جمعرات , 24 ستمبر 2020

امام حسین علیہ السلام کی نویں نسل، امام مہدی عج (2)

تحریر: سید حیدر نقوی

مقالہ کے حصہ اول میں ہم نے اہل سنت منابع کی روشنی میں "امام مہدیؑ، امام حسن ؑ کی نسل سے” پر گفتگو کی۔ اس سلسلے میں اہل سنت اکابر علمائے کرام، فقہاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کیے گئے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ مقالہ کے اس حصے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ مختصر طور پر رسول اکرمﷺ کے خلفاء کے سلسلے کو بھی بیان کرتے چلیں کیونکہ علماء، محققین اور مورخین کے کئی ایسے اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور اسی طرح امامؑ کے تمام اجداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ رسول اللہﷺ کے جانشینوں کا ذکر کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، امام حسن ؑ یا امام حسینؑ کی نسل مبارک سے ہیں۔

کچھ حدیثیں ہیں جو صرف رسولؐ خدا کے خلفاء کی تعداد بتاتی ہیں اور نام نہیں بتاتی اور بعض احادیث ان کی تعداد بھی بتاتی ہیں اور نام بھی، جبکہ بعض احادیث صراحت کرتی ہیں کہ امام مہدیؑ اہل بیتؑ میں سے بارہویں امامؑ ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بعض احادیث، بعض دوسری احادیث کی تفسیر کرتی ہیں اور یہ بات بالکل درست ہے کہ یہ احادیث حد تواتر سے متجاوز ہیں۔ اگر ہم ان ساری احادیث کو یہاں ذکر کر دیں تو بات طویل ہو جائے گی۔ اس لیے ہم اختصار سے کام لیتے ہیں اور بعض ایسی احادیث و مصادر بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، تاکہ حق کے متلاشیوں کو حق و حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو۔ احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں بارہ آئمہ والی اس حدیث کو جابر بن سمرہ سے چونتیس طرق سے نقل کیا ہے اور وہ روایت یہ ہے: جابر بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: "میں نے نبیؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس امت میں بارہ خلیفے ہوں گے۔”(مسند احمد بن حنبل: ج۵، ص ۱۰۶)

اس کو مسلم نے اپنی صحیح کے حصہ کتاب الامارۃ میں روایت کیا ہے اور بخاری نے بھی اپنی صحیح کے جزو کتاب الاحکام میں جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: "میں نے نبی اکرمؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد آپؐ نے ایک کلمہ کہا جسے میں نہ سن سکا۔ راوی کہتا ہے کہ میرے باپ نے بتایا کہ آگے آپؐ نے فرمایا تھا کہ وہ بارہ کے بارہ قریش میں سے ہوں گے۔” اس کے علاوہ ترمذی نے اپنی صحیح میں نقل کی ہے۔ نیز یہ روایت مستدرک علی الصحیحین، تیسیرالوصول الی جامع الاصول، منتخب کنزل العمال، تاریخ بغداد، تاریخ الخلفاء اور ینابیع المودۃ میں موجود ہے اور اس حدیث کو امام حسنؑ، عبداللہ بن مسعودؓ، انس بن مالک، ابو ہریرہ، عمر بن الخطاب، واثلہ بن الاسقع اور ابوقتادہ سے روایت کیا گیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ احادیث صراحت کرتی ہیں کہ سارے آئمہ قریش سے ہوں گے اور ان کی تعداد بارہ ہوگی۔

اب یہاں کچھ اور احادیث موجود ہیں کہ جو ان بارہ اماموں کے نام بتاتی ہیں: الجوینی الشافعی نے اپنی کتاب فرائد السمطین میں نقل کیا ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: ’’میں نبیوںؐ کا سردار ہوں، علیؑ اوصیاءؑ کے سردار ہیں اور بے شک میرے بعد میرے اوصیا بارہ ہیں، جن کے اول علیؑ اور آخری مہدیؑ ہیں۔‘‘ سلیمان القندوزی الحنفی نے ینابیع المودۃ میں حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’بے شک میرے خلفاء، میرے اوصیاء اور مخلوق پر میرے بعد اللہ کی برگزیدہ بارہ ہستیاں حجت ہیں۔ ان کے پہلے علیؑ اور آخری میرے بیٹے مہدیؑ ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ روح اللہ نازل ہو کر امام مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور آپؑ کی حکومت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی۔‘‘ یہ روایت بھی حضرت ابن عباسؓ سے ہے کہ ایک یہودی رسولؐ خدا کے پاس آیا، جسے نعثل کہا جاتا تھا اور آکر بولا: اے محمدؐ! میں آپؐ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کرتا ہوں، جو میرے سینے میں کھٹک رہی ہیں، یہاں تک کہ اس نے کہا کہ مجھے اپنے وصی کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہے؟ کیونکہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور ہمارے نبی موسیٰ بن عمرانؑ نے یوشع بن نون کو وصی بنایا۔

رسولؐ خدا نے فرمایا: "بے شک میرے وصی علیؑ ابن ابی طالبؑ ہیں، ان کے بعد میرے دو بیٹے حسن و حسینؑ اور پھر صلبِ حسینؑ میں نو بیٹے ہیں۔” اس یہودی نے کہا: مجھے ان کے نام بتائیں؟ رسولؐ خدا نے فرمایا: "جب حسینؑ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو ان کا بیٹا علیؑ زین العابدین، پھر ان کے بعد ان کا فرزند محمد بن علیؑ، جب محمدؐ چلے جائیں گے تو ان کا بیٹا جعفر پھر ان کا بیٹا موسیٰؑ (الکاظم)، پھر ان کا بیٹا علی(الرضاؑ)، پھر ان کا بیٹا محمدؐ (الجواد)، پھر ان کے بعد ان کا بیٹا علیؑ، پھر ان کے بعد ان کا فرزند حسنؑ، پھر ان کے بعد ان کے بیٹے محمد المہدیؑ الحجۃ، پس یہ بارہ خلفائے رسولؐ ہیں۔” جلیل القدر عالم علامہ الشیخ لطف اللہ الصافی نے فریقین کی کتب سے 80 سے زیادہ روایتیں جمع کی ہیں اور یہ احادیث ہمارے اس بیان کی صراحت اور تصدیق و تصمیم کرتی ہیں، جو ہم نے اس فصل میں بیان کیا ہے۔

کچھ روایات حسب ذیل ہیں: ابوالقاسم علی بن محمد الرازی القمی نے اپنی کتاب کفایۃ الاثر میں سہل بن سعد الانصاری سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا: میں نے حضرت فاطمہؑ بنت رسولؐ اللہ سے آئمہ کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا: "رسولؐ اللہ فرمایا کرتے تھے: اے علیؑ! آپ میرے بعد امام اور خلیفہ ہیں اور آپؑ کو مومنین کی جانوں پر ان سے زیادہ حق تصرف حاصل ہے۔ پس جب آپؑ چلے جائیں گے تو آپؑ کے بیٹے کو مومنین کی جانوں پر ان سے زیادہ حق تصرف حاصل ہو جائے گا۔ جب امام حسنؑ چلے جائیں گے تو یہ حق تصرف آپؑ کے فرزند امام حسینؑ کا ہو جائے گا۔ امام حسینؑ کے بعد ان کے فرزند علیؑ ابن الحسینؑ اس تصرف کے وارث ہوں گے، ان کے بعد ان کے بیٹے امام محمد باقرؑ، ان کے بعد ان کے فرزند امام جعفرؑ(الصادق)، ان کے بعد ان کے بیٹے امام موسیٰ (الکاظم)، ان کے بعد ان کے بیٹے امام علیؑ (الرضا)، ان کے بعد ان کے بیٹے امام محمدؑ (التقی)، ان کے بعد ان کے فرزند علیؑ (النقی)، ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت امام حسن (العسکریؑ) اور ان کے بعد ان کے بیٹے القائم المہدیؑ کو تمام مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق تصرف حاصل ہوگا۔ خدا انھیں مشرق و مغرب کی فتح دے گا۔ پس یہ آئمہ برحق ہیں، سچ کی زبانیں ہیں، جس نے ان کی مدد کی، وہ نصرت یافتہ ہوگا اور جو ان کو چھوڑ جائے گا وہ ذلیل ہو جائے گا۔” یہ حدیث تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ کفایۃ الاثر میں امام حسینؑ سے بھی مروی ہے۔

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ہم سے خطاب فرمایا: "اے لوگو! میں عنقریب تمھیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور غائب کرنے والے کی طرف جانے والا ہوں، میں تمھیں اپنی عترت کے بارے میں نیکی کی تلقین کرتا ہوں، بدعات سے بچ کر رہنا، بے شک ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی، اپنے گمراہ سمیت جہنم میں ہوگی۔ اے لوگو! جو سورج کو کھو دے، اسے چاہیئے کہ چاند کو پکڑے، جو چاند کو کھو دے، اسے چاہیئے کہ فرقدین سے تمسک رکھے اور جو فرقدین کو چھوڑ دے، اسے چاہیئے کہ میرے بعد روشن ستاروں کا دامن تھام لے۔ میں تم سے اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور تمھارے لیے خدا کی مغفرت کا خواستگار ہوں۔” حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا: جب آپؐ منبر سے اترے تو میں آپؑ کے پیچھے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر چلے گئے۔ میں بھی آپؐ کے ساتھ چلا گیا اور عرض کیا: اے رسولؐ خدا! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم سورج کو کھو دو تو چاند کو پکڑو، جب چاند نہ پائو تو فرقدین کا دامن تھام لو اور جب فرقدین نہ ہوں تو چمک دار ستاروں کی راہ اپنائو۔ (اے رسولؐ خدا) یہ سورج، چاند، فرقدین اور چمک دار ستارے کون ہیں۔؟

رسول خداؐ نے فرمایا: "سورج تو میں ہوں، چاند علیؑ ہیں۔ جب میں تم میں موجود نہ رہوں تو حضرت علیؑ کا دامن تھام لینا اور فرقدان حسنؑ و حسینؑ ہیں اور جب علیؑ نہ رہیں تو ان دونوں کی راہ کو اپنانا اور چمک دار ستارے، اولاد حسینؑ میں سے نو امام ہیں جن میں نویں امام مہدیؑ ہیں۔” پھر رسولؐ خدا نے فرمایا: "یہی میرے بعد میرے خلفاء اور اوصیاء ہیں۔ یہی نیک لوگوں کے امام ہیں، تعداد میں حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں کے برابر اور حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں کے برابر ہیں۔” حضرت سلمان فارسیؓ نے عرض کیا: اے رسولؐ اللہ! مجھے ان کے نام بتائیں؟ رسولؐ خدا نے فرمایا: "ان کے اول اور سردار علیؑ ہیں۔ میرے دو بیٹے (حسنینؑ)، ان کے بعد زین العابدینؑ حضرت علیؑ ابن الحسینؑ ہیں۔ ان کے بعد محمد بن علی انبیاء کے علم کو آشکار کرنے والے ہیں، ان کے بعد الصادق جعفرؑ بن محمدؑ ہیں، ان کے بعد ان کے بیٹے الکاظمؑ جو موسیٰؑ بن عمرانؑ پیغمبرؐ خدا کے ہم نام ہیں۔ پھر ان کے بعد ان کے وہ علی (الرضاؑ) بیٹے امام ہیں کہ جنھیں خراسان میں شہید کیا جائے گا، پھر ان کے بیٹے محمد (تقیؑ) پھر علی النقیؑ اور پھر حسن العسکریؑ اور ان کے بعد الحجۃ القائم ہیں۔ ان کی غیبت کے دور میں ان کا انتظار کیا جائے گا۔ بے شک یہ سارے امامؑ میری عترت (وعظمت) ہیں، میرا خون اور گوشت پوست ہیں، ان کا علم میرا علم ہے، ان کا حکم میرا حکم ہے، جس نے مجھے ان کے بارے میں اذیت دی تو میں خدا کے پاس اس کی شفاعت نہ فرمائوں گا۔”(فرائد السمطین: ج۲، ص ۲۱۸، شواہد التنزیل: ج۱، ص۵۹، ج۲، ص ۲۱۱)

ذیل میں ہم مزید کچھ روایات جو اہل سنت سے نقل ہوئی ہیں اور اس پر دلالت کرتی ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں کو بیان کرتے ہیں:
روایت۔ 1:
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ کی دیکھ بھال کرنے والے ’’ابی سلمیٰ‘‘ کا بیان ہے کہ اس نے حضرت رسول خداؐ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس رات مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو خداوند بزرگ و برتر نے مجھ سے فرمایا: ’’اے محمدؐ! میں نے تم کو پیدا کیا اور علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کی نسل سے آئمہ کو پیدا کیا۔ ان سب کو اپنے نور سے پید کیا اور تمہاری ولایت آسمان و زمین پر پیش کی۔ جس نے انھیں قبول کیا، وہ میرے نزدیک مومن ہے اور جس نے انکار کیا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔ اے محمدؐ! کیا تم ان کو دیکھنا چاہتے ہو۔؟ میں نے کہا: ہاں! میرے پروردگار! خدا نے مجھ سے فرمایا: عرش کے داہنے جانب دیکھو۔ جب میں نے ادھر دیکھا تو علی، فاطمہ، حسن، حسین، علی بن حسین، محمد بن علی، جعفر بن محمد ، موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ، محمد بن علی، علی بن محمد، حسن بن علی اور مہدی (علیہم السلام) کو دیکھا اور ان میں سے مہدی کو زیادہ روشن دیکھا، وہ سب نماز پڑھ رہے تھے اور قیام کی حالت میں تھے اور مہدی ان کے درمیان روشن ستارے کی طرح چمک رہے تھے۔ خداوند عالم نے فرمایا: یہ حجتیں ہیں اور یہ (مہدیؑ) آپؐ کی عترت کا انتقام لیں گے۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! یہی میرے دوستوں کے لیے حجت واجبہ ہیں اور یہی میرے دشمنوں سے انتقام لیں گے۔”(مقتل الحسینؑ(خطیب خوارزمی حنفی) ۹۴/۱، فرائد السمطین(شیخ الاسلام حموئی شافعی)۲۳۳/۲، ح ۵۷۱)

روایت۔ 2:
جناب حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا: ’’اگر دنیا سے صرف ایک دن بھی باقی رہ گیا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کرے گا، یہاں تک کہ میری نسل سے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کا نام میرا نام ہوگا۔‘‘ یہ سنتے ہوئے جناب سلمانؓ اٹھ کھڑے ہوئے دریافت کیا: ’’اے رسول خداؐ! آپؐ کے کس فرزند کی نسل سے یہ شخص ہوگا؟ آپؐ نے اپنا ہاتھ امام حسین علیہ السلام کی پشت پر رکھا اور فرمایا: "میرے اس فرزند کی نسل سے۔”( ذخائر العقبی۱۳۷و۱۳۶، میزان الاعتدال (شمس الدین ذھبی) ۱۸/۲، ح ۵۷۵، مطبوعہ قاھرہ، غقد الدرر، باب۱،ص ۲۴)
روایت۔ 3:
جناب سلمان محمدیؓ سے روایت ہے۔ میں حضرت رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت امام حسینؑ آپؐ کے زانوں پر بیٹے ہوئے تھے اور آپؐ ان کی آنکھوں کا بوسہ لے رہے تھے اور منہ چوم رہے تھے اور فرما رہے تھے: "تم سردار ہو، سردار کے فرزند ہو، سرداروں کے والد ہو۔ تم امام ہو، امام کے فرزند ہو اور آئمہ کے والد ہو۔ تم حجت ہو، حجت خدا کے فرزند ہو اور نو حجتوں کے والد ہو، جن کا نواں قائمؑ ہے۔” (مقتل الحسین۱، فصل ۱۴۶/۷، مودۃ القربی ۹۵/۱۰ مطبوعہ لاہور۔ ارجح المطالب (عبیداللہ امر تسری) ۴۴۸)

روایت۔ 4:
جناب جابر بن عبداللہ انصاریؓ کی روایت ہے کہ جندل بن جنادہ بن جبیر نامی یہودی حضرت رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور رسول خداؐ سے کہنے لگا۔ آپؑ اپنے بعد اپنے اوصیاء کے بارے میں بیان فرمایئے، تاکہ ان سے تمسک کر سکوں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا: "میرے اوصیاء بارہ ہیں۔” جندل نے کہا: یہی بات توریت میں بھی مذکور ہے۔ اے خدا کے رسولؐ! ان کے نام بیان فرمایئے: آنحضرتؐ نے فرمایا: "سب سے پہلے سید الاوصیاء ابوالحسن علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ پھر ان کے فرزند حسنؑ و حسینؑ۔ دیکھو! ان سے متمسک رہنا اور جاہلوں کے دھوکے میں نہ آنا۔” جندل نے کہا: ہم نے تورات اور کتب انبیاء علیہم السلام میں یہ نام دیکھے ہیں۔ ایلیا، شُبر اور شبیر جو علیؑ و حسنؑ اور حسینؑ کے نام ہیں۔ جندل نے مزید دریافت کیا: حسینؑ کے بعد کون ہوں گے اور ان کے نام کیا ہیں۔؟ آنحضرتؐ نے فرمایا: "جب حسینؑ کی مدت پوری ہو جائے گی تو ان کے فرزند علیؑ جن کا لقب زین العابدین ہے، آئیں گے۔ ان کے بعد ان کے فرزند محمد، ان کے بعد ان کے فرزند جعفرؑ جو صادق کے نام سے مشہور ہوں گے، ان کے بعد کے فررند موسیٰؑ جو کاظم کے نام سے یاد کیے جائیں گے۔ ان کے بعد ان کے فرزند علیؑ جو رضا کے لقب سے مشہور ہوں گے۔ ان کے بعد ان کے فرزند محمدؐ جو تقی و ذکی کے نام سے پکارے جائیں گے، ان کے بعد ان کے فرزند علیؑ جو نقی و ہادی کے نام سے مشہور ہوں گے، ان کے بعد ان کے فرزند حسن عسکریؑ کے نام سے یاد کیے جائیں گے، ان کے بعد ان کے فرزند محمدؐ جو مہدی قائم اور حجت کے نام سے یاد کیے جائیں گے۔۔۔”(ینابع المودۃ، ۳ / باب ۷۶ / ۱۰۰۔۱۰۱)

روایت۔ 5:
جناب جابر بن عبد اللہ انصاری ؓسے روایت ہے کہ جب خداوند عالم نے حضرت رسول خداﷺ پر یہ آیت نازل کی: یا أَیُّها الَّذِینَ آمَنُوا أَطیعُوا اللّهَ وَأَطیعُوا الرَّسُول وَأُولی الأمرِ مِنْکُمْ "اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولو الامر کی۔”(سورہ نساء، آیت ۵۸) تو میں نے رسول خداﷺ کی خدمت میں عرض کیا: اے خدا کے رسولﷺ! خدا اور اس کے رسول کی معرفت تو نصیب ہوئی۔ یہ اولی الامر کون افراد ہیں، خدا نے جن کی اطاعت کا تذکرہ آپؐ کی اطاعت کے ساتھ کیا ہے؟ آنحضرتؐ نے فرمایا: "اے جابر! بے شک! وہ میرے جانشین ہیں۔ میرے بعد وہ مسلمانوں کے رہنما ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے علی ابن ابی طالبؑ ہیں، پھر حسن ؑ پھر حسینؑ پھر علی بن الحسینؑ پھر محمد بن علیؑ جو تو رات میں باقر کے نام سے مذکور ہیں۔ اے جابر! تم ان کا زمانہ دیکھو گے، جب تم ان سے ملاقات کرنا تو انھیں میرا سلام کہنا۔ پھر صادق جعفر بن محمدؑ پھر موسیٰ بن جعفرؑ پھر علی بن موسیٰؑ پھر محمد بن علیؑ پھر علی بن محمدؑ پھر حسن بن علیؑ پھر آخر میں میرا ہم نام اور میرا ہم کنیت خدا کی زمین پر حجت ِخدا اور اس کے بندوں میں آخری حجت، حسن بن علیؑ کا فرزند ہوگا۔ یہی وہ ہے جو اپنے شیعوں اور دوستوں سے غیبت اختیار کرے گا۔ اس کی امامت پر وہی ثابت قدم رہے گا، جس کے دل کا امتحان خداوند عالم نے ایمان سے لیا ہوگا۔”(روضۃ الاحباب (سید جمال الدین عطاء اللہ شیرازی) جلد ۳)

روایت۔ 6:
جابر الجعفی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اے فرزند رسولؐ! کچھ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ خداوند عالم نے امام حسن علیہ السلام کی نسل میں امامت قرار دی ہے۔ امام باقرؑ نے فرمایا: "اے جابر! امام تو بس وہ ہیں جن کی امامت پر رسول اکرمﷺ نے مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے اور وہ تعداد میں بارہ ہیں۔ حضرت رسول اکرمﷺ نے فرمایا: جب میں معراج کی شب آسمان پر گیا تو میں نے ستون عرش پر ان کے نام نور سے لکھے ہوئے دیکھے۔ ان میں سے پہلے علیؑ ہیں اور پھر ان کے دونوں فرزند حسنؑ و حسینؑ پھر علی، محمد، جعفر، موسیٰ، علی، محمد، علی، حسن اور محمد القائم الحجۃ المہدی (علیہم السلام)۔” (الفتوحات المکیۃ (محمد محی الدین عربی): ص ۳۲۶، مصری ایڈیشن (قدیم)
روایت۔ 7:
عبد اللہ بن ابی اوفیٰ (وقاص) نے حضرت رسول اکرمﷺ سے روایت کی ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی آنکھیں کھول دیں، انھوں نے عرش کی جانب ایک نور دیکھا تو عرض کیا: "پروردگار! یہ نور کیسا ہے؟ اے ابراہیم! یہ میرے منتخب بندے محمدؐ کا نور ہے۔ پروردگار! اس کے پہلو میں ایک اور نور دیکھ رہا ہوں۔ اے ابراہیم! یہ میرے نبیؐ کے ناصر علیؑ کا نور ہے۔ پروردگار! ان دونوں کے ساتھ ایک تیسرا نور بھی دیکھ رہا ہوں۔ ابراہیم! یہ فاطمہؑ کا نور ہے، جو اپنے والد و شوہر کے ساتھ ہے۔ ان کی بنا پر ان کے دوستوں کو جہنم سے دور کر دیا ہے۔ پروردگار! ان تینوں کے ساتھ دو نور اور بھی نظر آتے ہیں۔ ابراہیم! یہ حسنؑ و حسینؑ کے نور ہیں، جو اپنے والد اور اپنی والدہ اور اپنے نانا کے ساتھ ہیں۔ پروردگار! نو (۹) انوار اور بھی ہیں، جنھوں نے ان پانچوں انوار کو گھیرا ہوا ہے۔ اے ابراہیم! یہ ان کی نسل سے آئمہ ہیں۔ پروردگار! یہ حضرات کس نام سے پہچانے جاتے ہیں۔؟ اے ابراہیم! ان میں پہلے علی ؑ بن الحسینؑ اور محمدؑ بن علیؑ اور جعفرؑ بن محمدؑ اور موسیٰؑ بن جعفرؑ اور علی ؑ بن موسیٰؑ اور محمدؑ بن علیؑ اور علیؑ بن محمدؑ اور الحسن العسکریؑ اور مہدی محمدؑ بن الحسنؑ صاحب الزمان ؑ ہیں۔۔۔”(الاربعون (محمد بن ابی الفوارس):۳۸)

روایت۔ 8:
حسن بن خالد سے روایت ہے کہ علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے فرمایا: "میرا چوتھا فرزند خواتین کی سردار کا بیٹا ہوگا۔ خدا اس کے ذریعہ زمین کو ظلم و جور سے پاک و پاکیزہ کر دے گا۔ انہی کی ولادت میں لوگ شک کریں گے۔ یہی اپنے ظہور سے پہلے غیبت اختیار کریں گے اور جب ظاہر ہوں گے تو زمین ان کے نور سے منور ہو جائے گی۔ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے۔ اس وقت کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔”(فرائد السمطین ۲ / ۳۳۷، ح ۵۹۰)
روایت۔ 9:
صدقہ بن موسیٰ کی روایت ہے کہ میرے والد نے امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے: "مہدی خلف صالح ابو محمد حسن ؑ ابن علیؑ کے فرزند ہیں۔ وہی مہدی اور وہی صاحب الزمان ہیں۔”(تاریخ موالید الائمۃ و فیاتھم (ابن خشاب): / ۲۰۔ الفصول المھمہ، باب ۱۲ / ۲۷۱۔۲۹۲ مطبوعہ نجف۔ وسیلہ النجاۃ (مولوی محمد امین) ۴۲۰ )

اہل سنت کے بہت سے مشہور علماء نے بھی اپنی کتب میں آپ کی ولادت باسعادت سے متعلق تفصیلات تحریر فرمائی ہیں، بعض حضرات تو آپ کی امامت و مہدویت کے معتقد تھے، بعض حضرات نے اظہار عقیدت اور مدح سرائی کے لئے عربی یا فارسی میں اشعار کہے، یہاں تک کہ بعض حضرات تو آپ کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہونے اور بہ نفس نفیس آپ سے حدیث سننے کے مدعی ہیں، ذیل میں ان میں سے بعض کے اسمائے گرامی اور ان کے سال وفات کے ہمراہ قارئین کے لیے ذکر کر رہے ہیں، اگرچہ گذشتہ صفحات پر ان میں سے کچھ کے اقوال نقل کیے گئے ہیں:
۱) نضر بن علی جہضمی عالم و محدث معروف(متوفی۲۵۰ھ)
۲) حافظ بلاذری ابو محمد احمد بن ابراہیم طوسی، (متوفی۳۳۹ھ)
۳) حافظ ابوالفتح محمد بن ابی الفوارس، صاحب کتاب الاربعین(متوفی ۴۱۲ھ)
۴) ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (متوفی ۴۵۸ھ)
۵) احمد ابن ابوالحسن جامی نامقی ترشیزی(متوفی ۵۳۶ھ)
۶) ابن الخشاب ابو محمد عبداللہ بن احمد (متوفی ۵۶۷ھ)
۷) در الائمہ ابوالمؤید موفّق بن احمد بن محمد بکری مکی خوارزمی(وفات ۵۶۸ ھ)
۸) احمد بن يوسف بن ازرق فارقی: تاریخ میافارقین(متوفی ۵۷۲ھ)
۹) شیخ فریدالدین ابوحامد محمد عطار نیشابوری(متوفی ۶۱۸ھ)
۱۰) الناصر لدین اللہ خلیفہٴ عباسی(متوفی ۶۲۲ھ)

۱۱) شہاب الدین ابو عبدالله یاقوت بن عبدالله الحموی(معروف یاقوت حموی): معجم البلدان، ج۶ ص۱۷۵(متوفی ۶۲۶ھ)
۱۲) عزالدین بن اثیر:موٴلف تاریخ کامل(متوفی ۶۳۰ھ)
۱۳) شیخ و عارف شہیر محی الدین: صاحب کتاب الفتوحات (متوفی ۶۳۸ھ)
۱۴) شمس الدین تبریزی(متوفی ۶۴۵ھ)
۱۵) شیخ سعد الدین حموی(متوفی ۶۵۰ھ)
۱۶) کمال الدین محمدبن طلحہ شافعی (متوفی ۶۵۲ھ)
۱۷) شیخ جلال الدین رومی: صاحب مثنوی(متوفی ۶۵۲ھ)
۱۸) شمس الدین ابو المظفر یوسف: موٴلف التاریخ الکبیر وتذکرۃ الخواص، (متوفی ۶۵۴ھ)
۱۹) شیخ حافظ ابو عبداللہ محمد بن یوسف گنجی: صاحب کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان و دیگر کتب(متوفی ۶۵۸ھ)
۲۰) صدرالدین محمد بن مجدالدین اسحق قونوی :صاحب تفسیر الفاتحہ ومفتاح الغیب(متوفی ۶۷۳ھ)
۲۱) ابن خلکان :کتاب وفیات الاعیان (متوفی ۶۸۱ھ)
۲۲) غیاث الدین محمد، پسر خواجہ رشیدالدین فضل الله :مولف تاریخ گزیدہ۔ ص۲۰۷۔۲۰۸، طبع لندن، ۱۹۱۰ء(متوفی ۷۱۸ھ)
۲۳) شیخ الاسلام ابراہیم بن سعد الدین الجوینی(متوفی ۷۲۲ ھ)
۲۴) شیخ عامر بن عامر البصری: صاحب قصیدہ تائیہ ”ذات الانوار“(متوفی ۷۳۱ھ)
۲۵) الامام الحافظ عماد الدین أبو الفداء إسماعيل بن كثير القرشی الدمشقی(متوفی ۷۳۲ھ)

۲۶) شیخ ابوالمکارم رکن،الدین علاءالدولۃ احمد بن محمد بن احمد بیابانکی سمنانی(علاءالدولۃ سمنانی) (۷۳۶ ھ)
۲۷) شیخ شمس الدین محمد بن یوسف زرندی: موٴلف معراج الوصول(متوفی ۷۴۷ھ)
۲۸) ابن وَرْدی، ابوحفص، زین الدین، عمر بن مظفر بن ابی الفوارس(متوفی ۷۴۹ھ)
۲۹) شیخ صلاح الدین صفدی (متوفی ۷۶۴ھ)
۳۰) عبد الله بن أسعد اليافعی: موٴلف تاریخ مراٴۃ الجنان(متوفی ۷۶۸ھ)
۳۱) میر سید علی بن شہاب ہمدانی: موٴلف ”المودۃ فی القربیٰ“(متوفی۷۸۶ھ)
۳۲) خواجہ پارسا محمد بن محمد بن محمود بخاری، (متوفی۸۲۲ھ)
۳۳) سید عمادالدین نسیمی شیرازی بغدادی الحروفی (متوفی ۸۳۷، اخ)
۳۴) حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار(متوفی ۸۴۰ھ)
۳۵) قاضی شہاب الدین دولت آبادی: صاحب تفسیر البحر المواج و کتاب ہدایۃ السعداء(متوفی ۸۴۹ھ)
۳۶) ابن الصباغ علی بن محمد مالکی مکی (متوفی ۸۵۵ھ)
۳۷) شیخ عبدالرحمن بسطامی: کتاب درۃ المعارف(متوفی ۸۵۸ھ)
۳۸) ابوالولید محمد بن شحنہ حنفی: تاریخ روضۃ المناظر(متوفی ۸۸۲ھ)
۳۹) شیخ محمد سراج الدین رفاعی: موٴلف صحاح الاخبار(متوفی ۸۸۵ھ)
۴۰) نور الدین عبدالرحمن جامی معروف: صاحب کتاب شواہد النبوہ(متوفی ۸۹۸ھ)

۴۱) میر خواند محمد بن خاوند شاہ: موٴلف تاریخ روضۃ الصفا (متوفی ۹۰۳ھ)
۴۲) مولی حسین بن علی کاشفی، موٴلف جواہر التفسیر، (متوفی ۹۰۴ھ)
۴۳) حسین بن معین الدین میبدی، صاحب شرح دیوان (متوفی ۹۱۰ھ ،اخ)
۴۴) علامہ جلال الدین سیوطی(متوفی ۹۱۱ھ)
۴۵) قاضی فضل بن روزبھان: شارح کتاب الشمائل ترمذی(متوفی ۹۲۷ھ)
۴۶) عطاءالدین بن فضل الله جمال الدین حسینی:موٴلف روضۃ الاحباب (متوفی ۹۲۷ھ)
۴۷) عارف باللہ حضرت شیخ علی الخواص البراسی(متوفی ۹۴۹ھ )
۴۸) شمس الدین محمد بن طولون مورخ شہیر: کتاب الشذرات الذہبیہ (متوفی ۹۵۳ء)
۴۹) شیخ عبدالوہاب شعرانی: موٴلف الیواقیت والجواہر (متوفی ۹۷۳ھ)
۵۰) شیخ حسن عراقی(متوفی ۹۷۳ھ)
۵۱) ابن حجر ہیثمی مکی شافعی (متوفیٰ سال ۹۷۴ھ)
۵۲) شیخ امام علی بن سلطان محمد ہروی معروف بہ ملا علی قاری حنفی: کتاب المرقاۃفی شرح المشکاۃ(متوفی ۱۰۱۴ھ)
۵۳) احمد بن یوسف بن احمد دمشقی قرمانی: مولف اخبار الدول و اخبار الاول فی التاریخ (متوفی ۱۰۱۹ھ)
۵۴) امام ربانی شیخ احمد الفاروقی السرہندی( المعروف مجدد الف ثانی )(متوفی ۱۰۳۴ھ)
۵۵) شیخ ابو المجد عبد الحق محدث دہلوی :ستر کتابوں کے موٴلف(متوفی ۱۰۵۲ھ)

