پیر , 10 اگست 2020

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری

پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے اور قوم کوبھی یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں وہی نظام نافذ ہوگا جو نظام پیغبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ میں نافذ کیا تھا۔ریاست مدینہ کی آڑمیں کچھ تکفیری سوچ کے نمائندے پوری پاکستانی قوم پر اپنی سوچ مسلط کرکے دیگر مسالک کو دیوار سے لگانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جس کی ایک واضح مثال حال ہی میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں عجلت میں اور دیگر مسالک کے علمائے کرام سے مشاورت کے بغیر منظور کیا جانے والا ”تحفظ بنیاد اسلام” نامی بل ہے۔اس بل میں بظاہر دین اسلام کی حفاظت اور پیغمبرِ اسلام ص اور مقدس شخصیات کی عزت و ناموس کے تحفظ کے نام پرکچھ ایسے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں کہ ان میں بعض نکات کے قانونی شکل اختیار کرنے کی صورت میں ملک مزید انتشارکا شکار ہوگا۔ ملک میں فرقہ واریت بڑھے گی، بعض شرپسندعناصر تحفظ اسلام کے نام پراپنا عقیدہ رائج کرنے کی کوشش کریں گے۔

بل کے اہم نکات:

جہاں بھی پیغمبر اسلام کا ذکر آئے گا وہاں ان کے نام کے ساتھ خاتم النبین (آخری نبی) اور صلی اللہ علیہ و سلم لکھنا لازمی ہو گا؛
اہل بیت اطہارعلیہم السلام کے اسامی گرامی کے ساتھ ”علیہ السلام” کے بجائے رضی اللہ عنہ لکھا جائے گا؛ اصحاب پیامبر کے اسامی کے ساتھ ”رضی اللہ عنہ” لکھنا لازمی ہوگا؛

ایکٹ کے مطابق پیغمبرِ اسلام، اہل بیت اطہار، خلفا اور صحابہ کے بارے میں توہین آمیز کلمات قابل گرفت ہوں گے؛
انبیا، فرشتوں، قرآن مجید سمیت تمام الہٰامی کتب، زبور، تورات، انجیل اور دینِ اسلام کے بارے میں متنازع اور توہین آمیز الفاظ پر بھی قانون حرکت میں آئے گا؛توہینِ مذہب سے متعلق کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی مروجہ دفعات کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی؛
مذاہب خصوصاً دین اسلام کے بارے میں نفرت انگیز مواد کی اشاعت کی روک تھام ہو گی؛
ایسی کتب یا کوئی مواد جس میں پیغمبر اسلام، صحابہ، خلفا، اہل بیت اطہارعلیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات کی توہین کا پہلو ہو اس کی اشاعت یا تقسیم پر پابندی ہو گی؛
خدشات:

اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیش کئے جانے والے ”تحفظ بنیاد اسلام” نامی بل کے اکثر مندرجات تکفیری سوچ رکھنے والوں کے اپنے مسلکی نظریات کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنےکی کوشش ہے؛
بل پاس کروانے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا ہے اس کے باوجود بغض اہل بیت علیہم السلام میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ اپنی سوچ مسلط کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار دکھائی دیتے ہیں؛
پاکستانی دانشور طبقہ بھی اس بل کو ایک خاص سوچ رکھنے والوں کی طرف سے پاکستان میں بسنے والے کروڑوں شیعوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش قرار دیتا ہے؛اس بل کے پاس ہونے سے اہل سنت اور اہل تشیع کی کوئی بھی کتاب بازارمیں نہیں آئے گی یہاں تک دین اسلام سے متعلق ایک چھوٹی سے تحریر بھی شائع نہیں ہوسکے گی؛اہل تشیع اور اہل سنت عاشقان اہل بیت علیہم السلام کی تمام کتابوں پر پابندی عائد ہو جائےگی کیوں کہ ان کتابوں میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کا جہاں ذکرآیا ہے علیہ السلام لکھا گیا ہے؛
پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ بستے ہیں اور وہ پوری مذہبی آزادی کے ساتھ جینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جس پر پہلے سے ہی قانون سازی کی جاچکی ہے اور ایک جامع آئین موجود ہے لہذا نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں؛پاکستانی شہریوں کو اس ملک کا آئین یہ حق دیتا ہے کہ ملک میں مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں اور کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد زبردستی قبول کروائے، یہی روش پُرامن پاکستان کی ضمانت ہے؛
شدت پسند قوتیں نظریاتی اختلاف کو دشمنی میں بدلنا چاہتی ہیں اس کا مقابلہ کرنا ہرمحب وطن پاکستانی پر فرض ہے۔ مذکورہ بل ملت تشیع اور عاشقان اہل بیت علیہم السلام کو دیوار کے ساتھ لگانے کی سازش ہے،جس کا مقصد مقدسات کے تحفظ کے بجائے ان کے بنیادی عقائد پر ضرب لگانا ہے۔ اس ایکٹ سے بین المسالک ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے؛اہل بیت اطہار علیہم السلام کے اسامی مبارک کے ساتھ علیہ السلام لکھنا یا پڑھںا قرآن کریم کے رو سے ثابت ہے اور تمام شیعہ سنی علمائے کرام جب بھی آئمہ اطہارعلیہم السلام میں سے کسی کا نام زبان پر جاری کرتے ہیں تو ”علیہ السلام”کہنا فرض سمجھتے ہیں۔

عاشقان اہل بیت کی ذمہ داری

شیعہ اورسنی علمائے کرام اور سیاسی مذہبی تنظیموں نے مذکورہ بل کو مسترد کردیاہے، صوبائی حکومت کی جانب سے عارضی طورپر معطل قرار دیا جاچکا ہے اور امید ہے کہ پنجاب اسمبلی اسپیکر ایک مخصوص تکفیری سوچ رکھنے والے گروہ کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے تمام مکاتب فکر کے جید علما کرام سے مشاورت کرکے اس بل کے مندرجات پر نظر ثانی کریں گے تاہم اگر پھربھی تکفیری سوچ رکھنے والوں نے اپنا نظریہ جبری طور پرمسلط کرنے کی کوشش کی تو تمام عاشقان اہل بیت علیہم السلام کی حرمت کی خاطر پرامن مظاہرے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

بشکریہ تسنیم نیوز

یہ بھی دیکھیں

”تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ“ مذہب کے استحصال کی بھرپور کوشش

تحریر: ڈاکٹر مشتاق احمد آخر مذہبی طبقہ کب تک اسلام کے نام پر بیوروکریسی کےاقتدار …