پیر , 30 نومبر 2020

امریکی شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ 61 ویں روز بھی جاری

اسلام آباد: امریکی شہر پورٹ لینڈ اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے 61 ویں روز بھی جاری ہیں اور روز بہ روز ان میں شدت برھتی جارہی ہے۔ابلاغ نیوز نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مشتعل مظاہرین صدر ٹرمپ کے بھیجے گئے وفاقی دستوں سے جھڑپیں کررہے ہیں اور صدر سے ان کو واپس بلانے کا مطالبہ زوروں پر ہے۔ جبکہ پولیس اور فوجی اہل کار مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں اور دیگر راستوں کو کھلوانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور مظاہرین پرمرچوں کے اسپرے کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2ماہ قبل ریاست منی سوٹا کے شہر منیا پولس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں بے رحمانہ ہلاکت کے بعد نسل پرستی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس صورت حال کو بگاڑنے میں صدر ٹرمپ کا کلیدی کردار رہا کیوں کہ انہوں نے کئی شہروں میں فوج بھیج کر مظاہرین کو مزید اشتعال دلا دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی عدالت کے ایک جج نے ٹرمپ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ متعدد امریکی شہروں کے میئر جن میں پورٹ لینڈ، شکاگو، سیاٹل، نیو میکسیکو، کنساس سٹی، میسوری اور واشنگٹن ڈی سی وغیرہ کے میئر شامل ہیں اب کانگریس پر زور دے رہے ہیں کہ صدر ٹرامپ کے ہمارے شہروں میں وفاقی فوجی دستے بھیجنے کے حق کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ان کی یہ حرکت ملک میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں میں شدت کا باعث بن رہی ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے پورٹ لینڈ اور اوریگان میں وفاقی فوجی دستے روانہ کرنے کے بعد سے وہ شدید تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ وفاقی فوجی دستے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں حتیٰ انہوں نے حال ہی میں مظاہروں میں شامل ایک ریٹائرڈ امریکی بحریہ کے افسر اور نوجوان مظاہرین کی ماؤں کو مارا پیٹا حتیٰ پورٹ لینڈ کے میئر پر بھی آنسو گیس کے شیل فائر کئے۔ یہی وجہ ہے کہ پورٹ لینڈ شہر گذشتہ 61 روز سے نسل پرستی اور بے عدالتی کے خلاف مظاہروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں بھی ہفتے کے روز ایک شخص مظاہروں کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا نیز ارورا اور کولوراڈو میں بھی متعدد مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ وفاقی فوجی دستوں نے سیاٹل شہر میں 45 سے زائد مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ لاس اینجلس میں بھی مظاہرین پولیس سے جھڑپیں کررہے ہیں۔امریکی شہروں رچمنڈ اور ورجینیا میں بھی سیاہ فاموں اورصدر ٹرامپ کے حامی سفید فام نسل پرستوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں متعدد زخمی ہوئے۔ریاست کنٹاکی میں سیاہ فام مظاہرین ایک سیاہ فام خاتون کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بریونا ٹیلر نامی اس سیاہ فام خاتون کو پولیس نے ان کے گھر میں گھس کر ہلاک کردیا تھا۔مئی کے مہینے میں شروع ہونے والے ان مظاہروں میں پولیس اور وفاقی فوجی دستے اب تک سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرکے ان پر مقدمات قائم کرچکی ہے متعدد افراد پر دھشت گردی کے مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی کو ایک بار پھرحراست میں لے لیا گيا

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک …