جمعرات , 24 ستمبر 2020

اسرائیل اور بھارت کا غبارہ فوبیا

منصور جعفر

ہیلیم ایک بے رنگ، بے ذائقہ اور بے بو خواص کی حامل گیس ہے۔ ہوا سے ہلکی اس گیس کی تھوڑی سی مقدار سونگھ لینے سے انسان کی آواز پتلی ہو جاتی ہے، لیکن حالیہ چند ہفتوں میں ’ہیلیم گیس‘ نے اپنے طبیعی خواص کے برعکس ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا کہ جس نے دو سو ایٹم بم اور دنیا کے جدید اسلحے سے لیس طاقتور اسرائیلی فوج کو ناکوں چنے چبوا کر پہلے گلہ پھاڑ کر چلانے اور پھر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔

فلسطینیوں کی جانب سے غزہ کی پٹی کی سرحد سے متصل یہودی بستیوں کی سمت چھوڑے جانے والے ہیلیم گیس سے بھرے آتش افروز غباروں نے دنیا بھر سے لا کر وہاں بسائے جانے والے یہودی آبادکاروں کی چیخیں نکلوا دیں۔ یہ غبارے اسرائیلی شہریوں کے ملکیتی کھیتوں میں گرنے سے کھڑی فصلیں جل کر خاکستر ہو جاتی ہیں۔

اسرائیل نے ان غباروں کو ’ہدف‘ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے میزائل شکن امریکی پیٹریاٹ اور لڑاکا طیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔ اندھیروں میں ڈوبی دنیا کی ’سب سے بڑی جیل‘ [غزہ] کے کچھ حصے اسرائیلی بموں سے نکلنے والے شعلوں سے کئی راتوں تک ’منور‘ رہے، تاہم ریاستی دہشت گردی کے یہ تمام مظاہر نہتے فلسطینیوں کے عزم وثبات کو شکست نہ دے سکے۔

یادش بخیر! دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اپنے زیر تسلط جموں وکشمیر کے علاقے میں ہم پیالا اور ہم نوالہ قابض اسرائیلی حکام کی آزمودہ جنگی اور سیاسی چالوں سے آزادی پسند کشمیروں کو مسلسل غلام رکھنے کی ناکام کوشش کرنے والا بھارت بھی ایک وقت’غبارہ فوبیا‘ کا شکار رہا ہے۔

بھارتی حکومت کی طرح گذشتہ برس اگست میں بوکھلاہٹ کے شکار انڈین میڈیا نے پاکستانی پرچم سے مزین ایک غبارے کو ’جاسوس‘ قرار دے دیا۔ بھارتی پنجاب کے شہر فرید کوٹ میں واقع گاؤں شمرے والا میں بھارتی کسان کو اپنے کھیتوں میں سبز اور سفید رنگوں والا غبارہ نظر آیا جس کے بعد گاؤں میں سنسنی پھیل گئی۔ سکیورٹی حکام کی دوڑیں لگ گئیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سچے عزم وحوصلے کو دنیا کی بڑی سے بڑی جمہوریت اور انتہائی طاقتور فوج بھی شکست نہیں دے سکتی۔ اس کا عملی اظہار اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والے ’معاہدے‘ کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔

بدیہی طور پر اسرائیل سے تعلقات نارملائزیشن کے مخالف ایک خلیجی ملک [قطر] کی وساطت سے حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی مفاہمت سے اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری کا سلسلہ رک جائے گا، جس کے بدلے میں فلسطینی مظاہرین، اسرائیل کی جانب آتش افروز ہیلیم گیس غبارے چھوڑنا بند کر دیں گے۔

· معاہدے کے مطابق اسرائیل، غزہ میں کئی معاشی منصوبے شروع کرنے کی اجازت دے گا، جس سے محاصرہ زدہ پٹی کی اقتصادی مشکلات میں کمی واقع ہو گی۔

· اسرائیل، معاہدے کے تحت، غزہ میں تیل کی سپلائی بحال کرے گا جس سے علاقے کا اکلوتا بجلی گھر چالو رکھنے میں مدد ملے گی۔ غزہ کی سمندری حدود میں فشنگ زون بحال کردیا جائے گا۔

· محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں کووڈ ۔ 19 وبا کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی طبی آلات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

صہیونی دشمن اورغربت میں گھرے غزہ کا شمار دنیا کے کثیف آبادی والے علاقوں میں ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے علاقے کی صورت حال دیکھ کر خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں کووڈ – 19 کے پروٹوکول پر عمل درآمد تقریباً ناممکن ہے، تاہم فلسطینیوں نے روایتی عزم وحوصلے سے اس عالمی وبا کا مقابلہ کیا۔ غزہ کی پٹی کی پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر یہاں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا مقابلہ دنیا کے کسی دوسرے خطے سے کرنا مناسب نہیں۔

حماس کے زیر نگین دو ملین کی آبادی پر مشتمل غزہ کی پٹی میں ’سیلف آئسولیشن‘ پروٹوکول نافذ نہیں ہو سکتے۔ ڈیڑھ ملین آبادی غزہ کے مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر ہے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ کے اعداد وشمار کے مطابق غزہ میں 30,000 افراد فی مربع کلومیٹر جبکہ مہاجر کیمپوں میں یہی تعداد 55,000 افراد فی مربع کلومیٹر کی مساحت میں زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔

غزہ کی پٹی میں مخیم شاطی [بیچ کیمپ] آٹھ مہاجر کیمپوں میں تیسرا پرانبوہ رہائشی مرکز ہے۔ ابتدا میں وہاں [مخیم شاطی] 23,000 مہاجرین مقیم تھے مگر نصف مربع کلومیٹر کے علاقے میں اب 85,600 افراد زندگی گزار رہے ہیں۔ بیچ کیمپ کی مساحت تو نہ بڑھ سکی، تاہم اس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ایسی آبادیوں میں کوئی بھی حکومت سیلف آئسولیشن یا کرفیو کیسے لگا سکتی ہے!؟

محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی کی اکثریت دیہاڑی دار مزدوروں پر مشتمل ہے۔ ایسے میں کرونا وائرس سے بچاؤ کا ’گھر پر رہنے‘ والے آپشن پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ مصیبت اکیلے نہیں آتی۔ یہ مقولہ غزہ کی صورت حال پر صد فیصد لاگو ہوتا ہے۔ جہاں معاشی بدحالی کا راج ہے۔ سونے پر سہاگہ نظام زندگی کو معطل کرنے کے لیے روزانہ 12 گھنٹے برقی رو بند رہتی ہے۔ غزہ میں 96 فیصد میسر پانی انسانی استعمال کے لیے مضر قرار دے دیا گیا ہے۔

سرد وگرم موسمی انتہاؤں، اسرائیلی بمباری اور فوجی دراندازی کے ہمہ وقت خطرات میں کرونا بحران کا مقابلہ غزہ کے ’گھروں میں رہ‘ کر نہیں کیا جا سکتا۔ ٹوٹا پھوٹا نظام صحت روزمرہ کی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے، لہذا غزہ کی پٹی میں کرونا وائرس کے علاج کی ’لگژری‘ مفلوک الحال فلسطینیوں کے لیے شجر ممنوعہ بن چکی ہے۔

ان حالات میں بھی اہالیاں غزہ پرامید ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔ دنیا جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر کرونا جیسی جان لیوا عالمی وبا کا مقابلہ کر رہی ہے ایسے میں غزہ کی پٹی یک وتنہا معجزے کا انتظار کر رہی ہے۔

ادھر اسرائیل نے دو ہفتوں سے غزہ پر آسمان سے آتش وآہن کی برسات کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اگر کوئی وقعت ہے، تو عالمی ادارے کو غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو بچانے کے لیے آج حرکت میں آنا چاہیے۔ اچھے وقتوں میں اگر یہ ایک بنیادی انسانی حق تھا تو ہلاکت خیز عالمی وبا کے دنوں میں ان پر عمل درآمد انتہائی ناگزیر ہو گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نئے کراچی کا خواب

غریدہ فاروقی جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم عمران خان …