۵۶) عبدالحی بن عمار حنبلی: موٴلف شذرات الذھب (متوفی ۱۰۸۹ھ)
۵۷) شیخ عبدالرحمن صاحب کتاب مراٴۃالاسرار(متوفی ۱۰۹۵ھ)
۵۸) عبدالملک بن حسین عصامی مکی شافعی(متوفی ۱۱۱۱ھ)
۵۹) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی ۱۱۷۱ھ)
۶۰) جمال الدین ابومحمد عبدالله بن محمد بن عامر شبراوی:سابق رئیس جامعہ ازہر و موٴلف کتاب الاتحاف بحب الاشراف(متوفی ۱۱۷۲ھ)
۶۱) قاضی بہلول بہجت آفندی: موٴلف کتاب محاکمہ در تاریخ آل محمد ﷺ(متوفی ۱۱۷۴ھ)
۶۲) شیخ محمد ابراہیم جوینی (متوفی ۱۱۷۴ھ)
۶۳) محمود بن وہیب القراغولی بغدادی حنفی(متوفی ۱۲۰۵ھ ، اخ)
۶۴) محمد بن علی الصبان المصری (متوفی ۱۲۰۵ھ)
۶۵) أبی الفوز محمد أمین البغدادی الشہير بالسویدی: سبائک الذہب(متوفی ۱۲۴۶ھ)
۶۶) مولانا رشید الدین خان دہلوی(متوفی ۱۲۴۹ھ)
۶۷) شیخ سلیمان قندوزی بلخی(متوفی ۱۲۹۴ ھ)
۶۸) مومن بن حسن شبلنجی شافعی:کتاب نورالابصارفی مناقب آل بیت النبی المختارﷺ(متوفی ۱۳۰۸ھ)
۶۹) عالم محقق شیخ مولانا رحمت اللہ کیرانوی ہندی، موٴلف اظہار الحق(متوفی ۱۳۰۹ھ)
۷۰) محمد فرید وجدی : دائرۃ المعارف(متوفی ۱۳۷۳ھ)
۷۱) خیر الدین زرکلی در کتاب الاعلام، ج۶ص۳۱۰(متوفی ۱۳۹۶ھ)
(نوید امن و امان، صافی گلپایگانی، کتاب میں اگرچہ سال وفات وغیرہ نہیں لکھے گئے۔)

غرض مہدویت ایک عالمگیر نظریہ ہے، بالخصوص تمام اسلامی مکاتب فکر میں یہ اعتقاد پایا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی نسل سے ایک باعظمت ہستی نے آکر ظلم و جور کو عدل و انصاف میں بدل کر فطرت انسانی کے عین مطابق ایک خدائی نظام نافذ کرے گا۔ امام مہدی علیہ السلام اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہیں اور قریب قیامت ان کا ظہور ہوگا، وہ اسلام کا جھنڈا ساری دنیا پر لہرائیں گے اور عدل و انصاف کی حکومت قائم فرمائیں گے۔ علماء قدیم و جدید میں سے تمام بڑے علماء نے اسے اپنے اعتقاد کا حصہ قرار دیا ہے، آج کے دور میں اگر کوئی امام مہدی علیہ السلام کا انکار کرے تو گویا اس کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں، ایسا شخص امام مہدیؑ کے منکر ہونے کے ساتھ ساتھ تمام علماء و اسلاف کو جھٹلانے والا ہوگا۔ درحقیقت وہ خلیفۃ اللہ کا انکار کر رہا ہے، جیسے کہ ثوبان نے نبی کریمﷺ سے روایت نقل کی ہے: ۔۔۔مہدی علیہ السلام خدا کے خلیفہ ہیں۔(السنن (ابن ماجہ): باب ۳۴ (باب خروج المہدی) ح ۴۰۸۴)، السنن علی الصحیحین: ۴/۴۶۳) اور جو خلیفہ خدا کا منکر ہوا ہو وہ تو خود خدا کا انکار کر رہا ہے۔ اس کا اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ رب الکریم سے التجا ہے کہ ہمیں امام مہدی علیہ السلام کی صحیح معنی میں معرفت عطا کرے اور اس الٰہی حکومت کے اس کامیاب جماعت (گروہ) میں شامل کرے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرما رہا ہے: اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللہِ اَلَا اِنَّ حِزۡبَ اللہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ "یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں، آگاہ رہو! اللہ کی جماعت والے ہی یقیناً کامیاب ہونے والے ہیں۔”(سورہ مجادلہ، ۲۲)

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …