے مذہبی معتقدات اور تصورات پر حملہ قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے۔ درمیان میں وہ لوگ لا تعلق ہوگئے ہیں جو خود کو فرقہ وارانہ کشمکش سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ رہے وہ جو ریاستی بندوبست میں سرے سے مذہب کے عمل دخل کے ہی قائل نہیں ، وہ اس تقسیم پر بغلیں بجارہے ہیں۔

ڈاکٹر مشتاق احمد اس سازش پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ اس میں دو رائے نہیں کہ صحابۂ کرام، امہات المؤمنین اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی اسلامی شریعت کی رو سے سنگین جرم ہے اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں اس کا سدباب ضروری ہے۔ تاہم اس مقصد کےلیے قانون پہلے ہی سے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 298 الف کی صورت میں موجود ہے۔مجموعۂ تعزیرات میں اس دفعہ کا اضافہ 1980ء میں کیا گیا اور اس کے تحت اس جرم پر تین سال تک کی قید یا جرمانہ یا دونوں قسم کی سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ اب اگر کسی کا یہ موقف ہے کہ یہ سزا ناکافی ہے، یا بعض صورتوں کےلیے ناکافی ہے، تو اس کا درست طریقہ یہ تھا کہ وہ اس مخصوص قانون میں ترمیم کا راستہ اختیار کرتے، بجائے اس کے وہ نئے موضوعات کے ساتھ ایک اور نئے قانون کی تشکیل کی کوشش کرتے۔اس کوشش میں دیگر نقصانات کے علاوہ یہ نقصان ہوا ہے کہ اس مذہبی موضوع کو استعمال کرکے بیوروکریسی نے اپنے لیے تباہ کن اختیارات کی راہ ہموار کردی ہے ۔

ڈاکٹر مشتاق سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر 1980ء سے موجود قانون کے متعلق کسی کا یہ موقف تھا کہ اس میں گستاخی کی سزا تو مقرر کی گئی ہے لیکن ان مقدس شخصیات کے احترام کو واجب قرار دینے کےلیے ان کے نام کے ساتھ مخصوص الفاظ کا استعمال بھی لازمی ٹھہرایا جائے، تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس شرعی دلیل کی بنیاد پر یہ لازمی قرار دیا جاسکتا ہے کہ کسی کتاب میں ہر ہر مقام پر صحابی کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھا جائے؟ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا ان شخصیات کے احترام کو یقینی بنانے کےلیے آپ کو بس یہی طریقہ سجھائی دیا؟ مضمون نگار کا یہ سوال بھی تھا کہ اگر آپ کے نزدیک کسی صحابی کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھنا لازمی ہو اور اہل تشیع کے نزدیک وہاں علیہ السلام لکھنا بہتر یا ضروری ہو، تو آپ کی رائے کو ان پر کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے جبکہ دستور کی دفعہ 227 میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ کسی فرقے کے ”شخصی قانون“ میں قرآن و سنت سے مراد وہی کچھ ہوگا جو اس فرقے کے نزدیک قرآن و سنت ہے۔

پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ دستور کی دفعہ 203 بی ، سی کے تحت وفاقی شرعی عدالت کو بھی ”شخصی قانون“ کے متعلق یہ جائزہ لینے سے روکا گیا ہے کہ وہ قرآن و سنت سے متصادم ہے یا نہیں ۔ پھر سپریم کورٹ 1994 میں ڈاکٹر محمود الرحمان فیصل کیس میں قرار دے چکی ہے کہ دستور میں ”شخصی قانون“ سے مراد قرآن و سنت کے متعلق کسی فرقے کی مخصوص تعبیرات ہیں۔ ان دفعات اور اس فیصلے نے وفاقی شرعی عدالت کو فرقہ ورانہ مباحث کا اکھاڑا بننے سے بچالیا ہے۔اب بھی اگر اہل تشیع کا موقف یہ ہے کہ بعض صحابہ یا اہل بیت کے نام کے ساتھ وہ علیہ السلام لکھیں گے، تو ان کے اس موقف کو قانون یا عدالت کے ذریعے اسلام یا قرآن و سنت سے متصادم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

راقم نے مزید قانونی سوالات زیر بحث لاتے ہوئے لکھا کہ "سب سے پہلے یہ دیکھیے کہ دفعہ 2 میں ”کتاب“ کی تعریف کیا پیش کی گئی ہے۔ یہ سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ اس قانون کی رو سے ”کتاب“ کے متعلق بہت سارے اختیارات بیوروکریسی کو دیے گئے ہیں۔ چنانچہ کتاب کی تعریف میں یہ چیزیں شامل ہیں۔ کسی کتاب کی جلد یا جلد کا کچھ حصہ، پمفلٹ، موسیقی کی شیٹ، نشان، نقشہ، چارٹ؛ چاہے یہ چیزیں کسی بھی زبان میں ہوں اور کسی بھی صورت یا شکل میں ہوں۔ البتہ کتاب کی تعریف سے ” اخبار، میگزین، مجلہ، نیوز لیٹر اور نصابی کتاب ” خارج ہیںانہوں نے اس متنازعہ ایکٹ کے مندرجات میں موجود قانونی غلطیوں پر سے مزید پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس متنازعہ ایکٹ کی دفعہ 3 پر جو چھے مختلف اقسام کی کتابوں پر پابندی عائد کرتی ہے۔ یہ چھے اقسام درج ذیل ہیں

الف۔ خود کش حملہ آور کی تصویر پر مبنی کتاب (الا یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکم کے مطابق ہو)؛
ب۔ فرقہ وارانہ ، لسانیت اور نسل پرستی کی نوعیت کا لٹریچر
ج۔ بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا مواد
د۔ پاکستان کی سالمیت ، خودمختاری یا تحفظ کے خلاف مواد
ھ۔ عام طور پر مسلمہ اخلاقیات کے خلاف یا فحاشی پر مبنی مواد اور
ز۔ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، کسی اور نبی، فرشتے، قرآن، تورات، زبور، انجیل، دین اسلام، امہات المؤمنین، چار خلفائے راشدین، چار بنات مطہرات، تین ابنائے رسول ﷺ ، اہل بیت اطہار، رسول اللہ ﷺ کے نواسے نواسیوں اور اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم اجمعین میں کسی کی شان میں گستاخی یا تنقید پر مبنی مواد۔اب یہاں پہلی بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ ان چھے کی چھے اقسام کی کتب یا مواد کے متعلق پہلے ہی سے عمومی قانون مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات میں بکھرا ہوا موجود ہے۔

اس کے علاوہ خصوصی دفعات الگ قوانین میں بھی موجود ہیں۔ پھر بالخصوص چھٹی قسم کےلیے تعزیراتِ پاکستان کا پندرھواں باب (دفعات 295 تا 298-سی) موجود ہے، نیز دفعہ 153-اے موجود ہے۔ میری سمجھ میں بالکل نہیں آرہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں ایک اور نئے قانون کی منظوری کی ضرورت کیا تھی؟ پھر اس نئے قانون میں جس امر سے ہمارے دوستوں کو دلچسپی ہے وہ تو صرف ایک قسم کی کتابیں ہوگئیں۔ یہ باقی پانچ قسم کی کتابوں کا یہاں اسی قانون میں ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہورہا کہ مذہبی طبقے کو خوش کرنے کےلیے اس ایک قسم کا ذکر کیا گیا اور اس کی چھتری تلے دیگر چیزیں بھی شامل کی گئیں؟

انہوں نے لکھا کہ قانون کے الفاظ اتنے مبہم ہیں کہ کسی بھی کتاب کو کسی بھی وقت اس کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔ دائرے میں لانے سے کیا مراد ہے؟ دفعہ 3 کے تحت ایسی کتابوں کی اشاعت، پرنٹنگ اور ترجمے پر پابندی ہے اور دفعہ 11 کے تحت پہلی پانچ قسم کی کتب پر پانچ سال تک کی قید یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں قسم کی سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 11 کی توضیح میں یہ بات صراحت سے کہی گئی ہے کہ چھٹی قسم کی کتب (یعنی مذہبی کتب) میں گستاخی پر وہی سزا ہوگی جو تعزیراتِ پاکستان میں موجود ہے۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس قانون کے تحت دفعہ 4 کی طرف جس کی ذیلی دفعہ 2 کی رو سے ہر پبلشر پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی تمام شائع شدہ کتب کی مکمل تفصیلات ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز کو تین مہینوں کے اندر مہیا کرے۔ ذیلی دفعہ 3 کی رو سے یہی ذمہ داری کتاب کو پنجاب میں باہر سے امپورٹ کرنے والے پر بھی عائد کی گئی ہے۔ جو تفصیلات دینی ہوں گی، ان کی فہرست ذیلی دفعہ 1 میں دی گئی ہے۔ دفعہ 5 نے پبلشر پر ایک اور ذمہ داری یہ عائد کی ہے کہ وہ ہر کتاب کی اشاعت کے دن ہی اس کتاب کی چار مفت کاپیاں متعلقہ افسر کو فراہم کرے۔ اس دفعہ کی ہر خلاف ورزی پر دفعہ 12 کی رو سے دس ہزار روپے تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے اور اور پبلشر مذکورہ کتب کی قیمت بھی حکومت کو ادا کرنے کا پابند ہوگا۔مزید بیان کرتے ہیں کہ اس ایکٹ کی دفعہ 8 میں پبلشرز کےلیے ایک اور تازیانہ موجود ہے۔ اس دفعہ میں تصریح کی گئی ہے کہ ڈی جی پبلک ریلیشنز کی اجازت کے بغیر کوئی پبلشر کوئی کتاب شائع نہیں کرسکے گا، نہ ہی پنجاب میں لاسکے گا ۔

اجازت کےلیے باقاعدہ درخواست دینی ہوگی اور اس کےلیے مقررہ فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔ ڈی جی پبلک ریلیشنز یہ فیصلہ کرے گا کہ کتاب میں کوئی ایسا قابلِ اعتراض مواد تو موجود نہیں ہےجو قومی مفاد، ثقافت یا مذہبی یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےلیے نقصان دہ ہو۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ اگر کتاب مذہبی موضوع پر ہو تو اسے متحدہ علما بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ۔ ذیلی دفعہ 12 میں قرار دیا گیا ہے کہ پنجاب میں کسی دوسرے صوبے یا ملک سے آنے والی کتب پر بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔ پھر دفعہ 9 میں قرار دیا گیا ہے کہ پنجاب میں کتابوں کی فروخت کےلیے بھی باقاعدہ اجازت نامہ لینا ہوگا اور فروخت کےلیے رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ نیز کوئی کتاب فروش اپنے پاس ایسی کتاب نہیں رکھ سکے گا، نہ ہی فروخت کرسکے گا، جس میں اس قانون میں مذکور قیود کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ دفعہ 7 میں ڈی جی پبلک ریلیشنز کو بہت وسیع اختیارات دیے گئے ہیں جن کی رو سے وہ پبلشنگ ہاؤس، پرنٹنگ پریس، بک سٹور وغیرہ پر چھاپا مار سکتا ہے اور کتب اور دیگر مواد ضبط کرسکتا ہے، نیز ان کا سارا ریکارڈ چیک کرسکتا ہے ۔

مضمون نگار نے مزید لکھا کہ اس قانون کے ذریعے اسلام کا نام استعمال کرکے اصل میں ڈی جی پبلک ریلیشنز اور اس کے تحت بابوؤں کی فوج ظفر موج کو تباہ کن اختیارات دیے جارہے ہیں جو پنجاب میں کتابوں کی اشاعت، کتب فروشی اور کتب بینی ، سب کچھ کا بیڑا غرق کردینے کےلیے کافی ہیں۔ اس قانون میں مذہب کے استحصال کی بھرپور کوشش کی گئی ۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر اتنے اہم قانون کی منظوری سے قبل اس پر تفصیلی مباحثہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اہلِ علم کے ساتھ اس پر مشورہ کیوں نہیں کیا کیا ؟ اسلامی نظریاتی کونسل سے اس پر رائے کیوں نہیں لی گئی؟ اسمبلی میں ہی اس کا تفصیلی جائزہ کیوں نہیں لیا گیا؟ آخر ایسا قانون اسمبلی یوں بغیر مباحثے کے بالاتفاق کیسے منظور کرلیتی ہے؟ آخر میں مضمون نگار لکھتے ہیں کہ آخر مذہبی طبقہ کب تک اسلام کے نام پر بیوروکریسی کےاقتدار کےلیے راہ ہموار کرتا رہے گا؟

بشکریہ تسنیم نیوز

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …