جمعرات , 24 ستمبر 2020

اسلام فوبیا، پس پردہ عوامل اور سدباب

تحریر: ڈاکٹر اکبر نصراللہی

حال ہی میں فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے ایک بار پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا اظہار کیا ہے۔ اس میگزین نے پانچ سال پہلے ختمی مرتبت (ص) کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے، جس کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل ہجوم نے اس کے دفتر پر حملہ کرکے ملعون کارٹونسٹ جان کابو اور چند دیگر افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ حال ہی میں اس جریدے نے اس واقعہ کی پانچویں سالگرہ کی مناسبت سے "سب کچھ اس خاطر” کے عنوان کے تحت ایک خبر شائع کی اور گستاخانہ کارٹونز دوبارہ شائع کر دیئے ہیں۔ چارلی ہیبڈو کے دفتر پر یہ حملہ انتہائی مشکوک انداز میں انجام پایا تھا۔ فرانس کی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کے سابق سربراہ جان میری لوپن نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ حملہ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے انجام پایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے مشکوک شدت پسندانہ اقدامات اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز اقدامات کا تسلسل اسلام فوبیا مہم کا حصہ ہیں۔

اسلامی مقدسات کی توہین، اشتعال آمیز اقدامات اور مسلمانوں کو شدت پسندی پر ابھارنے کی کوشش ایک سازش کے تحت انجام پاتے ہیں، جن کے ذریعے عالمی صہیونزم اور اسلام دشمن قوتیں مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسلام فوبیا یا اسلام کے دینی مقدسات کی توہین کوئی نئی چیز نہیں۔ سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد مغربی دنیا میں دین مبین اسلام کی جانب رجحانات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور بڑے پیمانے پر مغربی شہری اسلام سے شرف یاب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ لہذا اکثر مغربی حکومتوں نے تیزی سے پھیلنے والی اسلام کی اس لہر پر قابو پانے کیلئے اسلام فوبیا کا سہارا لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ فرانس کے علاوہ ڈنمارک کے مختلف جریدوں میں توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت، مختلف قسم کی اسلام مخالف فلموں کی پروڈکشن جیسے "فتنہ” وغیرہ، فرانسیسی میگزین کلوزر میں پیغمبر اکرم (ص) کی شان میں گستاخانہ کارٹونز کی اشاعت اور فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو میں بارہا گستاخانہ کارٹونز کی اشاعت اسی اسلام فوبیا مہم کی چند مثالیں ہیں۔

مغربی دنیا میں جاری اسلام فوبیا مہم کا مقابلہ کرنے کیلئے کچھ اہم نکات کی جانب توجہ ضروری ہے:
1)۔ مغربی حکمران یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ آزادی اظہار لبرل ڈیموکریسی کے بنیادی عناصر میں شامل ہے، لہذا وہ اظہار کی آزادی کو محدود نہیں کرسکتے اور یوں ایسے توہین آمیز اقدامات کی روک تھام بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن دوسری طرف ایسے بہت سی مثالیں خود مغربی دنیا میں پائی جاتی ہیں، جو مغربی حکمرانوں کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ مثال کے طور پر اسی چارلی ہیبڈو جریدے میں کام کرنے والے کارٹونسٹ موریس سینٹ ایسنتھ کی معزولی ہے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے 27 جنوری 2009ء کے دن یہ خبر شائع کی تھی کہ موریس سینٹ کی معزولی کی وجہ اس کی جانب سے فرانس کے صدر نیکولس سارکوزی کے بیٹے کے بارے میں ایک لطیفہ شائع کرنا تھی۔ موریس پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے یہودیوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمجنس بازی پر تنقید کا غیر قانونی اور ممنوع ہونا اور ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی قسم کا سوال، تحقیق یا تردید کا اظہار کرنے پر پابندی آزادی اظہار پر مبنی دعووں کے جھوٹا ہونے کی دیگر مثالیں ہیں۔ فرانس میں ہولوکاسٹ پر تنقید کرنے کی سزا ایک سال قید اور تین ہزار فرانک جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔

2)۔ مختلف ادیان کی توہین بین الاقوامی قوانین کے تحت جرم ہے۔ بین الاقوامی سوشل لاء کنٹریکٹ کی شق نمبر 19 اور 20 اس پر دلالت کرتی ہیں۔ شق نمبر 19 کی ذیلی شق 3 میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار کا حق نامحدود نہیں ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔ اسی طرح شق نمبر 20 میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر قسم کی قومی، مذہبی اور نسلی منافرت پھیلانا منع ہے۔ مزید برآں، 1948ء میں منظور ہونے والا اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ، 1996ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کا اعلامیہ، 12 دسمبر 2003ء کو اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کا بیانیہ اور 2003ء میں ڈوربن کے اجلاس میں منظور ہونے والا بیانیہ بھی ادیان اور مقدس شخصیات کی توہین کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

3)۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کا چہرہ خراب کرنے اور مغربی عوام کو اسلام سے خوفزدہ کرنے کیلئے القاعدہ، داعش اور طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کو اسلام کے نمائندہ گروہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مغربی میڈیا کے اس شیطانی حربے کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا والوں کو اسلام کے حقیقی چہرے سے روشناس کروانا بہت ضروری ہے۔ دین مبین اسلام کی حقیقی تعلیمات اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب و تمدن کے محاسن اور خوبصورتیاں واضح کرنا بھی ضروری ہیں۔
4)۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسلامی مقدسات اور دینی شخصیات کی شان میں گستاخی کا ردعمل شدت پسندی کی صورت میں ظاہر نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ مغربی تھنک ٹینکس ردعمل کے طور پر سامنے آنے والی اس شدت پسندی کو اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ لہذا ایسے اقدامات کا مقابلہ بین الاقوامی قوانین کا سہارا لے کر منظم انداز سے انجام پانا چاہیئے۔

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …