جمعرات , 24 ستمبر 2020

علامہ شہید عارف حسین حسینی اسلام کے نڈر اور فرض شناس سپاہی تھے

پاکستان بھر میں پاکستانی شیعوں کے رہنما شہید علامہ عارف حسین حسینی کی 32 ویں برسی منائی جارہی ہے ۔ شہید علامہ عارف حسین حسینی اسلام کے بےباک، نڈر اور فرض شناس سپاہی تھے جنھوں نے پاکستانی قوم کو بیدار کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے ممتاز و مایہ ناز عالم دین اور پاکستانی شیعوں کے رہنما علامہ شہید عارف حسین حسینی ٢٥ نومبر ١٩٤٦ کو پارہ چنار کے علاقہ پیواڑ میں سید فضل حسین شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ شہید سید عارف حسین الحسینی امام خمینی(رہ) کی تحریک کے آغاز سے ہی قافلہ حق میں شامل ہو گئے اور اپنی زندگی انقلاب اسلامی کی ترویج اور دفاع میں بسر کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہو گئے.

امام خمینی (رح) اور ان کے پیغام کے ساتھ علامہ شہید سید عارف حسین الحسینی کی گہری فکری ، جذباتی اور والہانہ وابستگی تھی. یوں تو آپ ایک حلیم الطبع اور نرم خو انسان تھے ، لیکن جب بات امام خمینی (رح) اور ان کے افکار کی ہوتی اور کوئی شخص ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا یا کمزوری کا مظاہرہ کرتا تو جلال سے آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا . آپ امام خمینی (رح) اور ان کے اسلامی انقلابی پیغام کے خلاف کچھ بھی سننے کے روادار نہ تھے. آپ امام خمینی (رح) کے پیغام کو زمان و مکان کی قید سے آزاد ایک آفاقی پیغام سمجھتے تھے.

شہید عارف حسین الحسینی ایک مبارز و مجاہد عالم دین تھے جو حق کی خاطر جان دینا اور لینا بھی جانتے تھے. افکار امام خمینی(رہ) کی ترویج کو فریضہ سمجھ کر بے لوث و بے غرض انداز میں انجام دیتے تھے.جن دنوں میں امام خمینی (رح) و انقلاب کا نام لینا عزت و تکریم و وسائل میں اضافے کا سبب نہیں بلکہ قید و بند کی صعوبتوں ، تکالیف و زندگی داو پر لگانے کا باعث تھا ، اس دور میں شہید حسینی پیغام خمینی (رح) کی ترویج کرنے والے ہر اول دستے میں شامل تھے.

شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے اپنی قیادت کے چار سالہ قلیل مدت میں شیعان پاکستان کو ایک لڑی میں پرونے ، وحدت امت قائم کرنے ، انقلاب اسلامی کا پیغام کوملک کےطول عرض میں پھیلانے اور استعماری قوتوں کو للکارنے کا کام بیک وقت انجام دیا . آپ کی برق رفتار طوفانی فعالیت سے عالمی استعمار اور اسکے مقامی گماشتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور ایران کے بعد سرزمین پاکستان پر بھی اسلامی انقلاب کے سورج کا طلوع ہونا نوشتہ دیوار تھا جسے دوست دشمن سب بہ آسانی پڑھ سکتے تھے. یہی وجہ تھی کہ 5 اگست ١٩٨٨ کو باطل قوتوں کے ایجنٹوں نے نماز فجر اور محراب مسجد میں شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو ان کے جد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کی طرح شہید کردیا ۔

علامہ عارف حسین الحسینی نے اپنی پرخلوص، باہمت،باوفا اور باعزم ٹیم کی مدد سے امام خمینی(رح) کا پیغام پاکستان کے کونے کونے تک پہنچایا . آپ نے امام خمینی کا فلسفہ وحدت اور اسلامی بیداری کا پیغام تمام مکا تب فکر کے سامنے رکھا ، امریکہ کی اسلام دشمنی اور سازشوں کو طشت از بام کیا . اور مظلومین جہاں خصوصا فلسطین و کشمیر، افغانستان کے مسلمانوں کے لیے صدائے حق بلند کی. ساتھ ہی آپ نے پاکستان سے آمریت اور استعما ری اثر و رسوخ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام پر زور دیا. آپ کے نورانی قلب سے اٹھی صدا حق باد نسیم کا جھونکا بن کر پاکستان کے چار سو پھیل گئی.ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے مسلمان اپنے مسلکی اختلافات بھلا کر اپنے اصل دشمن کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوئے. آپ کے اتحاد پر مبنی چراغ آج بھی پاکستان میں روشن ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …