پیر , 12 اپریل 2021

ایک اور سعودی صحافی قتل ، بن سلمان شک کے دائرے میں

ریاض: ایک اور سعودی صحافی مشکوک طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

مقتول سعودی صحافی صالح الشیحی نے دسمبر دو ہزار سترہ میں سعودی دربار میں پھیلی ہوئی بدعنوانی پر تنقید کی تھی اور اس جرم میں اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا ۔

سعودی صحافی صالح الشیحی کی موت کی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رپورٹرس وداؤٹ بارڈر تنظیم نے اس صحافی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا اور آل سعود کی جیلوں سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی مطالبہ کیا ہے۔

درایں اثنا نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان نے ایک سابق سیکورٹی عہدیدار سعد الجبری کو دھمکی آمیز پیغامات ارسال کئے ہیں۔ سعد الجبری سعودی شاہی خاندان کا بلیک باکس کہا جاتا ہے اور اس وقت کینیڈا میں پناہ لئے ہوئے ہے۔

ابھی کچھ دنوں پہلے واشنگٹن پوسٹ نے بھی لکھا تھا کہ سعودی ولیعہد بن سلمان نے بیرون ملک اپنے مخالفین سے مل جانے کے امکان کے پیش نظر ہزاروں سعودی شہریوں پرسفر کی پابندی عائد کردی ہے اوربدعنوانی کے الزام میں سابق سعودی ولیعہد محمد بن نائف کے خلاف بھی مقدمہ چلانے کا منصوبہ تیار کررہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …