ہفتہ , 15 اگست 2020

عيد قربان سنت ابراھيم عليہ السلام

جناب ابراھيم علیہ السلام نے خواب ديكھا كہ وہ اپنے فرزند اسماعيل كو ذبح كر رہے ہيں ۔ جس كا مطلب يہ تھا كہ خداوند عالم چاہتا ہے كہ ابراھيم اپنے فرزند كو ذبح كريں ۔

جناب ابراھيم علیہ السلام اپنے اس خواب كو پورا كرنے كے لئے مكہ تشريف لائے اور جناب اسماعيل علیہ السلام كو خداوند عالم كا يہ حكم سنايا : فَلَما بَلَغَ مَعَهُ السَعىَ قالَ يابُنَىَّ اِنّى اءَرى فِى المَنامِ اءَنّى اَذبَحُكَ فَانظُرماذاتَرى ، قالَ يا اَبَتِ افعَل ماتُؤ مَرُ سَتَجِدُنى اِن شاءَ اللهُ مِنَ الصابِرينَ (سورۂ صافات ،آيت / ۱۰۲) جناب اسماعيل (ع) نے اپنے رب كے حكم كے آگے سر تسليم خم كر ديا اور فرمايا : بابا جان! مجھے ذبح كرنے سے پہلے میرے ہاتھ پاؤں مضبوطی سے باندھ ديں ، خدا كا حكم بجالانے ميں سستی نہ كريں تاكہ اجر ميں كمی نہ واقع ہو ، میرا پيراہن خون آلود نہ ہونے پائے اس لئے كہ ميری ماں شايد ميرا خون آلود پيراہن ديكھ كر صبر نہ كرسكے ۔ بابا جان! چاقو تيز كر ليں تاكہ ذبح ہوتے وقت مجھے زيادہ تكليف نہ ہو ۔ بابا جان! میرا پيراہن لے جاكر ماں كے حوالے كرديں تاكہ انھيں تسلي ہو جائے ۔ مجھے منھ كے بل لٹا ديں اور آنكھوں پر پٹی باندھ ديں تاكہ میری آنكھ ديكھ كر آپ پر شفقت نہ طاريی ہونے پائے كہ شايد شفقت پدری حكم الٰہی كے نافذ ہونے ميں مانع ہو جائے ۔

جناب ابراھيم علیہ السلام نے اسماعيل علیہ السلام كي تمام تدبيروں كو نظر ميں ركھتے ہوئے اسماعيل کے گلے پر خنجر چلايا ليكن گلا نہ كٹ سكا ۔ حضرت ابراہيم علیہ السلام نے دوبارہ كوشش كی ليكن كامياب نہ ہوئے يہاں تک كہ جب آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دیکھا کہ حضرت اسما‏عیل کی جگہ ایک دنبہ موجود ہے خداوند عالم نے ابراھيم عليہ السلام پر يہ وحي نازل كی ” يا اِبراهيمُ قَد صَدَّقتَ الرُّءيا اِناكَذلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ ” اے ابراھيم تم نے اپنا خواب سچ كر دكھايا ، ہم محسنين كو ايسي ہی جزا عطا كرتے ہيں ۔

يہی وہ واقعہ ہے جس كي ياد ميں ہم عيد قربان مناتے ہيں اور قربانی كرتے ہيں گويا يہ عيد بكرا،گائے ،دنبہ یا اونٹ قربانی كرنے كے لئے نہيں بلكہ اپني عزيزترين چيزوں كو قربان كرنے كی عيد ہے ۔

اس ميں انسان اپني خواہشات كي قرباني كرے ، نفس امارہ كي قربانی كرے ۔ فرزند سے زيادہ كوئي چيز عزيز نہيں ہوتی ہے ہم اپنے فرزند كی نہيں تو كم سے كم جناب اسماعيل علیہ السلام كي قربانی كی ياد ميں اپنی عزيز ترين آرزوؤں كو تو قربان كرسكتے ہيں تمام امتوں کے لئے قربانی کو جائز کرنے کا ہدف یہ تھا کہ وہ صرف خداوند عالم وحدہ لاشریک کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور جو کچھ وہ حکم دے اسی پرعمل کریں دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ قربانی کے قانون کو وضع کرنے کی ایک وجہ عبودیت،ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو آزمانا ہے. عربی زبان میں قربانی کو ”اضیحہ“ کہتے ہیں لہذا دسویں ذی الحجہ کوجس میں قربانی کی جاتی ہے ، اس کو عیدالاضحی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، فقہی اصطلاح میں قربانی اس جانورکو کہتے ہیں جس کو عیدالاضحی (بقرعید کے روز) بارہویں یاتیرہویں ذی الحجہ تک مستحب یا واجب ہونے کے اعتبار سے ذبح یانحر کرتے ہیں-

یہ بھی دیکھیں

”تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ“ مذہب کے استحصال کی بھرپور کوشش

تحریر: ڈاکٹر مشتاق احمد آخر مذہبی طبقہ کب تک اسلام کے نام پر بیوروکریسی کےاقتدار …