اتوار , 28 فروری 2021

شام کے بارے میں مذاکرات اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے چاہئیں

اسلامی جمہوریہ ایران نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں قومی مذاکرات اقوام متحدہ کی نگرانی میں اور اس کے منشور کے تحت ہونے چاہئیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دی میستورا سے ٹیلی فونی گفتگو میں شام کے بحران اور شام سے متعلق مذاکرات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ شام کا بحران صرف اس ملک کی ارضی سالمیت، اقتدار اعلی اور شامی عوام کی خواہشات کے احترام کے دائرے میں اور خود شامی گروہوں کے درمیان آپسی بات چیت سے ہی حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مذاکرات میں شام کے ان مخالف سیاسی گروہوں کو شریک ہونا چاہیئے، جو ملک میں سیاسی طریقے سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے اسلامی جمہوریہ ایران سمجھتا ہے کہ یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی نگرانی میں اور اس کے منشور کے تحت انجام پائیں۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اچھے اور برے دہشت گرد گروہوں کی تقسیم کئے بغیر سبھی دہشت گرد گروہوں کی فہرست تیار کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاسی حل کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو چاہیئے کہ وہ کسی تفریق کے بغیر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ اس ٹیلی فونی گفتگو میں شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دی میستورا نے بھی شام کے بارے میں ویانا اور نیویارک کانفرنسوں میں ایران کی موثر اور تعمیری شرکت کی تعریف کی اور کہا کہ شام میں سیاسی عمل کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے درمیان کسی اتفاق رائے کے حصول کے بارے میں وہ پرامید ہیں۔ اسٹیفن دی میستورا نے کہا کہ شام کے عوام کی خواہشات اور اس ملک کی ارضی سالمیت و اقتدار اعلی کا احترام اقوام متحدہ کا ایک اہم اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویانا اور نیویارک میں ہونے والے مذاکرات میں سبھی موثر ممالک کی شرکت کے پیش نظر ہم امید کرتے ہیں کہ رواں ماہ کے اختتام تک شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوجائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …